قرآن
ﰋ
ﱖ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٦ ٦ ﭣ ﭤ ﭥ ٧ ٧ ﭧ ﭨ ﭩ ٨ ٨
ﰌ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٤ ٤ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
٥ ٥ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ٦ ٦
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ٧ ٧ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ٨ ٨
ﰍ
ﮡ ﮢ ٣ ٣ ﮤ ﮥ ﮦ ٤ ٤ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ٥ ٥ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٦ ٦ ﯔ ﯕ ﯖ
٧ ٧ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٨ ٨ ﯝ ﯞ ﯟ ٩ ٩ ﯡ
ﯢ ﯣ ١٠ ١٠ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ١١ ١١ ﯫ ﯬ ﯭ ١٢ ١٢
فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا ٥ إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا ٦
کلمہ(العسر) (سختی،مشکل) دوبار لایا گیا اور دونوں بار معرفہ ہی استعمال کیا گیا جس کا معنیٰ ہے کہ وہ ایک ہی ہے۔اس کے بالمقابل (يُسْرًا) (آسانی) دونوں بار نکرہ ہی وارد ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ وہ دو ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سختی دو آسانیوں کے بیچ میں ہے:ایک ا س سے پہلے اور دوسری اس کے بعداور ایک سختی دوآسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔ (ابن القیم: ۳؍۳۳۳)
سوال:ان دوآیتوں پر غورکرکے واضح کیجئے کہ آسانی سختی سے بہت زیادہ وسیع ہے؟
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ٤
اس سے مراد انسان کا معتدل ہونا اور مضبوط جوان ہونا ہے۔ابوبکر بن طاہر رحمہ اللہ کہتے ہیں:اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو عقل سے مزین کیاہے، اوامر کی ادائیگی کی توفیق بخشی،خیر وشیر میں تمیز کی ہدایت دی،سیدھے قدوقامت والا بنایا اور وہ کھانا اپنے ہاتھ سے کھاتا ہے۔ اندر اور باہر سے اللہ کی سب سے حسین مخلوق ہے،اس کا جسم خوبصورت ہے،سر اور اس کے اندر کی چیزیں بہت بہترین انداز میں فٹ کی گئی ہیں،سینہ اپنے اندرونی اعضاء کے ساتھ بالکل مناسب ہے،پیٹ اپنے اعضاء کے ساتھ درست ہے،شرمگاہ اپنے آس پاس کی جگہوں کے ساتھ صحیح مقام پر ہے،دونوں ہاتھ اور ان کی پکڑ عمدہ ہے اور دونوں پیر ہر اعتبار سے جسم کا وزن اٹھانے کے لائق ہیں۔ (القرطبی: ۲۲؍۳۷۰–۳۶۸)
سوال:انسان کی اچھی بناوٹ پر اللہ کے احسان جتانے کی کیا وجہ ہے؟ اور اس اچھائی کے انسانی جسم میں کیا نمونے ہیں؟
ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ٥
اس آیت سے ابتداء ً یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس میں قیامت کے دن کافر کی حالت کی جانب اشارہ ہے اور وہ دنیا میں عمدہ اور حسین صورت میں ہونے کے بعد آخرت میں انتہائی بدصورت اور قبیح صورت والا ہوجائیگااسی سبب سے کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا ہوگا۔ (الألوسی: ۳۰؍۱۷۶)
سوال:انسان کو نچلے درجہ میں پہنچادینے کا کیا مفہوم ہے؟
أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَحۡكَمِ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٨
اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے جو کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کرتا،اس کے عدل کا تقاضہ ہے کہ قیامت قائم کرے اور دنیا میں جس نے ظلم کیا ہوگا اس سے مظلوم کا انتقام لے۔(ابن کثیر: ۴؍۵۲۹)
سوال:یہ آیت دوبارہ زندہ کئے جانے اور بدلہ دیے جانے پر کس طرح دلالت کرتی ہے؟
ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٣ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ٤
علم سکھانے میں قلم کے ذریعہ لکھنے کو خصوصیت سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اسی کے ذریعہ علوم ومعارف کو دوام حاصل ہوتا ہے اور دین ودنیا کی مصلحتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ (ابن جزی: ۲؍۵۹۰)
سوال:آیت میں تعلیم کو قلم کے ساتھ مخصوص کرنے میں کیا راز ہے؟
ٱقۡرَأۡ وَرَبُّكَ ٱلۡأَكۡرَمُ ٣ ٱلَّذِي عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ٤ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ ٥
اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا،اللہ نے اسے علم کے ذریعہ عزت وشرف سے نوازا اور یہی وہ معیار ہے جس کے ذریعہ ہمارے والد آدم علیہ السلام فرشتوں پر ممتاز قرار پائے۔(ابن کثیر: ۴؍۵۳۰)
سوال:وہ کون سی صفت ہے جس کی وجہ سے آدم علیہ السلام اوران کی اولاد تمام مخلوقات میں ممتاز قرار پائے؟
كَلَّآ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَيَطۡغَىٰٓ ٦ أَن رَّءَاهُ ٱسۡتَغۡنَىٰٓ ٧ إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجۡعَىٰٓ ٨
اللہ تعالیٰ انسان کے بارے میں بتارہا ہے کہ جب وہ مالدار ہوجاتا ہے اور دوسروں سے بے نیاز ہے تو اتراتا ہے،گھمنڈ کرتا ہے اور سرکشی پر اترآتا ہے۔پھر اللہ نے ایسے انسان کو ڈانٹتے،دھمکاتے اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: (إن إلى ربك الرجعى) اللہ تعالیٰ کی جانب ہی تمہیں لوٹنا ہے اور اسی کے پاس تمہارا ٹھکانہ ہے اور وہ یقینا تم سے تمہارے مال کا حساب لیگا کہ تم نے اسے کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا۔ (ابن کثیر: ۴؍۵۳۱)
سوال:مالدار ہونے پر انسان پر کیا واجب ہوتاہے؟