قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١
٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١
٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤

٥ ٥
ﭿ ٦ ٦ ٧ ٧
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
602
سورۃ قريش آیات 3 - 4

فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ ٣ ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۢ ٤

جنہوں نے اہل ِحرم کے ساتھ برائی کرنی چاہی، اللہ نے انہیں غارت کردیا اور اسی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حرم اور اہل ِحرم کا مرتبہ اہل ِعرب کی نظروں میں اتنا بڑھا دیاکہ وہ ان کا احترام کرنے لگے اور کہیں بھی سفر کرلیں کوئی ان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا۔ اسی لئے اللہ نے انہیں شکرادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: (فليعبدوا رب هذا البيت) کہ وہ اس کی توحید کو تسلیم کریں اور صرف اسی کی عبادت کرنے لگ جائیں۔ (السعدی؍۸۹۴)
سوال: خالص اللہ کی عبادت کرنا اس کا شکر ادا کرنے کی ہی ایک قسم ہے،سورت کی روشنی میں اسے بیان کیجئے.

سورۃ قريش آیات 0 - 4

ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۢ ٤

اللہ نے انہیں بھوک لگنے پر کھلایا اور خوف سے امان عطاکی۔ان دونوں چیزوں میں بڑی نعمت ہے۔اس لئے کہ انسان جب تک ان دونوں نعمتوں میں نہ ہو وہ نہ زندگی کا لطف لے سکتا ہے اور نہ عافیت سے رہ سکتا ہے اس لئے کہ فاقہ کشی کے ہوتے ہوئے زندگی کیسی؟ اور خوف کے ہوتے ہوئے کہاں کا چین وقرار؟ لہٰذا جب تک کھانا اور امن دونوں نہ ہوں نعمت پوری نہیں ہوسکتی۔ (الشنقیطی: ۹؍۱۱۲)
سوال:اللہ نے قریش پر اپنی ان دو نعمتوں کھانا کھلانے اور امن عطاکرنے کو اکٹھا کیوں ذکر کیا ہے؟

سورۃ الماعون آیات 1 - 2

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ ١ فَذَٰلِكَ ٱلَّذِي يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ ٢

غورکیجئے جو شخص دین کو جھٹلاتا ہے آپ اس میں یہ برے اخلاق اور بداعمال ضرور پائیں گے اس لئے کہ دین ہی تو ہے جو آدمی کو بھلائیاں کرنے اور برائیوں سے باز رہنے پر ابھارتا ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۶۱۴)
سوال:اللہ نے بیان کیا ہے کہ دین کو جھٹلانے والا بداخلاق ہوتا ہے۔ایسا کیوں ہے؟

سورۃ الماعون آیات 4 - 5

فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ ٤ ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِهِمۡ سَاهُونَ ٥

یعنی وہ لوگ جو نماز کی فرضیت کے قائل ہیں،اس کو دین کا حصہ تسلیم کرتے ہیں مگر اس میں غفلت برتتے ہیں یا تو بالکلیہ اسے چھوڑے ہوئے ہیں اور یا تو شریعت کے مقرر کردہ اوقات پر ان کا اہتمام نہیں کرتے او روقت گزرجانے پر ادا کرتے ہیں۔ (ابن كثير: ۴؍۵۵۸)
سوال:نماز میں غفلت کیسے ہوتی ہے؟

سورۃ الكوثر آیات 0 - 2

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ ٢

اللہ نے اپنے اس فرمان میں نماز کو قربانی سے پہلے ذکر کیا ہے جبکہ سورۂ اعلیٰ میں تزکیہ کو نماز سے پہلے ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ أَفۡلَحَ مَن تَزَكَّىٰ * وَذَكَرَ ٱسۡمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ﴾ [الأعلى: 13-15]، وہی کامیاب ہوا جس نے اپنا تزکیہ کیا اور اپنے رب کو یاد کیا اور نماز پڑھی۔اسی لئے یہ سنت بن گئی کہ عید الفطر میں صدقہ نماز سے پہلے دیا جائے اور عید الاضحٰی میں قربانی نماز کے بعد کی جائے۔ (ابن تیمیہ: ۷؍۱۹۴)
سوال:یہ سنت کیوں ہے کہ عید الفطر میں صدقہ نماز سے پہلے دیا جائے اور عید الاضحٰی میں قربانی نماز کے بعد کی جائے؟

سورۃ الكوثر آیات 0 - 3

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ ٣

ہر جرم جس کا کرنے والا اللہ کی سزا کا مستحق بن جاتا ہے اگر وہ ہمارے سامنے اسے ظاہر کرے تو اسے سزادینا اور اس پر اللہ کی مقررکردہ حد نافذ کرنا ہم پر واجب ہے چنانچہ جو کھلم کھلا دین کی مخالفت کرے او ر علانیہ دشمنی کرے ہم پر واجب ہے کہ اس کی جڑکاٹ دیں۔(ابن تیمیہ: ۷؍۱۹۶)
سوال:ا علانیہ گناہ کرنے اورچھپ کر گناہ کرنے والے کے درمیان کیا فرق ہے؟

سورۃ الكوثر آیات 0 - 3

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ ٣

اہل ِسنت کی وفات کے بعد بھی ان کا ذکر باقی رہتا ہے او ر اہل ِبدعت مرتے ہیں تو ان کا ذکر بھی انہی کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اہل ِسنت رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے اور اسے عام کرتے ہیں تو انہیں بھی اللہ کی اس نعمت میں سے حصہ ملتا ہے:(ورفعنا لك ذكرك)، ہم نے آپ کی شان بلند کردی۔اور اہل ِبدعت رسول اللہ ﷺ کی سنت سے بغض رکھتے اور اس کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو اللہ کی اس سزا میں سے حصہ ملتا ہے:(إن شانئك هو الأبتر). بے شک آپ کا دشمن جڑ کٹا ہے۔(ابن تیمیہ: ۷؍۱۹۸)
سوال:اہل ِسنت کا ذکر باقی رہنے اور اہل ِبدعت کا ذکر مٹ جانے میں کا کیا سبب ہے؟