قرآن
ﯵ
ﱕ
ﭚ ﭛ ١٤ ١٤ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ١٥ ١٥
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ١٦ ١٦ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ١٧ ١٧ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٨ ١٨ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ١٩ ١٩ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ٢٠ ٢٠ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ٢١ ٢١ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ٢٢ ٢٢ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ٢٣ ٢٣ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ٢٤ ٢٤ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٢٥ ٢٥ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ٢٦ ٢٦ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ٢٧ ٢٧ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ
ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ٢٨ ٢٨
وَأَلَّوِ ٱسۡتَقَٰمُواْ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسۡقَيۡنَٰهُم مَّآءً غَدَقٗا ١٦
اس آیت میں طریقہ سے مراد اسلام کا راستہ اللہ کی اطاعت ہے یعنی اگر یہ اس راستے پر ثابت قدم رہے تو اللہ ان کی روزیوں میں وسعت و برکت عطا فرمائےگا، یہ اللہ کے اس کلام کی طرح ہے: ﴿وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ﴾ (الأعراف: 96) اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان وزمین کی برکتیں کھول دیتے۔ (ابن جزی: 2؍497)
سوال: اس آیت کی روشنی میں دنیا میں لوگوں کی استقامت کا ثمرہ بیان کیجئے ؟
وَأَلَّوِ ٱسۡتَقَٰمُواْ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسۡقَيۡنَٰهُم مَّآءً غَدَقٗا ١٦
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جہاں پانی ہوگا وہاں مال ہوگا، اور جہاں مال ہوگا وہاں فتنہ ہوگا، اور وافر وکثیر پانی کی مثال مال سے دی گئی ہے اس لئے کہ تمام خیر ورزق بارش کی بدولت ہے، اسی وجہ سے اس کے قائم مقام رکھا گیا۔ (القرطبی:21؍295)
سوال: آیت میں پانی کا ذکر کیوں کیا گیا؟
وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا ١٨
کہا جاتا ہے کہ اس کا مطلب مسجدوں کو اللہ کے ذکر کے لئے خاص کرو، انہیں لہو ولعب، تجارت، بیٹھنے کی جگہ او ر راستہ نہ بناؤ۔ اور غیر اللہ کے لئے ان میں کوئی بھی حصہ نہ رکھو۔ (القرطبی: 21؍300)
سوال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مساجد کو کس خصوصیت سے نوازاہے؟
قُلۡ إِنِّي لَآ أَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرّٗا وَلَا رَشَدٗا ٢١
اس میں بڑی دھمکی ہے اور اللہ جل وعلا کی جانب سپردگی ہے، اور اس بات کا بیان ہے کہ اللہ سبحانہ آپ کو آپ کے بہترین عمل اور ان کی مذموم حرکتوں کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ (الألوسی: 15؍105)
سوال: نبی ﷺ سے نفع وضرر کی نفی کی دلالت کیا ہے؟
قُلۡ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ ٱللَّهِ أَحَدٞ وَلَنۡ أَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدًا ٢٢
یعنی میں کسی سے پناہ نہیں طلب کرتاکہ وہ مجھے اللہ کے عذاب سے بچائے۔جب رسولﷺ جو مخلوق میں سب سے کامل ہیں کسی نفع ونقصان کے مالک نہیں ، اگر اللہ ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرے تو وہ اسے ٹال نہیں سکتے۔ پھر دوسرے لوگ بدجہ اولیٰ کچھ نہیں کر سکتے۔ (السعدی: 891)
سوال:یہ آیت ان لوگوں کی کی گمراہی پر دلالت کرتی ہے جنہوں نے اپنے دلوں کو اولیاء اور صالحین سے جوڑ لیا ہے؟ اس کی وضاحت کیجئے؟
عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلَىٰ غَيۡبِهِۦٓ أَحَدًا ٢٦ إِلَّا مَنِ ٱرۡتَضَىٰ مِن رَّسُولٖ
پیامبر خواہ فرشتہ ہو یابشر یہ آیت دونوں کو شامل ہے؟ (ابن کثیر 4؍433)
سوال: کیا غیب کے کچھ حصے کی اطلاع انسانی پیغمبروں کے ساتھ خاص ہے؟اور کیا فرشتے غیب جانتے ہیں؟
لِّيَعۡلَمَ أَن قَدۡ أَبۡلَغُواْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّهِمۡ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيۡهِمۡ وَأَحۡصَىٰ كُلَّ شَيۡءٍ عَدَدَۢا ٢٨
ا سكا مطلب یہ ہے کہ چیزوں کے تعلق سے اللہ کا علم اجمالی نہیں بلکہ تفصیلی ہے، یعنی اللہ نے اپنی مخلوقات کے ہر فر د کا علیٰحدہ طور پر احصاء کر رکھا ہے۔ (الشوکانی: 5؍313)
سوال: چیزوں کے تعلق سے اللہ کا علم اجمالی ہے یا تفصیلی ؟