قرآن
ﮑ
ﰾ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٧١ ٧١
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ٧٢ ٧٢ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٧٣ ٧٣
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٧٤ ٧٤
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٧٥ ٧٥ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٧٦ ٧٦ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ
ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٧٧ ٧٧
وَحَسِبُوٓاْ أَلَّا تَكُونَ فِتۡنَةٞ فَعَمُواْ وَصَمُّواْ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُواْ وَصَمُّواْ كَثِيرٞ مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ٧١
بنی اسرائیل کے یہ لوگ جن سے اللہ نے عہد وپیمان لے رکھا تھا ۔یہ اس گمان (اور پرفریب خوش فہمی) میں مبتلا تھے کہ اللہ عزوجل انہیں سختیوں اور مصیبتوں کی آزمائش اور امتحان میں نہیں ڈالے گا۔ان کے دھوکے اورفریب میں پڑ جانے کی وجہ سےان کا یہ دعویٰ تھا کہ : ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ۔ اور دراصل (اللہ کی طرف سے)لمبی مہلت اور ڈھیل ملنے کی وجہ سے بھی وہ اس دھوکے میں پڑگئے ۔ (القرطبی: ۸؍۹۷)
سوال: وہ (بنی اسرائیل) کس چیز سے دھوکا کھاگئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل (فرمانبرداری) کو بالکل چھوڑ دینے کی حد تک چلے گئے؟
وَحَسِبُوٓاْ أَلَّا تَكُونَ فِتۡنَةٞ فَعَمُواْ وَصَمُّواْ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُواْ وَصَمُّواْ كَثِيرٞ مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ٧١
(تَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ) اللہ تعالیٰ ان پر مہربان اور ان کی طرف متوجہ ہوا ۔مطلب: ان کی توبہ قبول فرمائی۔
یعنی: انہیں نیکی وبندگی اور حق کی طرف واپس پھیردیا ۔مذکورہ آیت کی عبارت میں فصاحت اور خوبی یہ ہے کہ اس شرف وعزت والے فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اور اندھے پن اور بہرے پن جن سے مراد گمراہی ہے ، اس کو (بنی اسرائیل کے) لوگوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ (ابن عطیہ: ۲؍ ۲۲۱)
سوال: یہ آیت بندوں پر اللہ کا لطف وکرم بتاتی ہے اور یہ بھی کہ بندے خود اپنی مصلحت اور فائدے سے جاہل ہیں۔ اس بات کو واضح کیجیے.
لَقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ وَقَالَ ٱلۡمَسِيحُ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۖ
یہاں اللہ تعالیٰ یہ اطلاع دے رہا ہے کہ عیسائیوں نے کفر کیا ہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ: (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ) اللہ تو یہی مسیح ہیں جومریم کے بیٹے ہیں۔
انہوں نے یہ (انتہائی غلط)بات اس شبہ کی بنیاد پرکہی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے صرف ماں کے ذریعہ پیدا ہوئے ۔اس طرح ان کی ولادت ، پیدائش کے باب میں اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ معمول اور عادت کے خلاف ہوئی ہے ۔جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ خود مسیح علیہ الصلاۃ والسلام نے ان کے اس دعوے کو جھٹلایاہے۔ اور ان سے کہا ہے : (يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۖ ) اے بنی اسرائیل: بندگی اور عبادت صرف اللہ کی کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے ۔چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے لئے کامل بندگی اور عبودیت کا اقرار واثبات کیا اور اپنے رب کے لئے تمام مخلوقات کوشامل
وکامل ربوبیت کو ثابت اور سچ ٹھہرایا۔ (السعدی: ۲۴۰)
سوال: آیت میں نصاریٰ کے قول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول کیوں ذکر کیا گیا ہے؟
أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسۡتَغۡفِرُونَهُۥۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٧٤
(أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسۡتَغۡفِرُونَهُۥۚ) کیا ہوگیا کہ وہ اللہ کی طرف نہیں لوٹتے ،توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش طلب نہیں کرتے!
توبہ تو یہ ہے کہ: بندہ جس گناہ میں مبتلا تھا اسے آئندہ کے لئے چھوڑدینے کا پختہ ارادہ کرلے اور صحیح سچے عقیدے کی طرف لوٹ آئے ۔
جبکہ استغفار کا مطلب ہے کہ : ماضی میں بندے سے جو خطائیں اورگناہ سرزد ہوچکے ہیں، ان کی بخشش ومغفرت طلب کرے اور جو کچھ بدعقیدگی یا اس کی بنیاد پر کوتاہی ہوچکی ہے ، اس پر نادم وشرمندہ ہوجائے۔ (ابن عاشور: ۶؍۲۸۴)
سوال: آیت کریمہ میں توبہ واستغفار دونوں کو اکٹھا کیوں لایا گیا ہے؟
أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسۡتَغۡفِرُونَهُۥۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٧٤
اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ کو معاف کر دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں اور کناروں تک ہی کیوں نہ پہنچ چکے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی سچی توبہ قبول کرکےان کی برائیوں کو اچھائیوں سے بدل کر ان پر رحم فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : (أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ) میں بندوں کو توبہ کی طرف بلایا گیا ہے اس کے بعد مغفرت کی طرف ؛ پیشکش کے اس انداز میں اللہ کے لطف وکرم اور شفقت ونرمی کی انتہا کو بیان کرنا مقصودہے۔ (السعدی: ۲۴۰)
سوال: دین کا داعی اس آیت سے اپنی دعوت (کے کام) میں کیسے فائدہ اٹھاسکتا ہے؟
مَّا ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٞۖ كَانَا يَأۡكُلَانِ ٱلطَّعَامَۗ
(صِدِّيقَةٌ) یعنی نہایت سچی اور راست باز عورت۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: حضرت مریم رضی اللہ عنہا کا “صدّیقہ” کے نام سے تذکرہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو سچامانا اور ان کی تصدیق کی جیسا کہ اللہ عزوجل نے ان کی تعریف میں کہاہے: (ﯰ ﯱ ﯲ) (سورۂ تحریم:۱۲) اور مریم نے اپنے رب کی باتوں کی تصدیق کی۔ (البغوی: ۱؍ ۶۹۹)
سوال: حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو ‘‘صدیقہ’’ کی صفت کیوں ملی؟
مَّا ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٞۖ كَانَا يَأۡكُلَانِ ٱلطَّعَامَۗ
آیت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہماالسلام دونوں اللہ کے محتاج بندے تھے ۔دوسرے انسانوں کی طرح وہ دونوں بھی کھانے پینے کی حاجت رکھتے تھے ۔لہذا اگر وہ دونوں اِلٰہ یا معبود ہوتے تو کھانے پینے کی ضرورت سے بے نیاز ہوتے ۔بلکہ کسی بھی چیز کے محتاج نہ ہوتے کیونکہ معبودِ برحق تو وہی ہے جو “غنی وحمید” ہے یعنی ہر حاجت وضرورت سے بے نیاز ،ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے ۔ (السعدی: ۲۴۰)
سوال:کھانا کھانے(کی صفت)کی بناپر کس طرح حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہما السلام کے معبود (الٰہ)نہ ہونے پر دلیل دی جاسکتی ہے؟