قرآن
ﯭ
ﱔ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ١٠ ١٠ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ١١ ١١ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ١٢ ١٢ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ١٣ ١٣ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ١٤ ١٤ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ١٥ ١٥ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ١٦ ١٦ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ١٧ ١٧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ١٨ ١٨
ﯮ
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ يَهۡدِ قَلۡبَهُ
یہ ہر طرح کی پریشانی ومصیبت کو شامل ہے۔ لہٰذا انسانوں پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے قضاء وقدر سے آتی ہے ۔ لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا انسان ایسی حالت میں بھی اپنی شرعی ذمہ داری اداکرتا ہے یا نہیں ۔ اگر وہ اپنا کام انجام دیتا ہے تو اس کو دنیا وآخرت دونوں میں بہت زیادہ ثواب اور بہترین اجر حاصل ہوگا۔ اگر اس کا یہ ایمان ہے کہ یہ مصیبت اللہ کے پاس سے ہے اور اس پر وہ راضی ہے اور اپنے کو اللہ کے حکم کے حوالہ کردیتاہے۔ تو اللہ تعالىٰ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے ۔ بنا بریں اس کو سکون واطمینان حاصل ہوتا ہے اور وہ مصیبتوں سےنہیں گھبراتا ہے۔ (السعدی؍867)
سوال: یہ جان لینے سے کہ مصیبتیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں اس پر کون سا اثر مرتب ہوتاہے؟
وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ يَهۡدِ قَلۡبَهُۥۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ١١
(ومن يؤمن بالله يهد قلبه) یعنی: جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کے دل کو یقین کی ہدایت دیتا ہےاور اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے ساتھ پیش آیا ہے وہ اس سے ٹلنے والا نہیں تھا اور جو اس سےٹل گیا وہ اس کو پیش آنے والا نہیں تھا۔ (الطبری:23 ؍42)
سوال: اس آیت میں اللہ پر ایمان رکھنے والے مومن کے دل کو ہدایت دینے سے کیا مراد ہے؟
وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١٣
اس آیت میں مؤمنوں کے تمام ناموں کو چھوڑکر صرف ایمان کے نام سے ان کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اللہ پر توکل کا تقاضہ کرتا ہے۔ اور توکل کی قوت و کمزوری ایمان کی قوت وکمزوری پر منحصر ہے۔ اور جتنا بندہ کا ایمان قوی ہوگا اتناہی اس کا توکل بھی قوی ہوگا۔ اور جتنا ایمان کمزور ہوگا اتنا ہی توکل بھی کمزور ہوگا۔ اور توکل میں کمزوری بلا شبہ ایمان میں کمزوری کی دلیل ہے۔ اور ایسا ہونا ضروری ہے۔ (ابن قیم: 3؍159)
سوال: اللہ نے مؤمنوں کو توکل کا حکم دینے کے بعد ان کو مؤمن کے نام سے کیوں مخاطب کیا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ مِنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ وَأَوۡلَٰدِكُمۡ عَدُوّٗا لَّكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُمۡۚ
قاضی ابو بکر ابن العربی کا قول ہے: یہ آیت عداوت ودشمنی کا سبب واضح کررہی ہے۔کیونکہ دشمن اپنی ذات کی وجہ سے دشمن نہیں ہوتاہے بلکہ اپنے عمل کی وجہ سے دشمن بنتا ہے۔ لہٰذا جب بیوی اور بچوں کا عمل دشمن کے عمل کے مانندہو تو وہ بھی دشمن ہیں۔ بندہ اور اس کی طاعت و بندگی کے درمیان رکاوٹ بننے سے زیادہ قبیح عمل کوئی نہیں ہے۔ (القرطبی: 17؍521)
سوال: بیوی اور بچوں کے دشمن ہونے کی وجہ کیا ہے؟
إِنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ١٥
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: تم میں سے کوئی ہرگزیہ نہ کہے: “اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ” یعنی: اے اللہ میں تجھ سے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی فتنہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: (إنَّما أموالكم وأولادكم فتنة) تمہارے اموال اور بیوی بچے تمہارے لیے فتنہ ہیں۔ لہٰذا تم میں سے کوئی اگر پناہ مانگتا ہے تو اسے اللہ سے ان فتنوں سے پناہ مانگنی چاہیے جو اسے راہِ حق سے بھٹکا دیں۔ (ابن قیم: 3؍160)
سوال: انسان کے لیے فتنوں میں کون سے دعا مانگنی مناسب ہے؟
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ
اس آیت میں اللہ تعالىٰ اپنےتقوىٰ کاحکم دے رہا ہے۔ جو در اصل اس کے احکام کو بجا لانےاور اس کی منع کردہ چیزوں سے رک جانا ہے ۔ اور اس کو قدرت وطاقت کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔ لہٰذا یہ آیت دلیل ہے کہ ہر وہ واجب جس کو انسان ادا کرنےسے قاصرہے اس سے ساقط ہوجائے گا ۔اور اگر اسےبعض احکام ادا کرنے کی قدرت ہے۔اور بعض کو نہیں تو وہ صرف انہیں احکام کو اداکرے گا جن کی اسے طاقت ہے اور جن سے وہ عاجز ہے وہ ساقط ہوجائیں گی۔ (السعدی:868)
سوال: تقوىٰ کو استطاعت وقدرت کے ساتھ خاص کرنے سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ وَٱسۡمَعُواْ وَأَطِيعُواْ وَأَنفِقُواْ خَيۡرٗا لِّأَنفُسِكُمۡۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ١٦ إِن تُقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعِفۡهُ لَكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ ١٧
مقصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی جو فضیلت ہے اس کی طرف بار بار توجہ دلانا ہے۔ ایک طرف جہاں اس کو خیر بتایاگیا ہے تو دوسری طرف اس کے بعد اس کو کامیابی کا سبب بھی بتایا گیا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہوئی کہ انفاق بندہ کی طرف سے اللہ کے لیے قرض ہے۔ اور یہی انفاق میں رغبت دلانے اور نرمی ولطف کے ساتھ اس کا مطالبہ کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ خرچ کرنے والا گویا اللہ تعالىٰ کو مال دے رہا ہے، اور بندہ کا اپنے رب کے ساتھ معاملہ کرنے میں احسان کا ایک معنى یہ بھی ہے۔(ابن عاشور: 28؍۲۹۰)
سوال: اللہ کی راہ میں خرچ کی رغبت دلانے والی چیزوں کا تذکرہ کیجیے جن کا بیان ان آیتوں میں ہوا ہے؟