قرآن
ﯱ
ﱕ
ﭜ ٤٣ ٤٣ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ٤٤ ٤٤ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٤٥ ٤٥ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ٤٦ ٤٦ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
٤٧ ٤٧ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ٤٨ ٤٨ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ٤٩ ٤٩ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
٥٠ ٥٠ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٥١ ٥١ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٥٢ ٥٢
ﯲ
ﯝ ٤ ٤ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٥ ٥ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ٦ ٦ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٧ ٧ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ٨ ٨
خَٰشِعَةً أَبۡصَٰرُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ ٤٣
خشوع فروتنی اور ذلت کوکہتے ہیں، اور خشوع کی نسبت نگاہوں کی طرف ہے، کیونکہ اس کے اثرات نگاہوں پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ (الشوکانی: 5؍275)
سوال: آیت کریمہ میں خشوع کی نسبت آنکھوں کی طرف کیوں کی گئی ہے؟
وَقَدۡ كَانُواْ يُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ وَهُمۡ سَٰلِمُونَ ٤٣
ابراہیم التیمی فرماتے ہیں: (حالانکہ وہ سجدے کیلئے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جبکہ صحیح سالم تھے) یعنی اذان واقامت کے ذریعہ فرض نماز کی جانب۔
اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں: وہ حی علی الفلاح (کامیابی کی جانب آؤ) سنتے تھے اور نہیں آتے تھے (البغوی: 4؍454)
سوال: اللہ کے فرمان: (وقد كانوا يدعون إلى السجود)کا مفہوم کیا ہے؟
فَذَرۡنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِۖ سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٤
یعنی ہم انہیں مہلت اور صحت ونعمت میں استمرار واضافہ عطا کر کے عذاب کی جانب ایک ایک قدم لے جائیں گے اور انہیں شعور بھی نہ ہوسکے گا کہ یہ مہلت ہے بلکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ یہ مومنوں پر ان کی ترجیح وفضیلت ہے جبکہ در حقیقت وہ ان کی ہلاکت کا سبب ہے۔ (الألوسی: 15؍14)
سوال: جھٹلانے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی مہلت کی کیا علامت ہے؟
سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٤
سفیان الثوری فرماتے ہیں: (اللہ کا فرمان کہ ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا یعنی) ہم ان کو بھرپور نعمتیں دیں گے اور شکر بھلادیں گے، اورحضرت حسن کہتے ہیں: کتنے احسان کے باوجود مہلت میں ہیں، اور کتنے تعریف کے فتنہ میں مبتلا ہیں، اور کتنے (لوگ گناہوں پر) پردہ پڑنے کی وجہ سے دھوکے میں ہیں۔ ابو ورق کہتے ہیں: یعنی جب وہ کوئی گناہ کرتے ہیں تو ہم ان کو ایک نئی نعمت عطا کرتے ہیں اور استغفار بھلا دیتے ہیں………، حدیث میں ہے: کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کہا: اے رب! میں تیری کتنی نافرمانی کرتا ہوں اور تو مجھے سزا نہیں دیتا۔ کہتے ہیں: اللہ نے اس زمانے کے نبی کی جانب وحی کی کہ اس سے کہیں: تم پر میری کتنی سزائیں ہیں اور تجھے پتہ بھی نہیں ہے۔ تمہاری آنکھوں کا جمود اور دل کی سختی میری جانب سے مہلت اور سزا ہے اگر تم سمجھ لو۔ (القرطبی: 21؍180)
سوال: آیت میں استدراج (مہلت) سے کیا مراد ہے؟
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٞ ٤٨
(اس آیت میں جن شخصیت کا ذکر ہے) وہ یونس علیہ السلام ہیں،اللہ نے انہیں صاحب الحوت سے موسوم کیا؛ اس لئے کہ مچھلی نے انہیں نگل لیا تھا، انہیں ذو النون بھی کہا جاتا ہے، نون مچھلی کو کہتے ہیں، ہم نے سورہ انبیاء اور صافات میں ان کے قصے ذکرکئے ہیں۔ اللہ نے محمد ﷺ کو پریشان ہونے اور جلد بازی میں ان کی مانندہونے سے منع فرمایا جب وہ غصہ ہوکر چل دیئےتھے۔ (ابن جزی: 2؍494)
سوال: کس معاملے میں نبی ﷺ کو ان کے مانند ہونے سے منع کیا گیا؟
وَإِن يَكَادُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَيُزۡلِقُونَكَ بِأَبۡصَٰرِهِمۡ لَمَّا سَمِعُواْ ٱلذِّكۡرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُۥ لَمَجۡنُونٞ ٥١
یعنی ا گر اللہ آپ کو ان سے محفوظ ومامون نہ رکھتا تو وہ آپ کواپنی نگاہوں سے گھور گھور کر پھسلادیتے،یعنی وه آپ سے بغض کی وجہ سے حسد کرتے۔ یہ آیت اللہ کے حکم سے نظربد لگنے اور مؤثر ہونے کی دلیل ہے۔ (ابن کثیر: 4؍408)
سوال: اس آیت سے نظر بد کے حق ہونے پر استدلال کیا گیا ہے، اس کی وضاحت کیجئے ؟
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٥٢
یعنی حالت یہ ہے کہ یہ قرآن یا رسول ﷺ (ما هو إلا ذكر)صرف ذكر شرف و موعظت ہیں پوری دنیا کے لئے۔(للعالمين) یعنی با عزت وکم تر تمام افراد کے لئے۔ ہرفرد جانتا ہے کہ جلالت معانی، حلاوت الفاظ، سلاست عظمى، دقت فہم، لطافت حواشی اور تسلسل تام میں اس کے مشابہ کوئی شی نہیں، اور ہرفرد کو اللہ نے جو قدرت مہیا کی ہے اس کے مطابق اسے سمجھتا ہے۔ ( البقاعی: 20؍336)
سوال: ہم قرآن کی تلاوت سے اکتاہٹ کیوں نہیں محسوس کرتے ہیں؟