قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﭦﭛﭣﭤ

١ ١

٢ ٢

٣ ٣

ﭿ
٤ ٤

٥ ٥


٦ ٦

٧ ٧


٨ ٨

ﯿ
٩ ٩
556
سورۃ التغابن آیات 0 - 1

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ لَهُ ٱلۡمُلۡكُ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١

ہر مخلوق کی حمد صرف اللہ کے لیے ہے ۔ کیونکہ اس کی تمام مخلوق کو خیر اسی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور صرف وہی ان کو روزی دینے والا ہے۔ لہٰذا سب کی حمد اللہ ہی کے لئے ہے۔(الطبری: 23؍415)
سوال: کیا وجہ ہے کہ آسمانوں وزمین کی ہر مخلوق صرف اللہ سبحانہ کی حمد بیان کرتی ہے؟

سورۃ التغابن آیات 0 - 3

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ ٣

کہاگیا کہ انسان کو تمام حیوانوں میں سب سے اچھا اور سب سے بہتر شکل وصورت والا بنایا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی انسان یہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی شکل وصورت نظر آنے والی تمام صورتوں میں کسی صورت کے مشابہ ہو ۔اور اس کےحسن صورت میں سے ہے کہ اس کو عمودی (کھڑی) شکل میں پیدا کیا اور جھکا ہوا نہیں بنایا۔(القرطبی: 21؍9)
سوال: اللہ تعالىٰ کے قول (وصوركم فأحسن صوركم)سے کیا مراد ہے؟

سورۃ التغابن آیات 0 - 4

وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٤

جب اللہ تعالىٰ سینوں کے اسرار جانتا ہے تو اس سے ہر عقلمند صاحب بصیرت پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے باطن کو برے اخلاق سے محفوظ رکھنے کی مکمل کوشش کرے اور اس کا حریص ہو اور اچھے اخلاق سے متصف ہو۔(السعدی: 866)
سوال: ایک عقلمندکو اس علم سے کہ اللہ تعالىٰ سینوں کے بھید سے واقف ہے کیا فائدہ ملتا ہے؟

سورۃ التغابن آیات 0 - 5

أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُ فَذَاقُواْ وَبَالَ أَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٥

اللہ نےان کے اوپر نازل ہونے والے عذاب کو ایک ایسے مکر وہ و غیر مرغوب مزہ سے تشبیہ دی ہے جس کوآدمی چکھتا اور نگلتا ہےکیونکہ زبان سے چکھنا ہاتھ یا جلد سے چھونے کی بہ نسبت زیادہ شدید ہوتاہے۔ (ابن عاشور:28؍268)
سوال: اللہ نے کافر کے اوپر نازل ہونے والے عذاب کو ذوق یعنی چکھنے سے کیوں تعبیر کیا ہے؟

سورۃ التغابن آیات 0 - 7

زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن لَّن يُبۡعَثُواْۚ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ ٧

لوگوں کے عرف میں جسے مشکل کہاجاتا ہے وہ اللہ پر مشکل نہیں ہے۔ اللہ نے ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿هُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾ وہی ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گااور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ [روم:27]، (ابن عاشور:28؍272)
سوال: آیت نے دوبارہ زندہ کرنے کو آسان کیوں بتلایا ہے؟

سورۃ التغابن آیات 0 - 9

يَوۡمَ يَجۡمَعُكُمۡ لِيَوۡمِ ٱلۡجَمۡعِۖ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلتَّغَابُنِۗ

مغبون سے مراد وہ شخص ہے جو جنت میں اپنے اہل وعیال اور مراتب و منازل میں نقصان اٹھانے والا ہوگا۔ چنانچہ اس دن ہر کافر کا نقصان ایمان نہ لانے کی وجہ سے ظاہر ہوگا اور ہر مومن کا خسارہ اس کےاحسان میں کوتاہی کی وجہ سے عیاں ہوگا۔(الألوسی:14؍319)
سوال: یوم قیامت کانام یوم تغابن کیوں رکھا گیا ہے؟

سورۃ التغابن آیات 0 - 9

يَوۡمَ يَجۡمَعُكُمۡ لِيَوۡمِ ٱلۡجَمۡعِۖ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلتَّغَابُنِۗ

(يوم التغابن) تغابن کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے ۔ اور لفظ تغابن : (تغابن الناس في التجارة) یعنی: “تجارت میں لوگوں کا نقصان اٹھانا ” سے ماخوذ ہےاور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب نیک لوگ جنت میں داخلہ پاکے کامیاب ہو جائیں گے تو گویا انہوں نے بدبختوں کو ان کے گھر وں سے محروم کر دیا جس میں وہ رہتے اگر نیک اور صالح ہوتے ۔ یہی کافروں کا نقصان ہے (ابن جزی: 2؍452)
سوال:قیامت کے دن غبن یعنی نقصان کس طرح واقع ہوگا؟