قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰹ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ٤٩ ٤٩
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٥٠ ٥٠
ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
٥١ ٥١
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٥٢ ٥٢
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ٥٣ ٥٣

ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ٥٤ ٥٤
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ٥٥ ٥٥
ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٥٦ ٥٦
ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٥٧ ٥٧
8
سورۃ البقرہ آیات 0 - 50

وَأَغۡرَقۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ وَأَنتُمۡ تَنظُرُونَ ٥٠

ہم نے تمہاری نظروں کے سامنے انہیں ڈبودیا تاکہ ان کی اس ہلاکت سے تمہارے دل خوب ٹھنڈے ہوجائیں اوریوں تمہارے دشمن کی بھی بے انتہا رسوائی ہو۔ (ابن کثیر:۱؍۸۲)
سوال:‘‘فرعون نے اپنا غصہ ٹھنڈاکرنے کے لئے مومنوں کو سولی پر چڑھانے کی دھمکی دی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے خود اس کا معاملہ اس کی دھمکی کے مانند کیا’’۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 51

وَإِذۡ وَٰعَدۡنَا مُوسَىٰٓ أَرۡبَعِينَ لَيۡلَةٗ ثُمَّ ٱتَّخَذۡتُمُ ٱلۡعِجۡلَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَنتُمۡ ظَٰلِمُونَ ٥١

آیت میں(لَيۡلَةٗ)یعنی رات کو بطورِ خاص ذکر کیا گیا ۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رات ہی اللہ سے مُناجات(سرگوشی)کا سب سے پرلذت اور پرکیف موقع ہے۔(البقاعی:۱؍۱۳۳)
سوال:مناجات کے لئے دن کے بجائے رات کو بطورِ خاص کیوں ذکر کیا گیا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 54

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ إِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلۡعِجۡلَ فَتُوبُوٓاْ إِلَىٰ بَارِئِكُمۡ

جس عمل کا ارتکاب کرکے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا ،وہی ہے جس کی اللہ نے خبر دی کہ موسیٰ( علیہ السلام) جب ان سے جداہوکر (طور پر ) چلے گئے تو وہ لوگ بچھڑے کواپنا رب بناکر دین سے پھرگئے۔(الطبری:۲؍۷۲)
سوال: ‘‘معاشرے میں علماء وصالحین کی عدم موجودگی سے اس کے بگاڑ اور انحراف کا اندیشہ ہوتا ہے’’۔اسے واضح کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 54

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ إِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ أَنفُسَكُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلۡعِجۡلَ

تم لوگوں نے اپنے آپ کو ایسے کے سامنے جھکادیاجو کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا بلکہ تم اُس سے کہیں زیادہ ا شرف وافضل ہو ۔یہی تو انتہائی گھٹیا اور پرلےدرجہ کا ظلم ہے۔کیوں کہ انسان کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ اپنے ہی جیسے کسی وجود کے سامنے عاجزی وبندگی اختیار کرے تو اس سے کم تر درجہ کے کسی حیوان کے لئے عاجزی و بندگی کیسے درست ہوسکتی ہے ؟اور وہ بھی بے جان سونے کی بنی ہوئی شکل وصورت کے سامنے جو حقیقت میں ایک دھات کے سوا کچھ نہیں!(تواس کے سامنے بندگی اختیار کرنا انتہائی گھناؤنی اور گھٹیا حرکت ہی تو ہوگی!)(البقاعی:۱؍۱۳۴)
سوال: ‘‘سب سے زیادہ قبیح اور بری جہالت ،اپنے رب کو نہ پہچاننا ہے ’’۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 57

وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡغَمَامَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ

پچھلی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمادیا کہ اس نے بنی اسرائیل پر سے بہت ساری مصیبتوں کوٹال دیا تو اب یہاں سے ان نعمتوں کی یاددہانی شروع کرادی جو انہیں مکمل طور پر عطا فرمائی تھیں چنانچہ فرمایا:( وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡغَمَامَ)(ابن کثیر:۱؍۹۰)
سوال:اس آیت کا پچھلی آیتوں سے کیا تعلق ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 57

وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡغَمَامَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٥٧

اللہ تعالیٰ ان پر اتنی مقدار میں من وسلویٰ اتاردیتا تھا جو اُن کی خوراک کے لئے کافی ہوجاتا تھا۔
(كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ)یعنی ہم نے تمہیں ایسا رزق دیا ہے جو خوشحال بستیوں اور شہروں کے باشندوں کو بھی میسرنہیں ہے۔مگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہیں کی۔ اور دلوں کی سختی اور گناہوں کی زیادتی پر بدستور قائم رہے۔(السعدی:۴۹)
سوال:بنی اسرائیل پر مسلسل سخت سزاؤں کے آنے کی کیا وجہ تھی؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 57

وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٥٧

ماضی(ظَلَمُونَا)اور مستقبل(يَظۡلِمُونَ)دونوں صیغوں کو اکٹھالانے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہ لوگ اپنے ظلم وزیادتی میں بہت بڑھ گئے تھے اور اس پر اڑے ہوئے تھے۔(الألوسی:۱؍۲۶۴)
سوال:بنی اسرائیل کے ظلم کو ماضی اور مستقبل دونوں فعل کے ذریعہ کیوں تعبیر کیاگیا؟