قرآن
ﰚ
ﱖ
ﰚ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ٣ ٣ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٤ ٤
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٥ ٥ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٦ ٦
ﰛ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٢ ٢ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٣ ٣
ﰜ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٣ ٣ ﮚ ﮛ ﮜ ٤ ٤
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ٥ ٥
وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ ٣
تم اللہ کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ تم اس کے لئے عبادتوں کو خالص نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوتو اسے عبادت نہیں کہا جاسکتا۔ (السعدی:۹۳۶)
سوال:معلوم ہے کہ کفار قریش اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے علاوہ کی بھی مگر اس آیت میں ان کے اللہ کی عبادت کرنے کی بالکلیہ نفی کیوں کردی گئی؟
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ ٦
امام شافعی وغیرہ نے اس آیت سے یہ دلیل پکڑی ہے کہ کفر اپنی تمام اقسام کے ساتھ ایک ہی ملت ہے اس لئے کہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان بطلان میں ایک جیسے ہی ہیں۔ (ابن کثیر: ۴؍۵۶۵)
سوال:کفر ایک ہی ملت ہے۔آیت کی روشنی میں اس عبارت کی وضاحت کیجئے.
لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ ٦
اس سورت میں اصلاح کا ایک طریقہ ہے وہ یہ کہ دین کے اصولوں یعنی عقائد میں افہام و تفہیم نہ کیا جائے۔(کچھ ہم آپ کی مانیں کچھ آپ ہماری،کچھ آپ ہماری خاطر چھوڑدیں کچھ ہم آپ کی خاطر)۔یہ نہ قابل قبول ہوتا ہے اور نہ ہی قابل عمل۔ اس لئے کہ کفار قریش نے نبیﷺ کے سامنے یہ مطالبہ رکھا تھا کہ کبھی ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں اور کبھی آپ ہمارے معبودوں کی۔ یہ مطالبہ منطق کی اصطلاح میں درمیانی حل ہے چونکہ اس میں دومیں سے کسی ایک جانب حق کا احتمال ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے بہت ہی سخت لہجہ میں اس سے روکا اور حتمی طور سے منع کردیا اس لئے کہ انہوں نے جو بات رکھی تھی اس کے مان لینے میں باطل کو حق کے برابر درجہ دینے والا معاملہ تھا،یہ مسئلہ کو اور پیچیدہ بنانا تھا اور یہ بات بھی تھی کہ اگر آپﷺ نے ایک لمحہ کے لئے بھی ان کی موافقت کرلی تو گویا آپ نے باطل کو (حق)تسلیم کرلیا۔(الشنقیطی: ۹؍۱۳۶)
سوال:کیا دین کے اصول وعقائد میں باطل کے ساتھ کمپرامائز کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ ١ وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا ٢ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا ٣
اس میں اشارہ ہے کہ اس دین کو ہمیشہ اللہ کی مدد ملتی رہے گی اور رسول اللہ ﷺ کے استغفار کرنے اور اللہ کی حمد وتسبیح بیان کرنے کے سبب مدد میں اضافہ ہوگا۔ اور نعمت ملنے پر اللہ سے استغفار کرنا اور اس کی حمد وتسبیح بیان کرنا بھی شکر کی ہی ایک قسم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡ﴾ [إبراهيم: 7]. (سورۂ ابراہیم:)اگر تم نے شکر ادا کیا تو میں اور دونگا۔خلفاء راشدین اور ان کے بعد کے زمانہ میں ایسا ہوا بھی۔اس دین کو مسلسل اللہ کی مدد ملتی رہی حتی کہ اسلام ان جگہوں تک پہنچ گیا جہاں کوئی اور دین نہیں پہنچ سکااور ہمارے دین میں اس قدر لوگ داخل ہوئے جتنے دوسرے ادیان میں نہیں ہوئے۔لیکن جب امت اللہ کی نافرمان ہوگئی تو اللہ نے بطور سزا امت کے اتحاد کو ختم کردیا،معاملات بکھیردئیے اور جو ہورہا ہے وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ (السعدی:۹۳۶)
سوال:امت اور دین کی مدد میں تسبیح،حمد اور استغفار کی اہمیت واضح کیجئے.
إِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ ١ وَرَأَيۡتَ ٱلنَّاسَ يَدۡخُلُونَ فِي دِينِ ٱللَّهِ أَفۡوَاجٗا ٢ فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَٱسۡتَغۡفِرۡهُۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابَۢا ٣
فضیلت والے امور کا خاتمہ استغفار پر ہوتا ہے مثلاً نماز اور حج وغیرہ چنانچہ اللہ کا اس حالت میں اپنے رسول ﷺ کو استغفار کا حکم دینا اس جانب اشارہ ہے کہ آپﷺ کی مدت پوری ہوئی تو اب آپ اپنے رب سے ملاقات کے لئے بالکل تیار ہوجائیے اور اپنی عمر سب سے افضل عمل یعنی استغفار پر ختم کیجئے۔ (السعدی:۹۳۶)
سوال:آپ کیسے سمجھیں گے کہ اس سورت میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی جانب اشارہ ہے؟
تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ ١
اس سے سمجھ میں آیا کہ نیک لوگوں سے رشتہ یا کوئی نسبت کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی جب تک ان کے جیسے اعمال نہ کئے جائیں۔ابولہب کو ہی دیکھ لیجئے،وہ نبیﷺکا چچا تھا مگر یہ رشتہ اس کے کچھ کام نہ آسکا۔(البقاعی: ۲۲؍۳۳۱)
سوال:اگر آدمی نیک نہ ہو تو کیا اس کا عالی نسب ہونا اسے کوئی فائدہ پہنچاسکتا ہے؟آیت سے اس کی وضاحت کیجئے.
وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ ٤ فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۢ ٥
یہ لکڑیاں اٹھانے والی عورت ابولہب کی بیوی تھی،وہ اپنے شوہر کے کفر،عناد اور سرکشی میں اس کی معاون تھی چنانچہ قیامت کے دن بھی وہ اپنے شوہر کو جہنم میں عذاب میں دئیے جانے میں مددگار بنے گی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(حمالة الحطب * في جيدها حبل من مسد) یعنی لکڑیاں اٹھااٹھاکر لائیگی اور اپنے شوہر ابولہب پر ڈالے گی تاکہ جہنم کی آگ اور بھڑکے۔ (ابن کثیر: ۴؍۵۶۹)
سوال:اس آیت کی روشنی میں بتائیے کہ نیک عورت سے شادی کرنا کتنا اہم ہے؟