قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥
٦ ٦
٧ ٧
٨ ٨ ٩ ٩
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١
٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥
601
سورۃ العصر آیات 0 - 3

وَٱلۡعَصۡرِ ١ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ ٢ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ ٣

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:اگر لوگ اس سورت میں غوروفکر کریں تو یہ سب کے لئے کافی ہوجائے گی۔ اس کی تفصیل یو ں ہے کہ مراتب چار ہیں جو شخص بھی انہیں حاصل کرلے وہ کمالِ عروج پر پہنچ سکتا ہے: ۱)حق کو جاننا۔ ۲)حق پر عمل کرنا۔ ۳)اس کی تعلیم دینا ۔۴) اسے سیکھنے،اس پر عمل کرنے اور اسے سکھانے میں آنے والی مشکلات پر صبر کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چاروں مراتب اس سورت میں ذکر فرمادیے ہیں۔ (ابن القیم: ۳؍۳۶۵)
سوال:انسان کو اپنی اصلاح کے لئے جتنے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب اس سورت میں مذکورہیں۔وضاحت سے بتائیے.

سورۃ العصر آیات 0 - 3

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ ٣

لفظ(الصالحات) میں(ال) تعریف کے لئے ہے، یعنی یہ تمام نیک اعمال کو شامل ہے۔معنی یہ ہے کہ وہ شرعاً مطلوب تمام قسم کے نیک اعمال انجام دیتے ہیں۔ملحوظ رہے کہ نیک عمل کرنے کے معنی میں برا عمل چھوڑنا بھی داخل ہے۔ (ابن عاشور: ۳۰؍۵۳۲)
سوال:کلمہ(الصالحات) میں (ال) کیوں داخل کیاگیا ہے؟

سورۃ العصر آیات 0 - 3

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ

پہلے دوکاموں یعنی ایمان اور عمل صالح سے آدمی اپنی ذات کی تکمیل کرتا ہے اور بعد کے دوکاموں یعنی حق اور صبر کی تلقین کرکے وہ دوسروں کی تکمیل کرتا ہے اور ان چاروں امور کو انجام دے کر ہی انسان نقصان سے محفوظ رہ کر عظیم فائدہ حاصل کرسکتاہے۔(السعدی؍۹۳۴)
سوال:سورت میں خصوصیت سے انہی چار امور کو کیوں ذکر کیا گیا ہے؟

سورۃ العصر آیات 0 - 3

وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ ٣

(وتواصوا بالصبر)صبر کی تلقین کرنے کا معنی یہ ہے کہ مصیبتوں،تقدیر کے فیصلوں اورجنہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں ان کی جانب سے پہنچائی جانے والی تکلیفوں پر صبر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی صبر کی نصیحت کرتے ہیں۔ (ابن کثیر: 4/551)
سوال:حق کی تلقین کے بعد صبر کی تلقین کا جملہ لانے کا کیا فائدہ ہے؟اور ان دونوں کے درمیان کیا تعلق ہے؟

سورۃ الهمزہ آیات 0 - 2

ٱلَّذِي جَمَعَ مَالٗا وَعَدَّدَهُۥ ٢

مال جمع کرکے رکھنا اس وقت برا ہے جب اللہ کے راستے میں اور مخلوق کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے خر چ نہ کیا جائے۔ (القرطبی: ۲۲؍۴۷۱)
سوال:کیا ہر حال میں مال جمع کرنا براہے؟

سورۃ الهمزہ آیات 0 - 3

يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخۡلَدَهُۥ ٣

آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ما ل کی محبت نے انہیں ایسا کردیا کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہنے کاگمان کرنے لگے تو جس طرح کوئی ہمیشہ کی زندگی سے محبت کرتا ہے اسی طرح وہ مال سے محبت کرنے لگے اور شہوت پرستی و فانی تعیش پسندی میں خوب آگے بڑھنے لگے اس شخص کی طرح جو یہ سمجھ بیٹھا ہو کہ اسے موت نہیں آئیگی۔ اس میں دراصل اشارہ ہے کہ صرف اعمال صالحہ ہی ہیں جو آدمی کو آخرت میں ہمیشہ کی زندگی کا عیش دلواسکتے ہیں۔ (البقاعی: ۲۲؍۲۴۵)
سوال:مال کی حد سے زیادہ محبت انسان کے خیالات اور نظریات پر خطرناک اثر ڈالتی ہے۔اس پر روشنی ڈالئے.

سورۃ الهمزہ آیات 0 - 7

ٱلَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ ٧

دل کو خصوصیت سے ذکر کیا گیا حالانکہ جہنم کی آگ پورے جسم کو جلائیگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دل ہی غلط عقائد کا گھر ہوتا ہے، یایہ کہ گناہ جب دل تک پہنچ جائیں تو انسان کے جیتے جی اس کا دل مرجاتا ہے۔یعنی زندہ رہتے ہوئے ان کی حالت مردوں کی طرح ہوجاتی ہے۔ (الشوکانی: ۵؍۴۹۴)
سوال:جہنم کی آگ پورے جسم کو جلائیگی تو پھر خاص طور سے دل کو کیوں ذکر کیا گیا؟