قرآن
ﮢ
ﱉ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
٣١ ٣١ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٣٢ ٣٢
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
٣٣ ٣٣ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٣٤ ٣٤ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ٣٥ ٣٥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ٣٦ ٣٦ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٣٧ ٣٧ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ٣٨ ٣٨
حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِينَ بِهِۦۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ ٱلطَّيۡرُ أَوۡ تَهۡوِي بِهِ ٱلرِّيحُ فِي مَكَانٖ سَحِيقٖ ٣١
بعض نے کہا کہ مشرک کی حالت کو آسمان سے گرنے سے تشبیہ اس لئے دی گئی ہے کہ جب کوئی آسمان سے گرتا ہے تووہ اپنے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں کرسکتا چنانچہ ہوا اسے زمین پر گرا کر ہلاک کردیتی ہے،پھر اس کا گوشت یا تو پرندے کھاجاتے ہیں یا دور کسی جگہ جاکر گرتا ہےاور گل سڑ جاتا ہے،حسن بصری
رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: کفار کے اعمال کو ایسی حالت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ ان کو ہلاکت کی جگہ لے جاتا ہے پھر وہ اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ اپنے آپ کو اس آفت سے بچا سکیں۔ (البغوی: ۳؍۲۱۸)
سوال: دنیاوآخرت ہر دوجگہ مشرک کی حالت بیا ن کیجئے.
ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ ٣٢
ان کی تعظیم سے مراد ان کی عزت کرنا،ان کا ادب کرنااو ر وہاں جانا ہے۔بعض نے کہا:یہاں“شعائر” سے مراد مطلقاً دینی امور ہیں اور ان کی تعظیم کرنے سے مراد حقیقت میں ان کی عزت کرنا ہے۔ (ابن جزی:۲؍۵۶)
سوال:بندہ اللہ کے شعائر کی کس طرح عزت کر سکتا ہے؟
ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ ٣٢
دلوں کے تقویٰ سے مراد اللہ کا تقوی ہے۔اور یہ اس وقت ہوگا جب انتہائی خاکساری کے ساتھ صرف اور صرف اسی کی بندگی کی جائے۔ جس میں
غایت درجہ کی محبت اور انتہا درجہ کا انکسار واخلاص موجود ہو۔ اور یہی ابراہیم خلیل علیہ السلام کی ملت ہے۔اور ان ساری چیزوں سے واضح ہوتا ہے کہ دلوں کی عبادت ہی اصل ہے۔ (ابن تیمیہ:۴؍۴۲۷)
سوال:عبادت میں دلوں کی عبادت ہی اصل ہے۔اس بات پر آیت کریمہ کیسے دلالت کرتی ہے؟
فَلَهُۥٓ أَسۡلِمُواْۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُخۡبِتِينَ ٣٤ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَٱلصَّٰبِرِينَ عَلَىٰ مَآ أَصَابَهُمۡ وَٱلۡمُقِيمِي ٱلصَّلَوٰةِ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣٥
(المخبتين) کے بعد چار صفات ذکر کی گئیں،جو یہ ہیں:ذکر الٰہی کے وقت دلوں کا لرزنا،اللہ کے راستہ میں تکلیفوں کا جھیلنا،نماز قائم کرنا اور اللہ کی خاطر خرچ کرنا۔ (ابن عاشور: ۱۷؍۲۶۱)
سوال:اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کن چار صفات کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی؟
فَإِذَا وَجَبَتۡ جُنُوبُهَا فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡقَانِعَ وَٱلۡمُعۡتَرَّۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرۡنَٰهَا لَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٣٦
مفہوم یہ ہے کہ ہر اس شخص کو کھلاؤ جو سوال کرے اور جو سوال نہ کرے لیکن زبان حال سے لگے کہ چاہتا ہے۔ اور اسے بھی کھلاؤجو سوال کرنے سے کلی طور پر بچتا ہے اور اسے بھی کھلاؤ جو مانگنے کے درپے ہوتا ہے۔(ابن جزی: ۲؍۵۸)
سوال:اختصار کے ساتھ آیت کی روشنی میں یہ واضح کیجئے کہ اسلام کس قدر آپسی سماجی تعاون کا حریص ہے؟
كَذَٰلِكَ سَخَّرۡنَٰهَا لَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ٣٦
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اتنے بڑے بڑے جانوروں کو ہمارا مطیع وفرمانبردار بناکر اور ہمیں ان پر تصرف کی قدرت دے کر احسان فرمایا۔ حالانکہ وہ جسم اور اعضاء کے اعتبارسے ہم سے کہیں زیادہ طاقتور اور بڑے ہیں۔ایسا اس لئے ہے تاکہ بندے کو معلوم ہوجائے کہ یہ امور ایسے نہیں ہیں جیسے بندے کے لئے ظاہر ہوتے ہیں بلکہ ان امور کا مسئلہ ایسا ہے جیسا وہ غالب وقادر ارادہ فرماتا ہے چنانچہ چھوٹا بڑے پر غالب ہوجاتا ہے۔ تاکہ اللہ کی مخلوق جان لے کہ اللہ ہی ہر چیز پر غالب ہے جو اکیلا اپنے بندوں پر زبردست قوت والا ہے۔ (القرطبی: ۱۴؍۴۰۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے چوپایوں کو فرمانبردار بناکر اپنے بندوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے، اللہ کی اس قابل ِتوجہ نعمت کو واضح کیجئے.
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡۚ
اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندے اللہ کی خوشنودی گوشت وخون وغیرہ کے ذریعہ نہیں پاسکتے وہ تو صرف تقویٰ یعنی اخلاص سے مل سکتی ہے۔نیز قربانی کرتے وقت اللہ کی خوشنودی کا ارادہ کیا ہو۔اسی معنی کو بتلانے کے لئے تاکید اورمبالغہ کے طور پر(لَن) کا لفظ استعمال کیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرمانا چاہتا ہے کہ قربانی کے گوشت اور خون اس کے پاس نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسے تم سے یہی مطلوب ہے اور اسی پر آپ کو ثواب ملے گا۔ (ابن جزی: ۲؍۵۸)
سوال:فریضۂ حج قائم کرنے کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟