قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٧٥ ٧٥

ﭿ
٧٦ ٧٦




٧٧ ٧٧



ﯿ
٧٨ ٧٨

٧٩ ٧٩
90
سورۃ النساء آیات 0 - 76

ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱلطَّٰغُوتِ

بندے کا ایمان جس درجے اور معیار کا ہوگا اس کا جہاد فی سبیل اللہ ،اس کا اخلاص اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع وپیروی بھی اسی کے مطابق ہوں گی ۔ گویاجہاد فی سبیل اللہ ایمان کا ایک نشان،اور لازمی نتیجہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے طاغوت یعنی باطل معبود وں کی راہ میں جنگ کرنا، کفر کی ایک شاخ اور اس کا ایک تقاضہ ہے۔ (السعدی: ۱۸۷)
سوال: ایمان کا جہاد سے کیا تعلق ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 76

فَقَٰتِلُوٓاْ أَوْلِيَآءَ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا ٧٦

اللہ تعالیٰ نے انہیں یعنی اولیاءِ شیطان کو ضعف اور کمزوری کی صفت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔اس لئے کہ وہ ثواب کی امید سے جنگ نہیں کرتے اور نہ سزا کے ڈر سے لڑائی چھوڑتے ہیں۔ وہ تو بس حمیت وعصبیت کی وجہ سے لڑتے ہیں یا پھر اللہ نے مومنوں کو جو فضل وانعام دیا ہے اس پر حسد کی وجہ سے بھڑجاتے ہیں۔ اور اہلِ ایمان میں سے جو بھی جان کی بازی لگاتا ہے تو اللہ کے عظیم اجروثواب کی امید میں لگاتا ہے اور اگر جنگ سے گریز اور پرہیز کرتا ہےتو اللہ کی وعید (دھمکی) کے ڈر سے اسے چھوڑتا ہے ۔لہذا وہ اس بصیرت اور سوجھ بوجھ کے ساتھ لڑتا ہے کہ اگر قتل کردیا جائے تو اللہ کے پاس اس کے لئے بڑا اجروانعام ہے اور اگر سلامت رہا تو مالِ غنیمت اور کامیابی اس کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ کافر مارے جانے کے خوف اور دوسری زندگی سے مایوسی کے ساتھ لڑتا ہے ۔ (الطبری: ۸؍ ۵۴۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے شیطان کی چال اور اس کے اولیاء (دوستوں)کو ضعف یعنی کمزوری سے کیوں متصف کیا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 76

إِنَّ كَيْدَ ٱلشَّيْطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا ٧٦

شیطان کی(كَيْدَ)سے مراد اس کی تدبیر(داؤ)ہے اور اس سے مراد شیطان کے مددگار وں کی وہ مکر وتدبیر ہے جو وہ مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو جمع کرنے اور چڑھائی کرنے کی غرض سے کرتے رہتے ہیں۔ ( ابن عاشور: ۵؍۱۲۴)
سوال: (كَيْدَ ٱلشَّيْطَٰنِ) (شیطان کی چال) سے کیا مراد ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 77

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ ٱلنَّاسَ كَخَشۡيَةِ ٱللَّهِ أَوۡ أَشَدَّ خَشۡيَةٗۚ

نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کا حکم دینے میں غالباً اس بات سے آگاہ کرنامقصودہے کہ دشمن سے جہاد کے مقابلہ میں اپنے نفس سے جہاد کرنا مقدم ہے ۔ اور مسلمان جب تک مال کی سخاوت میں اللہ کے حکم کی تابعداری پر پورا نہیں اترتا تب تک مشکل ہے کہ وہ جان کی سخاوت اور خرچ میں آگے بڑھ جائے۔اور جان کی بازی لگادینا سخاوت کا انتہائی اعلیٰ اوربلند ترین درجہ ہے۔ (الألوسی: ۵؍۸۵)
سوال: نماز اور زکاۃ کاحکم جہاد سے پہلے کیوں دیا گیا؟

سورۃ النساء آیات 0 - 77

وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا ٱلۡقِتَالَ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖۗ قُلۡ مَتَٰعُ ٱلدُّنۡيَا قَلِيلٞ وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظۡلَمُونَ فَتِيلًا ٧٧

یعنی:اگر بالفرض اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کی مدت لمبی کردے ۔اس حد تک کہ تم زندگی سے اکتا جاؤ ،تب بھی ختم ہوجانے والی شئے تھوڑی ہی ہے ۔ جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کی نعمتوں کا حاصل ہوجانا غیریقینی ہے ۔اور اگر یہ نعمتیں مل بھی جائیں تو یقینی طور پر وہ بہت سی کدورتوں سے آلودہ اور بدمزہ ہوں گی۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۸۳)
سوال: کیا طویل زندگی اور لمبی عمر قطعی طور پر سعادت کے اسباب میں سے ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 77

قُلۡ مَتَٰعُ ٱلدُّنۡيَا قَلِيلٞ وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظۡلَمُونَ فَتِيلًا ٧٧

متاعِ دنیا کا مطلب ہے : دنیا کے فوائداور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہونااور اسے اس لئے قلیل(کم)کہا ہے کہ وہ باقی رہنے والی نہیں ہے ۔ نبی(ﷺ) کا ارشادہے: “مثلی ومثل الدنیا کراکب قال قیلولۃً تحت شجرۃٍ ثم راح وترکہا”۔یعنی میری اور دنیا کی مثال اس سوار(مسافر) کی طرح ہے جس نے ایک درخت کے سائے میں قیلولہ (دوپہر کے کھانے کے بعد مختصرآرام) کیا اور پھر آگے بڑھ گیا ،اپنی راہ لی اور اس درخت کے سائے کو چھوڑدیا۔ (القرطبی: ۶؍۴۶۳)
سوال: اللہ نے سامانِ زندگی کو قلیل کیوں کہا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 78

فَمَالِ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلۡقَوۡمِ لَا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ حَدِيثٗا ٧٨

اس آیت کے معنی میں ضمنی طور سے ان لوگوں کی تعریف ہےجو اللہ کی طرف سے اور رسول ﷺ کی طرف سے منقو ل باتوں کو سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی اس فہم وسمجھ کو حاصل کرنے اور اس میں مدد دینے والے ذریعوں کو اختیار کرنے کی ترغیب بھی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ کے کلام پر توجہ دینا، ان میں غور وفکر کرنا اور فہم وبصیرت تک پہنچانے والے راستوں پر چلنا ۔ (السعدی: ۱۸۹)
سوال: آیت کریمہ علم حاصل کرنے پر کس طرح ابھارتی ہے؟