قرآن
ﯩ
ﱔ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
١٢ ١٢ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ١٣ ١٣
ﯪ
١ ١ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٢ ٢
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٣ ٣ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ٤ ٤ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ٥ ٥
وَلَا يَعۡصِينَكَ فِي مَعۡرُوفٖ
رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اچھے کاموں ہی میں ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ کسی منکر کا حکم نہیں دے سکتے ہیں، اس کے باوجود آیت کے اندر کہا گیا: بھلائی میں وہ آپ کی نافرمانی نہ کریں۔ تو اس کے اندر دلالت ہے اس بات پر کہ ولی أمر کی اطاعت صرف اچھے کاموں میں ضروری ہے۔( ابن تیمیہ: ۶؍۲۹۵)
سوال: نبی صرف بھلائی کا ہی حکم دیتے ہیں، تو پھر کیوں کہا گیا کہ کسی اچھے کام میں نبی کے حکم کی نافرمانی نہ کرو؟
وَلَا يَعۡصِينَكَ فِي مَعۡرُوفٖ
(بھلائی میں وہ آپ کی نافرمانی نہ کریں) یعنى وہ بھلائی جس کا آپ انہیں حکم دیتے ہیں، اور جس برائی سے روکتے ہیں، یہاں پر معروف کی قید لگانا اس کے با وجود کہ رسول اللہ ﷺ صرف بھلائی کا ہی حکم دیتے ہیں اس بات پر تنبیہ کے لئے ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت جائزنہیں ہے۔ (الألوسی: 14؍274)
سوال: اس آیت کے اندر معروف میں نا فرمانی نہ کرنے کی قید کا کیا فائدہ ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ ٢
نخعی نے کہا: ان تینوں آیتوں نے مجھےدوسروں کو نصیحت کرنے سے روک رکھا ہے: ﴿أَتَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبِرِّ وَتَنسَوۡنَ أَنفُسَكُمۡ وَأَنتُمۡ تَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ﴾ [البقرة: 44]، ﴿وَمَآ أُرِيدُ أَنۡ أُخَالِفَكُمۡ إِلَىٰ مَآ أَنۡهَىٰكُمۡ عَنۡهُ﴾ [هود: 88]، ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ﴾" (القرطبی: ۲۰؍۴۳۶)
سوال: ان آیتوں کے ڈر سے سلف کی کیا حالت تھی؟ ذکر کیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ ٢
بھلائی کا حکم دینے والے کے لئے مناسب ہے کہ سب سے پہلے وہ خود اس پر عمل کرے، اور برائی سے روکنے والے کے لئے بھی کہ وہ سب سے زیادہ اس برائی سے دور رہے۔ (السعدی: ۸۵۸)
سوال: ایک داعی مومن اس آیت سے کیا کیا استفادہ کر سکتا ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ ٤
مجاہدین کی صفیں کچھ یوں منظم و مرتب ہونگی کہ اس سے تمام مجاہدین کے ما بین مساوات کا درس ملے، باہم تقویت حاصل ہو، دشمنوں میں دہشت پھیلے ، ایک دوسرے کو اس سے نشاط ملے ۔ (السعدی: ۸۵۸)
سوال: دوران قتال سیسہ پلائی ہوئی عمارت کے مانند صف بندی کرنے کی حکمت کیا ہے؟
كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ ٤
قتادہ نے کہا: کیا تم صاحب عمارت کو نہیں دیکھتے کہ وہ اپنی عمارت میں کوئی خلل پسند نہیں کرتا ہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتا ہے کہ اس کے کسی امر میں اختلاف ہو، اللہ تعالیٰ نے قتال ولڑائی میں اورنماز میں مومنوں کی صف بندی کی ہے، چنانچہ تم اللہ کے حکم کو لازم پکڑو، کیونکہ جو شخص اسے اختیار کرے گا اس کے لئے اس میں حفاظت ہے ۔(ابن کثیر: 4؍359)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو دو جگہوں میں خاص ترتیب وتنظیم کا حکم دیا ہے، وہ دونوں کیا ہیں؟
فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ
اس آیت سے یہ بات عیاں ہوتى ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو گمراہ کرنا اس کی طرف سے بندوں پر ظلم نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے لئے اس میں کسی حجت کی گنجائش ہے، یہ صرف ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہے، کیونکہ خود وہ -معلوم ہوجانے کے بعد - اپنے اوپر ہدایت کا دروازہ بندکر لیتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح گمراہ اور ٹیڑھا کرکے اس کا بدلہ دے رہا ہے،کہ اسے یہ اپنے اوپر سے ٹال نہیں سکتے ہیں۔(السعدی: 859)
سوال: اس آیت میں رد ہے اس شخص پر جو تقدیر سے اپنی گمراہی وانحراف کے جواز پر استدلال کرتا ہے، اس کی وضاحت کیجئے.