قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ٣٨ ٣٨ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٣٩ ٣٩
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٤٠ ٤٠ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ٤١ ٤١ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ٤٢ ٤٢ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ٤٣ ٤٣ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ٤٤ ٤٤
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
٤٥ ٤٥ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٤٦ ٤٦
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ٤٧ ٤٧ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ٤٨ ٤٨
يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ
(آیت میں بنی اسرائیل کو ایمان لانے اور حق قبول کرنے کی دعوت دی گئی ،)چنانچہ انہیں اس پر ابھارنے کے لئے ان کے جدّ امجد اسرائیل کا حوالہ دیا گیا،جو کہ اللہ کے نبی یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔گویا ان سے کہاجارہا ہے:‘‘تم اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندے کی اولاد ہو لہٰذا اپنے باپ کی طرح حق کے تابعدار وپیروکار بن جاؤ’’۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کہاجاتا ہے: ‘‘تم شریف آدمی کے بیٹے ہولہذاشرافت اختیار کرو۔‘‘تم بہادر کی اولاد ہو،اس لئے جوانمردی دکھاؤاور مد مقابل کے سامنے ڈٹ جاؤ’’۔‘‘تم عالم کے بچے ہو ،علم کی طلب میں لگے رہو’’۔وغیرہ۔(ابن کثیر:۱؍۷۹)
سوال:اللہ نے یہودیوں کو ان کے جد امجد اسرائیل(یعقوب علیہ السلام) کا حوالہ دے کر کیوں خطاب فرمایا؟
وَءَامِنُواْ بِمَآ أَنزَلۡتُ مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَكُمۡ وَلَا تَكُونُوٓاْ أَوَّلَ كَافِرِۢ بِهِۦۖ
قرآن کاتورات اور دیگر آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے اور محمدﷺ کاانبیاء اورپچھلے لوگوں کی تصدیق کرنے کے تین معانی ہیں:
اول : انبیاء سابقین نے قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق پیشین گوئی کی تھی اور ان کے بارے میں خبر دی تھی۔چنانچہ انہوں نے جیسی خبر دی تھی ویسا ہی ہوا۔اس طرح خبر دینے میں ان کی سچائی ثابت ہوئی۔
دوم:محمد ﷺ نے بتایا کہ وہ سچے انبیاء تھے اور ان پر کتابیں اتاری گئیں۔اس طرح گویا آپ ﷺ ان کی تصدیق کرنے والے ہیں یعنی آپ ان کے سچے ہونے پر گواہ ہیں۔
سوم : ان کی کتابوں میں موجود توحید کے بیان،دار آخرت کے ذکر اور دیگر شرعی عقائد میں آپ ﷺ نے ان کی موافقت و تائید کی ہے۔اس طرح گویا مذکورہ چیزوں پر ایمان کے بارے میں اتفاق کرکے آپ ﷺ نے ان کی تصدیق کی ہے ۔(ابن جزی:۱؍۶۶)
سوال:قرآن سابقہ(آسمانی)کتابوں کی کس طرح تصدیق کرتا ہے؟
وَلَا تَشۡتَرُواْ بِـَٔايَٰتِي ثَمَنٗا قَلِيلٗا وَإِيَّٰيَ فَٱتَّقُونِ ٤١
یہ آیت اگرچہ بطور خاص بنی اسرائیل کے بارے میں ہے لیکن حقیقت میں اس کا حکم ہر اس شخص پر لاگو ہوگا جواُن کی طرح عمل کریگا لہٰذا اگر کوئی شخص حق کو بدلنے یا رد کرنے کے لئے رشوت لیتا ہے ،یا جو شخص علم سکھانے اور اسے دوسروں تک پہنچانے سے خود کو روکے رکھتا ہے جب تک اس کی اجرت نہیں پالیتاحالانکہ بعینہ اس شخص پر اس ذمہ داری کو انجام دینا واجب اور متعین ہے۔تو ایسے تمام لوگ آیت کے مفہوم ومراد میں داخل ہیں۔(القرطبی:۲؍۱۱)
سوال:انسان،اللہ کی آیتوں کے عوض معمولی قیمت کس طرح حاصل کرتا ہے؟
وَلَا تَلۡبِسُواْ ٱلۡحَقَّ بِٱلۡبَٰطِلِ وَتَكۡتُمُواْ ٱلۡحَقَّ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٤٢
اس آیت سے اس بات پر دلیل پکڑی گئی کہ حق کو جاننے والے عالم پر ،حق کا اظہار واعلان کرنا واجب ہے اور اس کا چھپانا حرام ہے ۔ہاں! اس کی کچھ شرطیں ہیں جو علماء کے یہاں معروف ہیں۔(الألوسی:۱؍۲۴۷)
سوال:اس آیت کو کس چیز پر دلیل بنایا گیا ہے؟
أَتَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبِرِّ وَتَنسَوۡنَ أَنفُسَكُمۡ
آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بے عملی کے باوجود لوگوں کو بھلائی کا حکم دینے پر ان کی مذمت کی گئی بلکہ مذمت تو ان کے بے عمل ہونے پر کی گئی ہے اس لئے کہ بھلائی کا حکم دینا بذات خود نیکی ہے اور یہ عالم پر فرض بھی ہے ۔البتہ عالم کے لئے ضروری اور بہتر یہ ہے کہ وہ دوسروں کو حکم دینے کے ساتھ خود بھی اس پر عمل کرے اور لوگوں سے عمل میں پیچھے نہ رہے …غرض نیکی کا حکم دینا اور اس پر عمل کرنا،دونوں واجب ہیں۔ ایک کو چھوڑ دینے سے دوسراختم نہیں ہوتا۔(ابن کثیر:۱؍۸۲)
سوال:گناہگارشخص جب کسی دوسرے کو گناہ کرتے ہوئے دیکھے تو کیا خاموشی اختیار کرے؟
وَٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلۡخَٰشِعِينَ ٤٥
اللہ ۔جل ثناء ہ۔نے یہ خبر دی کہ نماز بہت بوجھل کام ہے سوائے ان لوگوں پر جن کی یہ صفت ہو۔(یعنی جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔) (الطبری:۱؍۲۲)
سوال: وہ کون سی صفت ہے جو مومنین کے لئے نماز کو محبوب اور اس کاشوق رکھنے والا بنادیتی ہے؟
وَٱسۡتَعِينُواْ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى ٱلۡخَٰشِعِينَ ٤٥
ان خاشعین(اللہ سے ڈرنے والوں) پر نماز اس لئے بوجھ اور مشقت والی نہیں ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز سے ان کو کیا کیا فوائد ملنے والے ہیں۔نیز اس پر جو اجر وثواب کا ذخیرہ ہے،یہ لوگ اس کی امید رکھتے ہیں اس لئے ان پر یہ آسان ہوجاتی ہے۔اسی لئے کہاجاتا ہے : جو شخص اپنی مطلوبہ چیز کی اہمیت کو جانتا ہے اس کے لئے قربانیاں آسان ہوجاتی ہیں، اور جسے اچھے بدلے کا یقین ہوتا ہے وہ لوگوں کو نوازنے میں فیاض ہوجاتا ہے۔(الألوسی:۱؍۲۴۹)
سوال:خاشعین(اللہ سے ڈرنے والوں) پر نماز دشوار اوربوجھل کیوں نہیں ہوتی؟