قرآن
ﯪ
ﱔ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ٦ ٦ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
٧ ٧ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ٨ ٨ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٩ ٩ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ١٠ ١٠ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ١١ ١١
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ١٢ ١٢ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٣ ١٣ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ
ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ﰡ ١٤ ١٤
يُرِيدُونَ لِيُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ
یعنى وه باطل كےذریعے حق كو رد كرنا چاہتےہیں ، اس میں ان كى مثال اس شخص جیسى ہے جو سورج كى شعاعوں کو اپنے منہ سے بجھانا چاہتاہے، تو جیسا یہ محال ہے اسی طرح وہ بھی محال ہے۔ (ابن كثیر: 4؍361)
سوال: تشبیہ کی اس صورت كى وضاحت كریں جس پر یہ آیت دلالت كرتى ہے.
وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨
جملہ (والله متم نوره)جملہ (يريدون)؛ پر معطوف ہے، جس میں اس بات كى خبر دى گئى ہے كہ کافر اپنے مقصد میں كامیاب نہیں ہوسكتےہیں، اور یہ دین پورا ہوكر رہےگا، یعنى پورے طور سے پھیل جائےگا۔ (ابن عاشور: 28؍190)
سوال: الله تعالىٰ كے قول:(والله متم نوره)كے اندر كون سى بشارت ہے؟
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ ٩
یہ بات معلوم ہے كہ الله تعالىٰ نے اس دین كو تمام ادیان پر غالب كرنے كا وعده كیا ہے ، یہ علم وبیان اور سیف وسنان كا غلبہ ہے چنانچہ ارشاد بارى ہے: (هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون).اسى لئے علماء نے اس غلبہ سے دونوں طرح كا غلبہ مراد لیا ہے ، اور لفظ ظہور سب كو شامل ہے؛ كیونكہ ہدایت كا غلبہ علم وبیان سے ہوتاہے اور دین كا غلبہ طاقت اور عمل سے ہوتاہے۔ (ابن تیمیہ : 6؍297)
سوال: یہ دین دیگر ادیان پر غالب كیسے ہوگا؟
تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١١
گویا نفوس اپنى زندگى اور بقا كو محبوب سمجھتے ہیں اسى لئے فرمایا: (ذلكم خير لكم إن كنتم تعلمون) (یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھو) یعنى زندگى اور سلامتى كیلئے بیٹھے رہنے سے تمہارے لئے جہاد كرنا زیاده بہتر ہے۔ (ابن القیم: 3؍153)
سوال: (إن كنتم تعلمون)كے ذریعے آیت كیوں ختم کی گئی؟
تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡۚ
یہ معلوم ہے كہ ایمان كامل اس یقینى تصدیق كو كہتےہیں جس كى تصدیق كا الله نے حكم دیا ہے جو کہ بدنی اعمال كو لازم ہے ، اور بہترین بدنى اعمال میں سے جہادفى سبیل الله ہے، اسى لئے فرمایا: (وتجاهدون في سبيل الله بأموالكم وأنفسكم). (السعدى: 860)
سوال: آیت نے ایمان اور جہاد كو ایك ساتھ جوڑ دیا ہے ، تودونوں میں كیا تعلق ہے؟
يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّٰتِ عَدۡنٖۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ١٢
یہاں گھروں كا ذكر خصوصى طور پر كیا گیا كیونكہ جہاد میں جانےسے گھروں كو چھوڑ نا پڑتاہے، اسى لئے ان سے اس وقتی و فانى گھر كے بدلے ہمیشہ والے گھروں كا وعده كیا گیا ۔ (ابن عاشور: 28؍195)
سوال: بالخصوص گھروں كا ذكر كیوں كیا گیا؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ
الله تعالىٰ اپنے مومن بندوں كو حكم دےرہا ہے كہ وه ہر حال میں اپنے قول، فعل، جان اور مال كے ذریعے الله كے مددگار بن جائیں ۔ (ابن كثیر: 4؍361)
سوال: كیا الله كى مدد كسى زمانے یا كسى پہلو كےساتھ خاص ہے؟