قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١٩ ١٩
٢٠ ٢٠
٢١ ٢١
٢٢ ٢٢

٢٣ ٢٣
٢٤ ٢٤
ﭿ ٢٥ ٢٥
٢٦ ٢٦
٢٧ ٢٧
٢٨ ٢٨
٢٩ ٢٩

٣٠ ٣٠

٣١ ٣١

٣٢ ٣٢
٣٣ ٣٣
٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥
٣٦ ٣٦

٣٧ ٣٧
ﯿ
٣٨ ٣٨
٣٩ ٣٩
497
سورۃ الدخان آیات 21 - 22

وَإِن لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ لِي فَٱعۡتَزِلُونِ ٢١ فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ مُّجۡرِمُونَ ٢٢

(وإن لم تؤمنوا لي فاعتزلون) یعنی: میرے پیچھے مت پڑو، اور اس معاملے کو ہمارے درمیان اسی طرح امن وامان کے ساتھ پڑے رہنے دو یہاں تک کہ اللہ تعالىٰ ہمارے درمیان فیصلہ کردے۔ چنانچہ جب وہ ایک لمبی مدت تک ان کے درمیان رہے، اور ان پر اللہ تعالىٰ کی حجتیں قائم کردیں، مگر جب اس نے محض ان کے کفر و سرکشی میں اضافہ کیا، تو انھوں نے ان پر اللہ تعالىٰ سے ایسی بد دعا کی جس نے انہیں آلیا۔ (ابن کثیر: 4؍143)
سوال:کس چیز نے موسىٰ علیہ السلام کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کے حق میں دعا سے بد دعا کی طرف پلٹ گئے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 29

فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ

یعنی: نہ تو ان کے ایسے نیک اعمال تھے جو آسمان میں جاتے رہے ہوں، تو آسمان اب ان کے انقطاع پر آنسو بہائے، اور نہ زمین میں کسی جگہ انہوں نے عبادت کی تھی کہ زمین ان کی عدم موجودگی محسوس کرے، لہٰذا وہ اس بات کے مستحق قرار پائے کہ ان کے کفر وعناد اور جرم وسرکشی کیوجہ سے نہ ان کی طرف دیکھا جائے، اور نہ ہی ان کا معاملہ مؤخر کیا جائے۔ (ابن کثیر: 4؍144)
سوال:آسمان وزمین بندوں پر کس وجہ سے روتے ہیں؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 29

فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ ٢٩

یہ ان کی ہلاکت و بربادی کی کوئی پرواہ نہ کرنے کا بیان ہے۔ مفسرین نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو وہ زمین پر کوئی ایسا نیک عمل کرتے تھے جس کی وجہ سے ان پر رویا جائے، اور نہ ہی آسمان میں ان کا کوئی ایسا اچھا عمل جاتا تھا جس کی وجہ سے ان پر رویا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکت سے زمین وآسمان میں کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی نہ کسی کو کوئی غم پہنچا۔ (الشوکانی: 4؍575)
سوال:اس آیت کی روشنی میں کافروں کی ذلت و رسوائی کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ الدخان آیات 32 - 33

وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٢ وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ ٣٣

چونکہ قریش دنیا کے ظاہری سازو سامان اور مادی نعمتوں کی بنا پر فخر کرتے تھے، اور اسے اللہ تعالىٰ کی طرف سے تعظیم اور بڑی چیز سمجھتے، نیز دنیاوی امور میں کمزوری کو شقاوت اور اللہ تعالىٰ سے دور ى گردانتے تھے، اس لئے اللہ تعالىٰ نے ان پر رد کرتے ہوئے اس چیز کا ذکر کیا جو اس نے فرعون کو ہلاک وبرباد کرنے اور اس کا مکمل صفایا کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو باوجود ضعف وکمزورى اور بد حالی کےعطا کیا ۔ (البقاعی: 7؍76)
سوال: کیا دنیا میں مالدارى ، مالدار بندے سے اللہ کی محبت کی دلیل ہے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 37

أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ ٣٧

اللہ تعالىٰ نے جب قوم فرعون کی ہلاکت کا ذکر کردیا، تو کفار مکہ کے لئے ایک اور ایسی مثال کا ذکر کیا جس سے وہ فرعون کے مقابلے میں زیادہ عبرت پکڑ سکتے تھے، اور وہ ایسی قوم کی ہلاکت کے بارے میں تھا جو فرعون کے مقابلے ان سے زیادہ قریب تھی، اور وہ قومِ تبّع ہے۔ کیونکہ عرب برابر تبع کے بادشاہ اور اس کی قوم کے عظمت کے بارے میں سنتے رہتے تھے، اور بہت سارے عربوں نے اپنے مختلف اسفار میں ان کی قوت وعظمت کے آثار کو دیکھ رکھا تھا،اور سیل عرم کے سبب جو ہلاکت ان کے حصے میں آئی تھی اس کے بارے میں وہ آپس میں گفتگو کرتے رہتے تھے۔ (ابن عاشور: 25؍308)
سوال: قوم تبع کی مثال بیان کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 37

أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ ٣٧

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ: کیا قریش زیادہ مضبوط اور قوی ہیں یا تبع کی قوم اور وہ کفار ومشرکین جو ان سے پہلے تھے؟ اور ہم نے جس طرح قوم تبع اور دیگر قوموں کو کفر کے سبب ہلاک وبرباد کردیا اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیں گے۔ گویا یہاں مقصد دھمکی دینا ہے۔ (ابن جزی: 2؍324)
سوال: آیت کریمہ میں موجود دھمکی کی شرح کیجئے؟

سورۃ الدخان آیات 38 - 39

وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ ٣٨ مَا خَلَقۡنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٩

تو یہ اسی -یعنی: یہ نہ جاننے کیوجہ سے کہ اللہ تعالىٰ نے مخلوقات کو کیوں پیدا کیا ہے-بنا پر معصیت و نا فرمانی کی جرأت کرتے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، کیونکہ نہ تو یہ کسی ثواب کی امید رکھتے ہیں، اور نہ ہی کسی عذاب وعقاب سے ڈرتے ہیں۔ (البقاعی: 7؍79)
سوال: بندے کو کونسی چیز معاصى اور فساد پر جرى بناتی ہے؟ اور کونسی چیز اس کو استقامت اور نیکی پر ابھارتی ہے؟