قرآن
ﯰ
ﱕ
ﯰ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
٢ ٢ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٣ ٣ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٤ ٤ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ٥ ٥ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
٦ ٦ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٧ ٧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٨ ٨
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٩ ٩ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ١٠ ١٠ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ١١ ١١ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ١٢ ١٢
تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١
ہر تدبیر اللہ کی جانب لوٹتی ہے، اور اسی کی قدرت سے اس کے حسب منشا چیز کا اظہار ہوتا ہے، اسے کسی چیز سے کوئی روکنے والا نہیں، اور کسی بھی طور پر اس کا کوئی ہمسر ومثل نہیں۔ (البقاعی : 20؍217)
سوال: اللہ پر بھروسہ سے کیوں دل مطمئن ہوجاتا ہے؟
ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ ٢
حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں:سب سے اچھا عمل وہ ہے جوخالص اور سنت کے مطابق ہو۔ اور عمل جب تک خالص اور سنت کے مطابق نہ ہو،قبول نہیں کیا جاتا۔(البغوی: 4؍435)
سوال: اچھے عمل سے کیا مراد ہے؟
ثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنقَلِبۡ إِلَيۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئٗا وَهُوَ حَسِيرٞ ٤
دو باره نظر ڈالنے کا حکم دیا اس لئے کہ انسان جب کسی چیز کو ایک بار دیکھتا ہے تو اسے اس کا عیب نظر نہیں آتاجب تک اس پر دوسری بار نظر نہ ڈالے۔ (القرطبی: 21؍116)
سوال: اللہ نے آسمانوں میں د وبارہ دیکھنے کا حکم کیوں دیا؟
وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ ٥
حضرت قتادہ فرماتے ہیں: اللہ نے ستاروں کو تین مقصد کے لئے پیدا کیا ہے: آسمان کی زینت کے لئے، شیطانوں کو مارنے کے لئے، اور بر وبحر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے۔ (ابن جزی:2؍494)
سوال: ستاروں کے فائدے گنائیے؟
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۖ كُلَّمَآ أُلۡقِيَ فِيهَا فَوۡجٞ سَأَلَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَذِيرٞ ٨
یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ڈرانے (دعوت پہنچنے) کے بعد ہی جہنم کا عذاب دے گا۔ (الشنقیطی: 8؍233)
سوال: جہنمی گروہوں سے جہنم کے داروغوں کا سوال (ألم يأتكم نذير)کس بات پرد لالت کرتا ہے؟
وَقَالُواْ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ أَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ١٠
سننے کو عقل پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جنہیں ڈرایا جارہا ہے، انہیں سب سے پہلے ڈرانے والے کی آواز سنائی دیتی ہے، اس کے بعد وہ اپنی عقلوں کو دعوت کو سمجھنے میں استعمال کرتے ہیں۔ (ابن عاشور: 29؍28)
سوال: سمع کو عقل پر کیوں مقدم کیا گیا؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ ١٢
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مطمئن کرنے کے لئے مغفرت کو مقدم کیا ہے، کیونکہ اسلام سے پہلے کفر اور دوسرے گناہ جو ان سے سرزد ہوئے ہیں ان پر وہ گرفت سے ڈرتے ہیں، پھر (مغفرت کی بشارت کے بعد) انہیں اجر عظیم کی بشارت دی گئی ہے، چنانچہ یہاں کلام اس قاعدہ کے تحت ہے کہ پہلے (کسی چیز کو) آلائشوں سے پاک کیاجائے پھر بنایا سنوارا جائے۔ (ابن عاشور: 29؍29)
سوال: اس آیت میں (وأجر كبير) سے پہلے مغفرت کا ذکر کیوں ہے؟