قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٦ ٦

ﭿ
٧ ٧


٨ ٨
٩ ٩

١٠ ١٠



ﯿ ١١ ١١


١٢ ١٢
559
سورۃ الطلاق آیات 0 - 6

فَإِنۡ أَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأۡتَمِرُواْ بَيۡنَكُم بِمَعۡرُوفٖۖ

(بمعروف) اللہ تعالىٰ نے اس لفظ کو نکرہ استعمال کیا ہے یہ بتلانے کے لیے کہ جو چیز امت کے مقدور میں ہے اس سے راضی ہونا چاہیے۔ اور وہ مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے،(خواہش) نفس کے ساتھ اختلاف کرنے اور حق کا اعتراف کرنے سے حاصل ہوتا ہے (البقاعی: 20؍161)
سوال: آیت میں معروف کو نکرہ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟

سورۃ الطلاق آیات 0 - 6

وَأۡتَمِرُواْ بَيۡنَكُم بِمَعۡرُوفٖۖ وَإِن تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَهُۥٓ أُخۡرَىٰ ٦

اور مناسب و معروف طور پر مشورہ کا حکم بتلاتا ہے کہ عرف کا اس میں دخل ہے۔ اسی طرح اس میں واضح تنبیہ ہے کہ والدین میں سے کوئی بھی اپنے بچہ کی وجہ سے ضرر و تکلیف میں نہ ڈالاجائے۔ دونوں کے درمیان جدائی کے بعد ، سابقہ معاشرت کے حق کی وفاداری کرتے ہوئے تمام امور باہمی مفاہمت سے طے ہونا چاہئے، خواہ وہ دودھ پلانے کا معاملہ ہو یا کچھ اور۔ آپسی عفو و درگزر اور فضل و احسان کو مت بھولئے۔ (الشنقیطی: 8؍216)
سوال: طلاق کے بعد اسلامی آداب کا ذکر کیجیے؟

سورۃ الطلاق آیات 0 - 7

لِيُنفِقۡ ذُو سَعَةٖ مِّن سَعَتِهِۦۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهُۥ فَلۡيُنفِقۡ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُۚ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰهَاۚ سَيَجۡعَلُ ٱللَّهُ بَعۡدَ عُسۡرٖ يُسۡرٗا ٧

(لينفق ذو سعة من سعته) اس میں حکم ہے کہ ہر ایک کو اپنی حالت کے بقدر خرچ کرنا چاہیے۔ شوہر کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا جائیگا۔ بیوی ضائع نہیں کی جائے گی۔ بلکہ معتدل حالت اختیار کی جائے گی، اور یہ آیت دلیل ہے کہ نان ونفقہ لوگوں کے حالات کے اختلاف کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ (ابن جزی: 2؍459)
سوال: اس آیت میں آسانی اور مشقت کو دور کرنے کے مظاہر میں سے ایک مظہر کا ذکر ہے اس کی وضاحت کیجیے؟

سورۃ الطلاق آیات 8 - 9

وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبۡنَٰهَا حِسَابٗا شَدِيدٗا وَعَذَّبۡنَٰهَا عَذَابٗا نُّكۡرٗا ٨ فَذَاقَتۡ وَبَالَ أَمۡرِهَا وَكَانَ عَٰقِبَةُ أَمۡرِهَا خُسۡرًا ٩

کیونکہ جو کانٹا بوتا ہے وہ اس سے گلاب کا پھول نہیں توڑتا ، اور جو اللہ کا حق ضائع کرتا ہے یعنی اس کی نافرمانی کرتا ہے، تو اس کی بھی خواہش پوری نہیں ہوتی ہے۔ اور جو اللہ کے حکم کی مخالفت میں جلتاہے تو اسے اللہ کے عذاب کی شدت پر صبر کرنا چاہیے۔(البقاعی: 20؍167)
سوال: گاؤں یا سماج کو اللہ کے حکم کی سرکشی کرنے پر کیا سزا ملتی ہے؟

سورۃ الطلاق آیات 8 - 9

وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبۡنَٰهَا حِسَابٗا شَدِيدٗا وَعَذَّبۡنَٰهَا عَذَابٗا نُّكۡرٗا ٨ فَذَاقَتۡ وَبَالَ أَمۡرِهَا وَكَانَ عَٰقِبَةُ أَمۡرِهَا خُسۡرًا ٩

یعنی ہم نے گاوں والوں کا محاسبہ کیا ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے آخرت کا حساب مراد ہے۔ اسی طرح اس کے بعد مذکور عذاب سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے دنیا کا حساب مراد ہے ۔ اور یہی راجح ہے۔کیونکہ اس کے بعد آخرت کے عذاب کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالىٰ کافرمان ہے: (أَعَدَّ الله لَهُم عَذَابًا شَدِيدًا)،یعنی:اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کیا ہے۔ یا اس لئے بھی یہ قول راجح ہے کہ اللہ کا قول:(فَحَاسَبنَاهَا)، (وَعَذَّبنَاهَا) فعل ما ضی ہے۔ ایسی صورت میں (حاسبناها)؛ کا معنى ہوگا یعنی ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی گرفت کی اور ان کے چھوٹے گناہوں میں سے بھی کسی گناہ کو معاف نہیں کیا ۔ اور عذاب سے مراد ان کو دنیا میں سزا دینا ہے۔ اور (نُكْرًا) عذاب کی وہ شدت اور سختی ہے کہ اس قسم کی شدت کی مثال نہ ملتی ہو ۔ (ابن جزی: 2؍459)
سوال: نا فرمان گاؤں کا عذاب کب شروع ہوتاہے؟

سورۃ الطلاق آیات 0 - 10

فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ

یعنی: اے عقلمندو جو اللہ کی نشانیوں اور عبرتوں سے فہم و نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ اور جس نے گذشتہ نسلوں کو ان کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کردیا تو جوان کے بعد ہیں وہ بھی انہیں کی طرح ہیں، دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ (السعدی: 872)
سوال: عذاب والے گاؤں کا قصہ ذکر کرنے کے بعد تقوىٰ کا ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الطلاق آیات 0 - 12

ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ

مفسرین کا کہنا ہے: اس سے مراد وہ عجیب تدبیر ہے جو وہ ان کے درمیان انجام دیتاہے ۔ لہٰذا وہ بارش برساتاہے، پودا اگاتاہے، رات و دن ،گرمی و سردی لاتاہے ۔ مختلف شکلوں میں حیوان پیدا کرتا ہے اور اس کو ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرتاہے (البغوی: 4؍422)
سوال: اللہ کے قول (يتنزل الأمر بينهن)سے کیا مراد ہے؟