قرآن
ﰇ
ﱖ
ﰈ
٣ ٣ ﭧ ﭨ ﭩ ٤ ٤ ﭫ ﭬ ﭭ ٥ ٥ ﭯ
ﭰ ﭱ ٦ ٦ ﭳ ﭴ ﭵ ٧ ٧ ﭷ ﭸ
ﭹ ٨ ٨ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ٩ ٩ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
١٠ ١٠ ﮅ ﮆ ﮇ ١١ ١١ ﮉ ﮊ ﮋ ١٢ ١٢ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ١٣ ١٣ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ١٤ ١٤ ﮝ ﮞ ﮟ ١٥ ١٥
ﰉ
ﮮ ﮯ ﮰ ٤ ٤ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٥ ٥ ﯘ ﯙ ٦ ٦
ﯛ ﯜ ٧ ٧ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٨ ٨ ﯣ ﯤ ٩ ٩
وَنَفۡسٖ وَمَا سَوَّىٰهَا ٧
انسانی نفس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایسی بڑی نشانی ہے جو اس کی مستحق ہے کہ اللہ اس کی قسم کھائے۔یقینا وہ بہت باریک،ہلکی،تیزی سے نقل وحرکت کرنے والا،جلدی بدل جانے اور متاثر ہونے والا ہے،انسانی جذبات واحساسات جیسے فکر،ارادہ،مقصد،محبت اور نفرت کی آماجگاہ یہی ہے۔اگر نفس نہ ہوتا تو جسم صرف ایک بے فائدہ مورت کی مانند ہوتا اور اسے اس طور پردرست وہموار کردینا اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ (السعدی؍۹۲۶)
سوال:اللہ تعالیٰ اپنی عظیم مخلوقات کی قسم کھاتا ہے۔ تو نفس میں کون سی عظمت ہے کہ اللہ نے اس کی قسم کھائی ہے؟
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا ٨
محمدبن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ عزوجل جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتاہے تو اس کے دل میں خیر کا خیال ڈال دیتا ہے او روہ اسے کرلیتا ہے۔ اس کے برعکس کسی بندے کے ساتھ برائی کاارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں شر کا خیال ڈال دیتا ہے اور وہ اسے کربیٹھتاہے۔ (القرطبی: ۲۲؍۳۱۲)
سوال:کیسے جانیں گے کہ اللہ نے کسی بندے کے ساتھ خیر کا یا شر کا ارادہ کیا ہے؟
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا ٩ وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا ١٠
جو شخص علماً اور عملاً ہر اعتبار سے اپنے نفس کو تقویٰ پر پروان چڑھائے اور بلندی تک لے جائے تو یقیناً وہ ہر مقصد میں کامیاب ہوگا اور ہر نقصان سے محفوظ رہے گا۔اس کے برخلاف جو جہالت اور گناہ کے ساتھ اپنے نفس کو گرائے اور ذلیل کرے تو وہ نقصان اٹھائیگا۔(الالوسی: ۱۵؍۳۶۱)
سوال:انسانی نفس کی کامیابی کا کیا ذریعہ ہے؟
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا
قوم کے سب سے بدبخت شخص نے اس اونٹنی کو قتل کیا۔اور یہاں سب کو قاتل اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ وہ اس عمل سے راضی تھے۔ (القرطبی: ۲۲؍۴۱۲)
سوال:قوم کے تمام لوگوں کو قاتل کیوں کہا گیا جبکہ قتل ایک ہی فرد نے کیا تھا؟
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلۡأُنثَىٰٓ ٣
اللہ نے جانداروں میں نر اور مادہ دو جنس پیدا کرنے کی قسم کھائی ہے۔ اس میں اللہ کی کمال ِحکمت یوں ہے کہ وہ جن حیوانات کو باقی رکھنا چاہتا ہے ان میں نر اور مادہ دونوں جنس پیداکردی تاکہ ان حیوانات کی نسل آگے بڑھ سکے اور وہ باقی رہیں۔اللہ نے ان حیوانات میں توالد وتناسل باقی رکھنے کے لئے دونوں جنسوں میں ایک دوسرے کی طرف شہوانی جھکاؤ رکھ دیا اور دونوں کو ایک دوسرے کے مناسب بنادیا۔ (السعدی؍۹۲۷)
سوال:جانداروں کو دوجنسوں میں پیدا کرنے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کیا حکمت ہے؟
فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ ٥ وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ ٦ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ ٧
اللہ تعالیٰ اس کے لئے آسان راستہ ہموار کرتا ہے یعنی اسے نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دیتا ہے۔اس کی ضد مشکل راستہ کو ہموار کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان اسی معنیٰ میں ہے: “اعملوا فكل میسر لِما خلق لہ”۔ عمل کرتے رہوکیونکہ ہر ایک جس کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس تک پہنچانے والے اعمال اس کے لئے آسان کئے جاتے ہیں۔یعنی جو اس کے مقدر میں ہے وہ اس کے لئے ہموار کردیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسی اعتبار سے اسے نیکیوں کی توفیق دیتایا شر کی طرف دھکیلتا ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۵۸۹)
سوال:اس آیت کی روشنی میں نبیﷺ کے اس فرمان کی وضاحت کیجئے: “اعملوا فكل میسر لِما خلق لہ”؟
فَأَمَّا مَنۡ أَعۡطَىٰ وَٱتَّقَىٰ ٥ وَصَدَّقَ بِٱلۡحُسۡنَىٰ ٦ فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلۡيُسۡرَىٰ ٧
بعض سلف نے کہاہے: نیکی کا بدلہ اس طرح بھی ملتا ہے کہ اس کے بعد او ر نیکی کرنے کی توفیق ملتی ہے اور برائی کا بدلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی اس کے بعد مزید برائی کرتا ہے۔(ابن کثیر: ۴؍۵۲۰)
سوال:مذکورہ آیات کی روشنی میں سلف کے قول کی وضاحت کیجئے.