قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭠ ﭡ ٦٢ ٦٢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
٦٣ ٦٣ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ٦٤ ٦٤ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
٦٥ ٦٥ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ٦٦ ٦٦ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ٦٧ ٦٧
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٦٨ ٦٨ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ٦٩ ٦٩ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٧٠ ٧٠
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۢ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡٔاً وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ
شایداس کا فائدہ یہ ہے کہ جب تم انہیں یہ بات کہوگے اور یہ دعوت دوگے اور حقیقت میں اہلِ علم تم ہی ہوتو یہ چیز ان پر حجت ودلیل قائم کرنے میں ایک اور اضافہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہٹ دھرم مخالفین کے خلاف اہلِ علم کو دلیل اورحجت کے طور پر گواہ بنایا ہے۔ (السعدی: ۱۳۷)
سوال:اہلِ کتاب کو کلمۂ سواء یعنی مشترک بات کی طرف دعوت دینے کا کیا فائدہ ہے؟
قُلۡ يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ كَلِمَةٖ سَوَآءِۢ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ أَلَّا نَعۡبُدَ إِلَّا ٱللَّهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهِۦ شَيۡٔاً وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ
توحید،اچھائی کی جڑ تو ہے ہی،ساتھ ہی وہ سب سے بڑا انصاف بھی ہے۔ (ابن تیمیہ:۲؍۸۰)
سوال:توحید سب سے بڑا عدل وانصاف ہے۔اسے بیان کیجئے.
وَلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُولُواْ ٱشۡهَدُواْ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ ٦٤
اس میں ان رافضی شیعوں پرردہے جو کہتے ہیں کہ:کسی شرعی بنیاد وسند کے جانے بغیر ہی امام کا قول قبول کرنا فرض ہے اور امام ،اللہ کی حرام کردہ چیز کو ، کسی شرعی دلیل وبنیاد کو بتائے بغیر حلال کرسکتا ہے۔ (القرطبی:۵؍۱۶۲)
سوال:اس آیت کے مضمون سے آپ رافضی شیعوں پر رد کس طرح کریں گے؟
هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ حَٰجَجۡتُمۡ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيۡسَ لَكُم بِهِۦ عِلۡمٞۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٦٦
آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس شخص کے پاس علم نہ ہو ،اس کے لئے علمی بحث ومباحثہ کرنا منع ہے اور جس کے پاس ثبوت اور تحقیق نہ ہو اس کے لئے یہ ناجائز ہے۔ (القرطبی:۵؍۱۶۵)
سوال:علمی مسائل میں کس شخص کو بحث ومباحثہ کرنے کا حق ہے؟
مَا كَانَ إِبۡرَٰهِيمُ يَهُودِيّٗا وَلَا نَصۡرَانِيّٗا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفٗا مُّسۡلِمٗا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٦٧
آیت میں علم تاریخ کے حصول پر بھی ابھارا گیا ہے کہ یہ علم بہت سے ان باطل اقوال اور جھوٹے دعووں کی تردید کا ہتھیار ہے جو تاریخ سے معلوم اور ثابت ہونے والی چیزوں کے خلاف ہوں۔یعنی تاریخ سے ان کے جھوٹ ہونے کا پتہ چل جاتا ہے۔ (السعدی:۱۳۴)
سوال:دینی علوم پڑھنے والوں کے لئے علم تاریخ کی کیا اہمیت ہے؟
وَدَّت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يُضِلُّونَكُمۡ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ٦٩
ان کے خود اپنے آپ کو گمراہ کرنے کاایک مطلب یہ بیان کیا گیاہے کہ:ان کے نفس نے گمراہی کو ان کی نگاہوں میں خوشنما اور خوبصورت بنادیا۔اس وجہ سے وہ گمراہی پر اڑے رہے حالانکہ دلیلوں کے واضح ہوجانے پر وہ ہدایت کی پیروی کرنے کی قدرت وصلاحیت رکھتے تھے ۔ (الألوسی:۳؍۱۹۹)
سوال:انسان اپنے آپ کو گمراہ کیسے کرتا ہے؟
وَدَّت طَّآئِفَةٞ مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَوۡ يُضِلُّونَكُمۡ
یہ بات معلوم ہے کہ آدمی اگر کسی چیز کو پسند کرتا ہے تو اپنی اس مراد کو حاصل کرنے میں پوری طاقت جھونک دیتا ہے۔چنانچہ اہل کتاب کے اس گروہ کا شیوہ ہے کہ وہ مومنوں کی مخالفت میں ہر ممکن طریقہ سے ان کے اندر شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور بھرپور محنت صرف کرتے ہیں۔ (السعدی:۱۳۴)
سوال: مسلمانوں کے لئے اہل کتاب کیا پسند کرتے ہیں؟