قرآن
ﯰ
ﱕ
ﭜ ﭝ ٢٧ ٢٧ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ٢٨ ٢٨ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
٢٩ ٢٩ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٣٠ ٣٠
ﯱ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ٣ ٣ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٤ ٤ ﮠ
ﮡ ٥ ٥ ﮣ ﮤ ٦ ٦ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٧ ٧ ﯓ ﯔ ﯕ
٨ ٨ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٩ ٩ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
١٠ ١٠ ﯢ ﯣ ﯤ ١١ ١١ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ١٢ ١٢
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ١٣ ١٣ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ١٤ ١٤ ﯶ ﯷ ﯸ
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ١٥ ١٥ ﯾ ﯿ ﰀ ١٦ ١٦
ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۖ
ایمان باطنی تصدیق اور ظاہری و باطنی اعمال سب کو شامل ہے، چونکہ اعمال کا وجود وکمال توکل پر موقوف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دیگر اعمال میں سے توکل کو خاص طور پر ذکر فرمایا۔ ورنہ توکل ایمان میں داخل ہے اور اس کے جملہ لوازم میں سے ہے۔ (السعدی: 878)
سوال: جب توکل ایمان میں داخل ہے تو اللہ تعالیٰ نے دیگر اعمال میں سے توکل کو خاص طور پر کیوں ذکر فرمایا؟
قُلۡ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٩
(وعليه) اور اسی پر یعنی صرف اللہ پر(تَوَكَّلْنَا) ہم نے توکل کیا؛ اس لئے کہ غیر اللہ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں، ورنہ اللہ جس کو سزا دینا چاہتا وہ اس پر رحم کرتا، اور جس پر اپنی رحمت کا ارادہ کرتا وہ اسے سزا دیتا ہر رحمت وسزا جو مخلوق کے ہاتھوں واقع ہوتی ہے در حقیقت اللہ ہی اسے جاری کرتا ہے۔ (البقاعی 20؍270)
سوال: ہم صرف اللہ پر توکل کیوں کرتے ہیں دوسروں پر کیوں نہیں؟
نٓۚ وَٱلۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُونَ ١
قلم کی منزلت کی وجہ سے اس کی قسم کھائی گئی ہے۔ قلم سے قرآن لکھا گیا ہے، مقدس کتابیں قلم کے ذریعہ تحریرکی گئیں۔ تربیت، محاسن اخلاق اور علوم کی کتابیں بھی قلم کے ذریعہ ہی وجو د میں آئیں، یہ تمام چیزیں اللہ تعالىٰ کے یہاں قلم کے علو مرتبت کا پتہ دیتی ہیں۔(ابن عاشور 29؍60)
سوال: کیوں اللہ تعالیٰ نے قلم کی قسم کھائی ہے؟
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٧
اس آیت میں گمراہوں کے لئے دھمکی ہے اور ہدایت یافتہ افرا د کے لئے وعدہ ہے۔(السعدی: 789 )
سوال: آیت میں اس بات کا بیان کہ گمراہ اور ہدایت یافتہ افراد کو اللہ بخوبی جانتا ہے، کس بات کا فائدہ دیتا ہے؟
فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٨
کسی شخص کی اطاعت سے منع کرنا اس کی مشابہت سے بدرجۂ اولی منع کرنا ہے، اس بنا پر جھٹلانے والے اور زیادہ قسم کھانے والے کی اطاعت نہیں کی جائے گی اور نہ اس کے عمل کے مشابہ عمل کیا جائے گا۔ (ابن تیمیہ: 6؍370)
سوال: آیت کریمہ فسق وفجور میں مبتلا افراد کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کرنے پر دلالت کرتی ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟
فَلَا تُطِعِ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٨ وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ ٩ وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ ١٠ هَمَّازٖ مَّشَّآءِۢ بِنَمِيمٖ ١١ مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ ١٢ عُتُلِّۢ بَعۡدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ١٣
صحبت وتعامل سے اخلاق بنتے ہیں، یہى وجہ ہے كہ سابقہ آیات میں مذکورہ افرادکی صحبت اختیار کرکے ان کے اخلاق کو اپنانے سے بچنے کا حکم دیا کیا گیا ہے۔ ہاں احتیاط برتا جائے اس لئے کہ انہیں اللہ کی جانب دعوت دینے کے لئے داعی کوان سےملنے جلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔(ابن تیمیہ: 6؍370)
سوال: اہل معصیت کو دعوت دینے میں ایک چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے، وہ کیا چیز ہے؟
وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٖ مَّهِينٍ ١٠
یہ اس وجہ سے کہ جھوٹا اپنی کمزوری اور رذالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ناموں پر جرأت کرتا ہے، اور ان ناموں کی جھوٹی قسموں کے سہارے بچتا ر ہتا ہے اور انہیں ہر وقت بے محل استعمال کرتا ہے۔ (ابن کثیر: 4؍404)
سوال: بکثرت قسم کھانے والے کی اتباع سے ہمیں کیوں منع کیا گیا ہے؟