قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ٦٠ ٦٠ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ٦١ ٦١ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ٦٢ ٦٢ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ٦٣ ٦٣ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٦٤ ٦٤ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٦٥ ٦٥
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيۡتَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودٗا ٦١ فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا ٦٢
ان منافقین کو جب اللہ کی نازل کردہ کتاب اور رسول ﷺ کی طرف بلا یا جاتا ہے ۔اور رسول ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی طرف بلانا دراصل آپ کی سنت کی طرف بلانا ہے ۔تووہ اس سے کترا تے اور منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :جس راستہ پر ہم چل رہے ہیں ؛ اس سے ہمارا مقصد علم اور عمل میں بھلائی اوربہتری ہے اور ہم عقلی اور نقلی دلائل کے درمیان موافقت پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۲۸۶)
سوال: پچھلے منافقین اور موجودہ دور کے منافقین کے درمیان مشابہت ویکسانیت کا پہلوکیا ہے؟
فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا ٦٢
آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندے کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ (کبھی ) گناہوں کے کرنے کے سبب پہنچتی ہے ۔ (الألوسی: ۵؍۶۹)
سوال: کیا گناہ (جرائم) مصیبتوں کا سبب ہوتے ہیں ؟ آیت کے تناظر میں وضاحت کیجئے.
وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا ٦٣
یعنی : اپنے اور ان کے درمیان رازداری برتتے ہوئے انہیں نصیحت کیجئے کیونکہ یہ طریقہ مقصد کے حصول میں زیادہ کارآمد ہے ۔ (السعدی: ۱۸۴)
سوال: رازدارانہ اورپوشیدہ طور پرنصیحت کرنا ، کھلے عام نصیحت کے مقابلے میں کیوں بہتر ہے؟
فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا ٦٣
اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار آدمی سے اگرچہ اعراض کیا جائیگا ، لیکن پوشیدہ طور پراس کو نصیحت کی جائیگی اور اسے ایسے اسلوب میں وعظ ونصیحت کرنے کی بھرپور کوشش کی جائیگی جس سے اس کے سدھرنے کا گمان اور اِمکان ہو۔ (السعدی: ۱۸۴)
سوال:گناہ کرنے والے سے کسی سبب سے اعراض کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ آپ کیا برتاؤ کریں گے؟
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا ٦٣
ابوجعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں:یہ منافقین کے حق میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے کنایہ واشارہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی اطاعت ،رسول اللہ(ﷺ) کی اطاعت اور ان کے فیصلہ پر راضی اور مطمئن ہونے کو اس وجہ سے چھوڑ رکھا ہے کہ وہ پہلے ہی سے (اللہ کے سابقہ علم کی بنیاد پر) اللہ کی مدد(وتوفیق) سے محروم تھے اور ان پر بدبختی چھائی ہوئی تھی ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہوتے جن کے لئے اللہ اورسول (ﷺ) کے فیصلے سے راضی ہونا اور ان کی فرمانبرداری کے لئے سبقت لے جانا لکھ دیا گیا ہے۔ (الطبری: ۸؍۵۱۶)
سوال: کون سی رکاوٹ تھی جو منافقین کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں معاملہ (مقدمہ)لے جانے سے روکتی تھی؟
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا ٦٣
ہم نے آپ کو اور آپ کے علاوہ دوسرے رسولوں کو صرف اس لئے بھیجا کہ وہ اپنی امت کے ساتھ نرمی برتیں ،درگزر اور معافی سے کام لیں اور بھرپورمحنت وکوشش اور نصیحت وخیر خواہی کے ساتھ ساتھ ان کے لئے دعاء کرتے رہیں۔ (البقاعی:۲؍ ۲۷۴)
سوال: دعوت دینے کی ایک شرط ہے جس کی وجہ سے دعوت اللہ کے پاس بھی مقبول اور لوگوں کے پاس بھی مقبول ہوتی ہے۔وہ شرط کیا ہے؟
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ جَآءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِيمٗا ٦٤
رسو ل ﷺ کی خدمت میں یہ حاضری آپ کی مبارک زندگی کے ساتھ خاص تھی۔اس لئے کہ آیت کا سیاق و سباق یہی بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی درخواست اور مطالبہ صرف آپ کی زندگی میں ہوسکتا تھا۔ رہا آپ کی وفات کے بعد کا معاملہ تو اب آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا جائیگا۔بلکہ یہ (وفات کے بعد آپ سے کچھ طلب کرنا) شرک ہے ۔ (السعدی: ۱۸۵)
سوال: رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آنا اور مغفرت کی درخواست کرنا، کس وقت صحیح تھا؟