قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٩٥ ٩٥

٩٦ ٩٦



٩٧ ٩٧

٩٨ ٩٨

٩٩ ٩٩



١٠٠ ١٠٠
ﯿ

١٠١ ١٠١
94
سورۃ النساء آیات 0 - 95

وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ

جب اللہ تعالیٰ کسی چیز پر دوسری چیز کی فضیلت بیان کرتا ہے اور ان دونوں کی اپنی اپنی فضیلت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ دونوں چیزوں میں مشترک فضیلت کا ذکر کرکے غلط فہمی پیدا کرنے والے بیان سے پرہیز کرتاہے تاکہ کوئی شخص کم فضیلت والی چیز کی مذمت اور حقارت کا وہم وگمان نہ کرنے لگے جیسا کہ یہاں فرمایا: (وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ ) اوراللہ نے سب کے ساتھ اچھائی کا وعدہ کیا ہے۔ (السعدی: ۱۹۵)
سوال: مجاہدین اور قاعدین (جہاد میں شرکت نہ کرسکنے والے معذور مسلمانوں) کے ذکر کے بعد اس قول : (وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ ) کو لانے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ النساء آیات 95 - 96

فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ عَلَى ٱلۡقَٰعِدِينَ دَرَجَةٗۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلۡقَٰعِدِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٩٥ دَرَجَٰتٖ مِّنۡهُ وَمَغۡفِرَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ

اللہ تعالیٰ کے اس بیان میں ایک حالت سے دوسری بلند ترحالت کی طرف منتقل ہونے کی خوش اسلوبی پر غور کیجئے ۔سب سے پہلے مجاہد اور غیر مجاہد کے درمیان برابری کی نفی کی ۔ پھر صراحت کی کہ مجاہد کو گھربیٹھنے والے پر ایک درجہ فضیلت دی گئی ہے ۔ پھر اس مرحلے سے منتقل ہوتے ہوئے مجاہد کو مغفرت، رحمت اور بلند درجات کی فضیلتوں سے نوازنے کا ذکر فرمایا۔ (السعدی: ۱۹۵)
سوال: یہ آیتِ کریمہ مجاہدین کو شوق دلانے کے اسلوب پر مشتمل ہے۔ وہ کیا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا ٩٧

یہ آیت مکہ کے ان باشندوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں ر سول اللہ(ﷺ) کی موجودگی کے دوران مسلمان ہوگئے تھے پھر جب آپ (ﷺ)نے مدینہ کی طرف ہجرت کرلی تب بھی یہ اپنی قوم کے ساتھ مکہ ہی میں ٹھہرے رہے۔اس وقت مشرکینِ مکہ انہیں ستانے لگے ۔نتیجہ میں وہ مرتَد ہوگئے ۔ یہ لوگ بدر کے دن مشرکین کے ساتھ نکلے اور یوں کافروں کی تعداد میں بڑھوتری کا سبب بنے۔ بالآخر غزوۂ بدر میں کفر کی حالت میں مارے گئے۔اس پر مسلمان کہنے لگے کہ ہمارے یہ ساتھی اور احباب حقیقت میں مسلمان تھے لیکن انہیں کفر کرنے اور جنگ کرنے کے لئے نکلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔تب ان کے بارے میں مذکورہ آیت نازل ہوئی ۔اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔(ابن عاشور: ۵؍۱۷۴)
سوال: مسلمان کمزوری کی وجہ سے کب معذور ہوتا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ

یعنی: کیا تمہیں اس بات کی استطاعت اور قدرت نہیں تھی کہ ہجرت کرجاتے جن لوگوں نے تمہیں کمزور اور دبا کچلا سمجھ رکھا تھا ان سے دورہوجاتے؟
اس آیت میں دلیل ہے کہ جس سرزمین میں کھلے عام گناہ اور معصیت کئے جاتے ہوں ،آدمی کو وہاں سے ہجرت کرلینی چاہئے۔ (القرطبی: ۷؍۶۴)
سوال: بندۂ مومن اگر کسی ایسی بستی میں رہتا ہو جہاں گناہوں کا دَور دَورہ ہواور اس کو اپنے نفس کے بارے میں ڈر ہو تو اس پر کیا واجب ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 100

وَمَن يُهَاجِرۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُرَٰغَمٗا كَثِيرٗا وَسَعَةٗۚ وَمَن يَخۡرُجۡ مِنۢ بَيۡتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ ٱلۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ أَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۗ

یہاں اللہ نے شیطانی وسوسوں سے نکال کر تسلی اور اطمینان دلاتے ہوئے ہجرت کی ترغیب دی ہے۔ جیسے شیطان دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر آدمی اپنے وطن کی خوشحالی کو چھوڑنکلے گا تو وطن سے باہر کی پریشانی میں پڑجائیگا اور اگر وہ مشقت جھیل بھی لے تو مقصد ومراد تک پہنچنے سے پہلے یہ مشقت اسے موت کے منہ میں ڈھکیل دے گی۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۰۴)
سوال: بندۂ مومن کو ہجرت سے روکنے کے لئے شیطان کیسے وسوسے ڈال کر بہکاتا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 100

وَمَن يَخۡرُجۡ مِنۢ بَيۡتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ ٱلۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ أَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۗ

ہر وہ شخص جس نے بھلائی کا ارادہ اورنیت کی لیکن اس نیکی کو انجام نہیں دے سکا تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اس کارِ خیر کا پورا پورا بدلہ عطافرمائیگا جیسے اس کریم اور مہربان ذات نے اپنے اوپر اسے واجب کررکھا ہے۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۰۵)
سوال: آیت سے اللہ کے کرم اور اس کی رحمت کا پتہ چلتا ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 100

وَمَن يَخۡرُجۡ مِنۢ بَيۡتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ ٱلۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ أَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۗ

ہجرت کرنے والے شخص کودوبھلائیوں میں سے ایک بھلائی کا ملنا طے ہے ۔یا تو وہ اللہ کے دشمنوں سے الگ ہوکر اور بھلائی اور کشادگی سے جڑکر انہیں ذلیل کرتا ہے ؛ یا پھر اسے موت آجاتی ہے تو وہ حقیقی سعادت اور ہمیشہ کی نعمت میں پہنچ جاتا ہے ۔ (الألوسی: ۵؍۱۲۸)
سوال:اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے کے لئے دو میں سے ایک بھلائی ہوتی ہے ۔وہ دوبھلائیاں کیا ہیں؟