قرآن
ﰁ
ﱖ
ﰂ
٣ ٣ ﭥ ﭦ ﭧ ٤ ٤ ﭩ ﭪ ﭫ ٥ ٥ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ٦ ٦ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ٧ ٧ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٨ ٨ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٩ ٩ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ١٠ ١٠ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ١١ ١١ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ١٢ ١٢ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ١٣ ١٣ ﯙ ﯚ ﯛ ١٤ ١٤
ﯝ ﯞ ﯟ ١٥ ١٥ ﯡ ﯢ ﯣ ١٦ ١٦ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
١٧ ١٧ ﯪ ﯫ ١٨ ١٨ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ١٩ ١٩ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ٢٠ ٢٠ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٢١ ٢١ ﯽ ﯾ ﯿ ٢٢ ٢٢
وَشَاهِدٖ وَمَشۡهُودٖ ٣
مخلوق میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کے خلاف گواہی دی جاتی ہے۔ اس کے بغیر کائنات کا نظام چل بھی نہیں سکتا تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مخلوق ایک تو دوسرے پر گواہ ہو،اس کا نگراں اوراس کی خبر رکھنے والا ہو اور اللہ تبارک وتعالیٰ جو خالق ہے وہ اپنے بندوں سے باخبر نہ ہو اور ان کا نگراں نہ ہو!(ابن القیم: ۳؍۲۷۸)
سوال:یہ بتانے کا کیافائدہ ہے کہ مخلوق میں سے کوئی گواہ ہے اورکوئی وہ ہے جس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دی جاتی ہو؟
قُتِلَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ ٤ ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلۡوَقُودِ ٥
ہمارے علماء کہتے ہیں: اللہ عزوجل نے اس آیت میں امت محمدیہ کے مومنین کو بتایا ہے کہ ان سے پہلے ایمان لانے والوں کو کتنی سخت تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں۔اللہ اس کے ذریعہ مومنوں کو حوصلہ دلانا چاہتا ہے۔پھر نبیﷺ نے بھی مومن لڑکے کا قصہ بیان کیا ہے تاکہ ہم بھی تکلیفوں،مشقتوں اور دکھوں کو برداشت کرنے میں اس لڑکے کو اپنا نمونہ بناسکیں جس نے حق کی خاطر صبر کیا،مضبوطی سے ایمان پر جمارہا اورنہایت صبر وضبط سے دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیتا رہا حتی کہ اپنی جان قربان کردی۔بہت سے لوگ اس کے ہاتھ پر ایمان لائے حالانکہ وہ چھوٹا بچہ تھا۔(القرطبی: ۲۲؍۱۹۲–۱۹۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے ہم سے خندق والوں کا قصہ کیوں بیان کیا ہے؟
ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ ٩
(الذي له ملك السموات والأرض) آسمان اور زمین کی ہر چیز اللہ کی مخلوق اور اس کی غلام ہے،اللہ مالک ہے اور وہ اپنے مملوک کی طرح ان سب میں تصرف کرتا ہے(والله على كل شيء شهيد) اور اللہ اپنے علم،سننے او ر دیکھنے کے اعتبار سے ہر چیز پر گواہ ہے تو کیا اللہ کے مقابلہ میں سرکشی کرنے والے لوگ ڈرتے نہیں کہ اللہ انہیں پکڑ لے؟ یا انہیں معلوم نہیں کہ وہ سب اللہ کے غلام ہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر کسی غلام کو دوسرے غلام پر کوئی غلبہ نہیں ہوتا؟کیا وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ اللہ ان کے تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور انہیں ان کے عمل کا بدلہ دے گا؟ بیشک کافر تو دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور جاہل سیدھے راستہ سے دور جہالت اور اندھے پن میں بھٹک رہا ہے۔ (السعدی؍۹۱۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے خندق والے ظالم سرکشوں کا ذکر کرنے کے بعد اپنے زمین وآسمان کامالک ہونے کا ذکر کیوں کیا ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُواْ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَتُوبُواْ فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ ١٠
حسن بصری(رحمہ اللہ) کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے کرم اور فیاضی پر غور کیجئے کہ ان ظالموں نے اللہ کے نیک بندوں کو قتل کردیا پھر بھی اللہ انہیں توبہ کرنے اور معافی مانگ لینے کی دعوت دے رہا ہے۔ (ابن کثیر: ۴؍۴۹۷)
سوال:آیت سے اللہ تعالیٰ کا کرم اور فیاضی کیسے سمجھی جاسکتی ہے؟
وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلۡوَدُودُ ١٤
علماء کہتے ہیں:‘‘مودّت’’وہ خالص محبت ہےجس میں کوئی کھو ٹ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے (الْغَفُوْرُ) کے ساتھ(الْوَدُوْدُ) صفت ذکر کی ہے اس میں یہ باریک نکتہ ہے کہ اگر گناہ گار بندے توبہ کرلیں اور اللہ سے رجوع ہوجائیں تو اللہ ان کے گناہ بخش دیگا اور ان سے محبت بھی کریگا۔ (السعدی؍۹۱۹)
سوال:اللہ تعالیٰ کے آیت میں اپنی صفت”الغفور“ کے ساتھ ”الودود“ذکر کرنے میں کیا راز ہے؟
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡجُنُودِ ١٧ فِرۡعَوۡنَ وَثَمُودَ ١٨
ان آیتوں کے ذریعہ نبیﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ کی کافر قوم اسی سے دوچار ہوگی جس سے وہ لوگ دوچار ہوئے۔معنیٰ یہ ہے کہ: آپ کو فرعون اور ثمود کے واقعات معلوم ہوچکے ہیں،آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور ان کے ساتھ کیا کیا گیا!اب آپ اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے اس قانون اور سزا سے ڈرائیے اور انہیں خبردار کیجئے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نہ آجائے جو فرعون اور ثمود پر آیا تھا۔ (الألوسی: ۳۰؍۳۹)
سوال:اس آیت میں کفار قریش کے لئے دھمکی ہے اور انہیں خبردار کرنا ہے۔وہ کس طرح؟وضاحت سے بتائیے.
بَلۡ هُوَ قُرۡءَانٞ مَّجِيدٞ ٢١ فِي لَوۡحٖ مَّحۡفُوظِۢ ٢٢
(في لوح محفوظ): قرآن ہر طرح کی تبدیلی،زیادتی اور کمی سے محفوظ ہے، اسی کے ساتھ شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔لوح محفوظ وہ ہے جہاں اللہ نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے۔ قرآن کا لوح محفوظ میں ہونا اللہ کے نزدیک قرآن کی جلالت قدر،بلند مرتبہ والا ہونے اور مستحکم ہونے کی دلیل ہے۔(السعدی؍۹۱۹)
سوال:آیت پر غور کرتے ہوئے بتائیے کہ اللہ کے یہاں قرآن کا کیا مقام ہے؟