قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮏ

ﰼ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ١١٦ ١١٦

ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ١١٧ ١١٧
ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
١١٨ ١١٨
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ١١٩ ١١٩
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ١٢٠ ١٢٠
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١٢١ ١٢١
65
سورۃ آل عمران آیات 0 - 118

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالٗا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُۚ

یہ کافروں سے یاری دوستی کرنے ،انہیں قریبی اور رازدار بنانے سے ممانعت ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیاکہ:“یہاں ایک نصرانی آدمی ہے ، اس سے اچھی کتابت وتحریرکسی کی نہیں ہے تو کیوں نہ آپ کی جانب سے جوخطوط وپیغامات اور ہدایات وغیرہ بھیجی جاتی ہیں وہی لکھا کرے؟ انہوں نے جواب دیا : تب تو میں مومنوں کو چھوڑکردوسرے کورازدار بنابیٹھوں گا”۔
(ﮇ ﮈ ﮉ ) مطلب ہے: جوتمہارے اندر برائی وخرابی پیدا کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑیں گے۔ (ابن جزی:۱؍۱۵۹)
سوال:جو شخص اسلام کے دشمنوں کو اپنا مشیر اور ملازم بناتا ہے ۔اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟اور اس عمل کا کیا انجام ہوتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 118

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالٗا

عقلمند آدمی وہ ہے کہ جب دشمن سے ملنے جلنے کی نوبت ومجبوری سے دوچار ہوجائے تو بس ظاہری طور پر ملے جُلے، اسے اپنا کوئی راز اور دل کی بات نہ بتائے اگرچہ وہ اس کی خوشامد اور چاپلوسی کرے اور اپنی دوستی کی قسمیں کیوں نہ کھائے۔ (السعدی: ۱۴۴)
سوال:بعض مسلمان غیر مسلم افراد سے ملنے جلنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔تو انہیں کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 118

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالٗا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُۚ

ا ن کافروں کو یہ بات پسند ہے کہ تم سخت مشقت وتکلیف میں پڑ جاؤ اور نقصان اٹھاؤ حالانکہ ان کی زبان کی لغزشوں سے اور الفاظ کے مضامین ومطالب کے ذریعہ تم مسلمانوں سے ان کی دشمنی ظاہر ہوچکی ہے۔جبکہ نفرت ودشمنی کے وہ جذبات جو انہوں نے اپنے سینوں میں چھپا رکھے ہیں، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔کیونکہ جو ظاہر ہوگئی وہ زبان کی بھول چوک سے ہوئی ہے اور ایسی لغزش بہت کم سرزدہوتی ہے۔ (الألوسی: ۴؍۳۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مددگار ومعاون بنانے سے کیوں منع کیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 119

هَٰٓأَنتُمۡ أُوْلَآءِ تُحِبُّونَهُمۡ وَلَا يُحِبُّونَكُمۡ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ عَضُّواْ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَنَامِلَ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۚ قُلۡ مُوتُواْ بِغَيۡظِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ١١٩

بڑے تعجب کی بات ہے کہ مومنین ان کفار ومشرکین سے محبت رکھتے ہیں ،حالانکہ وہ مومنوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ (ابن عاشور:۴؍۶۵)
سوال:آیت کریمہ میں کس بات سے تعجب کا ذکر ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 120

إِن تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡ وَإِن تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٞ يَفۡرَحُواْ بِهَاۖ

جن لوگوں کی یہ صفت ہو کہ مومنوں سے شدید دشمنی اور کینہ رکھتے ہوں، ان پر مصیبتیں آنے سے خوش ہوتے ہوں تو ایسے لوگ اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں ہمراز اورگہرا دوست بنایا جائے ۔خاص طور سے جہاد جیسے حساس معاملہ میں ،کیونکہ وہ دنیا اور آخرت کا سرمایۂ بقا ہے۔ (القرطبی:۵؍۲۸۱)
سوال:کفار ومنافقین کورازدار، مشیر اور خادم وملازم بنانے سے ممانعت کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 120

وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡٔاًۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ ١٢٠

آیت میں صبر اور تقویٰ کا ذکر ہے۔صبر میں تقدیرکے فیصلوں پر صبر کرنا شامل ہے۔اور تقوے میں شرعی ا حکام پر عمل کرنا اور منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دینا داخل ہے ۔اب جس شخص کو یہ دونوں (یعنی صبر اور تقویٰ) مل گئے تو اس کے دامن میں ساری بھلائیاں سمٹ آئیں ۔لیکن جس شخص کی حالت اس کے برعکس ہوگی کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتااور اللہ کی اطاعت چھوڑکر اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتا ہے اور (اپنے گناہوں پر) تقدیر سے حجت پکڑتا ہے (کہ میری تقدیر میں گناہ کرنا تھا اس لئے کیا۔) اسی طرح جب وہ مصیبت وپریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو صبر نہیں کرتا اور اس وقت تقدیر کی طرف نہیں دیکھتا ۔ یہ صورت حال دراصل بدبخت لوگوں کی ہے۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۳۳)
سوال:جس شخص کو صبر اور تقوی عطا کیا گیا اور جو شخص ان دونوں سے محروم ہے ۔دونوں کی حالت بیان کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 121

وَإِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ أَهۡلِكَ تُبَوِّئُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلۡقِتَالِۗ

یعنی: آپ ﷺ ہر مسلمان کو میدانِ جنگ میں اس کے لئے مناسب جگہ پر متعین کرکے مورچہ بندی کررہے تھے اور مقابلہ کے لئے صف بندی کر رہے تھے۔
اس آیت کے ٹکڑے میں نبی ﷺ کی بڑی زبردست تعریف ہے ۔وہ اس طرح کہ آپ بذاتِ خود جنگی انتظامات کررہے تھے ،مسلمانوں کو جنگ کے بہتر مورچوں اور محاذوں پر تعینات کررہے تھے ۔آپ ﷺ کا ان سب کاموں کو بذات خود بلاواسطہ انجام دینا ، اسی لئے ممکن ہوا کہ آپ علم ورائے میں کامل ، بہترین سوجھ بوجھ کے مالک ،دور اندیش ،بلند ہمت وصاحبِ عزم اور اعلیٰ درجہ کے بہادر شخص تھے ۔صلوات اﷲ وسلامُہ علیہ۔ (السعدی: ۱۴۵)
سوال:آیت میں نبی ﷺ کی تعریف ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.