قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﭦﭛﭣﭤ

١ ١


٢ ٢

٣ ٣


٤ ٤







٥ ٥
332
سورۃ الحج آیات 0 - 1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ

اللہ تعالیٰ سارے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہہ رہا ہے کہ سب اپنے اس رب سے ڈریں جس نے انہیں ہر طرح کی ظاہری وباطنی نعمتوں میں پالا ہے۔یقیناً وہ اس لائق ہے کہ شرک،فسق وفجور اور ہر طرح کی برائی کو چھوڑکرسب اس سے ڈریں اور جہاں تک ہوسکے اس کے احکام کی فرمانبرداری کریں۔ (السعدی؍۵۳۲)
سوال:اللہ تعالیٰ کے دیگر اسماء وصفات کو چھوڑکر یہاں صرف صفت ِرب کا خصوصی طور پر ذکر کیوں کیا گیا؟

سورۃ الحج آیات 1 - 2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ إِنَّ زَلۡزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيمٞ ١ يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّآ أَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَٰرَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٞ ٢

قیامت کے دن کی ہولناکی بیان کرنے کافائدہ اس دن کے لئے تیار رہنے اور عمل صالح کے ذریعہ تیاری کرنے پر ابھارنا ہے۔ (القرطبی: ۱۴؍۳۱۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکی کا ذکر کیوں کیا ہے؟اس کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 2

يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّآ أَرۡضَعَتۡ

حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلّت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتاہو۔ (السعدی؍۵۳۳)
سوال:یہاں مرضعہ یعنی دودھ پلانے والی عورت کا ذکر بطور خاص کیوں کیا گیا؟

سورۃ الحج آیات 0 - 2

يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّآ أَرۡضَعَتۡ

یہاں (مُرْضِعَةٍ) کہا مرضع نہیں کہا،کیونکہ مُرضِعہ اس عورت کو کہیں گے جو بروقت اپنی چھاتی سے بچے کو دودھ پلارہی ہو۔جبکہ مرضع دودھ پلانے والی عورت کو کہتے ہیں گرچہ وہ بروقت دودھ نہ پلارہی ہو۔
چنانچہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مرضعہ کہا تاکہ وہ دن گھبراہٹ اور غفلت میں مزید سختی پر دلالت کرے کیونکہ اس حالت میں ایک ماں اپنے شیر خوار بچہ کے منہ سے اپنی چھاتی کو کھینچ لیتی ہے اور اسے احساس نہیں ہوتا۔(ابن جزی: ۲؍۴۸)
سوال:آیت میں“مُرضِع” نہ کہہ کر(مُرْضِعَةٍ) کہنے میں کون سا بلاغی نکتہ پایا جاتا ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 2

وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَٰرَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٞ ٢

سخت غم کی وجہ سے لوگوں کو مدہوشی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۴۹)
سوال:لوگوں کو مدہوشی سے کیوں تشبیہ دی گئی ہے جبکہ وہ ایسے نہ ہوں گے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 3

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطَٰنٖ مَّرِيدٖ ٣

فخر الدین رازی نے اپنی ‘تفسیر’میں فرمایا:اس آیت کے مفہوم سے یہ بات نکلتی ہے کہ سچا بحث ومباحثہ جائز ہے کیونکہ ثبوتوں کی معرفت کے بغیر بحث ومباحثہ کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر ثبوتوں کی جانکاری ہوتو بحث ومباحثہ جائز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے باطل مباحثہ ہی مرادہے جس میں ارشاد ہے: ﴿مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلَۢا﴾ ترجمہ: انہوں نے آپ سے یہ مثال صرف جھگڑنے کے لئے بیا ن کی ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۸) اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے سچا مباحثہ مراد ہے جس میں ارشاد ہے: ﴿وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ﴾ [النحل: 125]" ترجمہ: ان سے بہتر طریقہ سے مباحثہ کرو۔(شنقیطی: ۴؍۲۶۳)
سوال:بحث ومباحثہ کی دوصورتیں کون سی ہیں؟اور ان دونوں میں سے کون سی جائز ہے؟

سورۃ الحج آیات 0 - 3

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطَٰنٖ مَّرِيدٖ ٣

یہی حال ہر گمراہ کا ہوتا ہے جو گمراہ کرنے والوں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے اور اسے کسی تفصیل کی حاجت نہیں ہوتی۔اسی لئے اللہ نے واضح کردیا کہ ایسا شخص بغیر علم کے مباحثہ کرتا ہے اور وہ ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتا ہے۔وہ شیطان جس کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی اس کی پیروی کریگا وہ اسے گمراہ کرکے جہنم کے عذاب کا راستہ دکھائیگااور بالکل یہی حال اہل ِبدعت اور اہل ِکتاب(یہود ونصاریٰ)کے گمراہ کن ائمہ کے پیروکاروں کا ہے۔ چنانچہ وہ اللہ کے بارے میں بلا علم بحث کرتے ہیں اور انس وجن ہر ایک میں سے ایسے شیاطین كے پيرو ہیں جو انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ (ابن تیمیہ: ۴؍۴۰۱)
سوال:گمراہی کے سربراہوں کی پیروی کتنی سنگین ہے؟ واضح کیجئے.