قرآن
ﯳ
ﱕ
ﭜ ﭝ ١٢ ١٢ ﭟ ﭠ ﭡ ١٣ ١٣ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ١٤ ١٤ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ١٥ ١٥ ﭯ ﭰ ١٦ ١٦ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ١٧ ١٧ ﭷ ﭸ ١٨ ١٨ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١٩ ١٩ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ٢٠ ٢٠ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٢١ ٢١ ﮊ ﮋ ٢٢ ٢٢ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ٢٣ ٢٣ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٢٤ ٢٤ ﮙ
ﮚ ٢٥ ٢٥ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٢٦ ٢٦ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ٢٧ ٢٧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٢٨ ٢٨ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ٢٩ ٢٩ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ٣٠ ٣٠ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ٣١ ٣١
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٣٢ ٣٢ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
٣٣ ٣٣ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٣٤ ٣٤ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٣٥ ٣٥
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٣٦ ٣٦ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ
ﰇ ٣٧ ٣٧ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ٣٨ ٣٨ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ
ﰖ ﰗ ٣٩ ٣٩ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ٤٠ ٤٠
يُبَصَّرُونَهُمۡۚ يَوَدُّ ٱلۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِي مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِئِذِۢ بِبَنِيهِ ١١ وَصَٰحِبَتِهِۦ وَأَخِيهِ ١٢ وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِي تُـٔۡوِيهِ ١٣ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا ثُمَّ يُنجِيهِ ١٤
اللہ جل ثناؤہ نے بیٹوں کے ذکر سے ابتدا کی پھر بیوی اورپھر بھائی کا ذکر کیا، اس سے بندوں کویہ بتلانا مقصود ہے کہ اگر کافر کو اجازت مل جائے تو اس دن اس پر نازل ہونے والی عظیم مصیبت سے اپنی جان بچانے کے لئے دنیا میں سب سے محبوب اور نسب میں سب سے قریبی شخص کا فدیہ دے گا۔ (الطبرى: 23؍606)
سوال: اللہ نے انسان کے اقرباء کی ترتیب اس آیت میں موجود ترتیب کے اعتبار سے کیوں قائم کی؟
۞إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا ١٩ إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعٗا ٢٠ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلۡخَيۡرُ مَنُوعًا ٢١ إِلَّا ٱلۡمُصَلِّينَ ٢٢
نفس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ ارادہ اور عمل کرنے والا ہے، اگر اسے نیک ارادے کی توفیق نہیں ملتی تو فاسد ارادہ اور مضر عمل میں واقع ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا * إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعٗا * وَإِذَا مَسَّهُ ٱلۡخَيۡرُ مَنُوعًا﴾؛ اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ انسان کی تخلیق اس صفت پر کی گئی ہے، اور جو شخص كسى دوسرى صفت کا حامل ہو تو محض اس وجہ سے کہ اللہ نے اپنے فضل واحسان سے اس کو پاک وصاف کیا ہے۔ (ابن القیم: 3؍196)
سوال: جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ ہر انسان ارادہ کا حامل ہے تو آپ کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
۞إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا ١٩ إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعٗا ٢٠ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلۡخَيۡرُ مَنُوعًا ٢١ إِلَّا ٱلۡمُصَلِّينَ ٢٢
بے صبری کی صفت کو اللہ تعالیٰ نے ان مخلوق کے لئے بطور مذمت بیان فرمایا، یہی وجہ ہے کہ نمازیوں کو اس سے مستثنی قرار دیا، اس لئے کہ ان کی نماز یں انہیں دنیا سے لا پرواہی پر ابھارتی ہیں، نہ وہ اس کے تکلیفوں سے گھبراتے ہیں اور نہ اس کی بھلائیوں میں بخل کرتے ہیں۔(ابن جزی: 2؍495)
سوال: اللہ تعالیٰ نے نمازیوں کو بے صبری کی صفت سے مستثنی کیوں کیا؟
وَٱلَّذِينَ هُم مِّنۡ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشۡفِقُونَ ٢٧
(جنتی لوگ)اعمال فاضلہ کی انجام دہی کے باوجود انہیں کمتر سمجھتے ہوئے نیز اللہ عزوجل کی شان کو عظیم تر سمجھتے ہوئے اپنے نفس پر خوف کھاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَٱلَّذِينَ يُؤۡتُونَ مَآ ءَاتَواْ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ﴾ [المؤمنون: 60]. اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی جانب لوٹنے والے ہیں۔ (الألوسی: 15؍71 )
سوال: جس قدربندے کے اندر اللہ کی خشیت زیادہ ہوگی اس کے نیک عمل میں اضافہ ہوگا، اس کی وضاحت فرمائیں؟
وَٱلَّذِينَ هُم بِشَهَٰدَٰتِهِمۡ قَآئِمُونَ ٣٣
عبادت کی تمام انواع میں صرف اللہ کی عبادت کی جائے گی، یہی لاالہ الا اللہ کی گواہی کی مکمل بجا آورى ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم پر ہر اس شخص کو حرام کردیا ہے جس نے لا الہ الا اللہ کی حقیقی گواہی دی، اور اس شخص کا جہنم میں د اخل ہونا محال ہے جس نے اس گواہی کی حقیقت کومکمل طور سے ادا کیا اور اس پر عمل کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (والذين هم بشهاداتهم قائمون) یہ شخص اپنی گواہی پر ظاہر وباطن اور قلب وقالب ہر صورت میں قائم ہے۔ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کی گواہی مردہ ہوچکی ہے، اور بعض کی سوئی ہوئی ہے جب جگاؤ تو جاگتی ہے۔ (ابن القیم: 3؍197)
سوال: لا الہ الا اللہ کی گواہی کیسے متحقق ہوتی ہے؟
ٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَاتِهِمۡ دَآئِمُونَ ٢٣ وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُونَ ٣٤
نماز کو دوبارہ ذکر نے کی وجہ یہ ہے کہ پہلی بار کی موصوف کردہ صفت دوسری بار کی موصوف کردہ صفت سے مختلف ہے، اس لئے کہ دوام کا معنی نماز کو چھوڑ کر دوسرے مشاغل میں مشغول نہ ہونا جیسا کہ گزرچکا ہے۔ اورحفاظت کا معنی ان امور کا خیال رکھنا جن کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ (الشوکانی: 5؍293)
سوال: اس سورہ میں نماز کا ذکر دوبار کیوں کیا گیا؟
كَلَّآۖ إِنَّا خَلَقۡنَٰهُم مِّمَّا يَعۡلَمُونَ ٣٩
اس کلام سے تین قسم کی باتیں مقصود ہیں: ایک: انسان کی تحقیر اور تکبر کرنے والوں پر رد۔ دوسری بات: کفار کی جنت میں داخل ہونے کی خواہش کی تردید، گویا یوں کہا جارہا ہے: ہم نے تمہیں اسی چیز سے پیداکیا جس سے تمام لوگوں کو پیدا کیا، اس لئے جنت میں کوئی بھی شخص عمل صالح کے ذریعہ ہی داخل ہوگا، تم تمام لوگ خلقت میں برابر ہو۔ تیسری بات: بعث پر دلیل قائم کرناکہ اللہ نے انہیں حقیر پانی سے پیدا کیا تو وہ ان کے لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿أَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّن مَّنِيّٖ يُمۡنَىٰ﴾ (القیامۃ: ۷۳) کیا وہ ایک گاڑھے پانی کا قطرہ نہ تھا جو ٹپکایا گیا۔ (ابن جزی: 2؍495)
سوال: اس آیت میں تین معانی کو جمع کیاگیا ہے، وہ کونسے ہیں؟