قرآن
ﰉ
ﱖ
ﭝ ١٢ ١٢ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ١٣ ١٣ ﭤ ﭥ ﭦ ١٤ ١٤
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ١٥ ١٥ ﭭ ﭮ ﭯ ١٦ ١٦ ﭱ
ﭲ ١٧ ١٧ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ١٨ ١٨ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ١٩ ١٩ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٢٠ ٢٠ ﮆ ﮇ ٢١ ٢١
ﰊ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ٤ ٤ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ٥ ٥ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٦ ٦ ﮥ ﮦ ﮧ
٧ ٧ ﮩ ﮪ ﮫ ٨ ٨ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٩ ٩
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ١٠ ١٠ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ١١ ١١
ﰋ
ٱلَّذِي يُؤۡتِي مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ ١٨ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ ١٩
آیت میں اس جانب رہنمائی ہے کہ متقی شخص کو مخلوق کا احسان نہیں لینا چاہئے اور اگر کسی وجہ سے ضرورت پڑجائے تو جلدہی اس کا بدلہ چکا دینا چاہئے تاکہ اس پر مخلوق میں سے کسی کا کوئی احسان نہ رہ جائے کہ اسے اس کا بدلہ دینے کی حاجت رہے تو اس طرح اس کے سارے اعمال اللہ کے لئے خالص
ہوجائیں گے اور مخلوق کا بوجھ اتارنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ (ابن القیم: ۳؍۳۲۶)
سوال:متقی شخص مخلوق کا احسان لینے کی بابت کیا موقف اختیار کرتا ہے اور کیوں؟
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةٖ تُجۡزَىٰٓ ١٩ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٢٠ وَلَسَوۡفَ يَرۡضَىٰ ٢١
متقی آدمی کسی کا احسان چکانے کے لئے خیر نہیں کرتا بلکہ ابتداء ً اللہ کے لئے پورے خلوص سے کرتا ہے۔(ابن جزی: ۲؍۵۸۰)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مال خرچ کرنے والے کے لئے اپنی رضا ایک اہم شرط کے ساتھ مشروط بتائی ہے۔وہ کیا ہے؟
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ٣ وَلَلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لَّكَ مِنَ ٱلۡأُولَىٰ ٤
حال یہ ہے کہ آخرت آپ کے لئے دنیا سے بہتر ہے اور آپ اسی کو دنیا پر ترجیح بھی دے رہے ہیں تو آپ کا رب بھی آپ کو چھوڑنہیں سکتا۔اس میں مومنوں کے لئے بندے کو رب سے قریب کرنے والی چیز کی طرف رہنمائی ہے اور کافروں کو اس بات پر پھٹکارا گیا ہے کہ وہ دنیا میں مکمل طور سے پھنسے اور آخرت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔(الألوسی: ۱۵؍۳۷۹)
سوال:آیت میں غورکرکے واضح کیجئے کہ رب کی قربت چاہنے والے بندے میں کون سی صفت ہونی چاہئے.
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡ ١٠
اس حکم میں مال کا سائل اور علم کا سائل دونوں داخل ہیں،اسی وجہ سے معلم طالب علم کے ساتھ اچھا سلوک کرنے،اس کی عزت کرنے اور اس کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنے کا پابند ہے کیونکہ اس سے طالب علم کا اپنے مقصد تک پہنچنا آسان ہوتا ہے اور اس کی توقیر بھی ہوتی ہے جو بندوں او ر مخلوق کو نفع پہنچانے کے لئے تگ ودو کرتا ہے۔ (السعدی؍۹۲۸)
سوال:کیا سائل کو جھڑکنے کی ممانعت مال کے سائل کے ساتھ خاص ہے؟واضح کیجئے.
وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ ١١
اللہ کی نعمت کا بیان اس کے شکر کا باعث اور نعمت دینے والے سے محبت کرنے پر ابھارنے والا ہے اس لئے کہ لوگوں کے دلوں میں فطری طور سے احسان کرنے والے کی محبت ہوتی ہے۔(السعدی؍۹۲۹)
سوال:اللہ کی نعمتوں کا بیان ایمان میں اضافہ کا ذریعہ کیسے ہوتا ہے؟
وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ ١١
نعمت کا ذکر یعنی اس کا شکر ادا کرناہے اسی لئے بعض سلف نے یہ مستحب سمجھا ہے کہ اگر آدمی نے کوئی اچھائی کی ہو تو اسے بیان کرے جبکہ ریا ونمود اور گھمنڈ نہ ہو اور احساس ہو کہ دوسرے اس عمل میں اس کی اقتداکریں گے۔ (الألوسی: ۱۵؍۳۸۳)
سوال:اللہ کی نعمتیں بیان کرنے کا حکم کیوں ہے؟
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ ١
خصوصیت سے سینہ کا ذکر کیا گیا کیونکہ وہی علوم ومعارف اور احساسات وادراکات جیسی مختلف نفسانی حالتوں کی جگہ ہے۔آیت سے مراد نبیﷺ پر اللہ کی نعمت کا ذکر ہے کہ اس نے آپ کا سینہ کھول دیا اور کشادہ کیا جس کی وجہ سے آپ دعوت کے مشکل کام کو انجام دے سکے، نبوت کا بوجھ اٹھاسکے اور وحی کی حفاظت کرسکے۔(الشوکانی:۵؍۴۶۱)
سوال:آیت کریمہ میں سینہ کو خصوصیت سے کیوں ذکر کیاگیا اور اس سے کیا مراد ہے؟