قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯨ

ﱔ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ١٧ ١٧
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ١٨ ١٨

ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ١٩ ١٩
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٢٠ ٢٠
ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
٢١ ٢١
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ٢٢ ٢٢
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٢٣ ٢٣
ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ٢٤ ٢٤
Surah Header

ﯩ

548
سورۃ الحشر آیات 0 - 18

وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٖۖ

(قدَّمت) ماضی کا صیغہ ہے، اس کا مقصد ہے عمل میں جلدی کرنے پر ابھارنا، اور تاخیر نہ کرنا، کیونکہ جسے اس نے زمانہ ماضی میں کیا ہے اسی کے وہ مالک ہیں، جہاں تک مستقبل کی بات ہے تو وہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، اور نہ اس کے متعلق اسے کوئی علم ہے کہ اس میں کیا ہوگا۔ ﴿وَمَا تَدۡرِي نَفۡسٞ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدٗا﴾ [لقمان: 34].[لقمان: ٣٤]۔(الشنقیطی: ۸؍۵۴)
سوال: (قَدَّمَتْ) کو ماضی کے صیغے کے ساتھ لانے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 18

وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٖۖ

بندے کے اپنے نفس کا محاسبہ كرنے کے سلسلہ میں یہ آیت اصل ہے، مناسب ہوگا کہ بندہ اپنے نفس کا جائزہ لے، اگر اسے کوئی لغزش نظر آئے تو اس کا ازالہ کرے ، اور ہر اس چیز سے باز آجائے جو اس لغزش کا سبب بن سکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ سے خالص توبہ کرے، لیکن اگر لغزش نہیں، بلکہ اللہ کے اوامر میں سے کسی امر میں کوتاہی نظر آئے تو اپنے رب سے، پختگی کے ساتھ اس کی تکمیل کی مدد مانگے، اور اس میں اپنی پوری کوشش صرف کردے، اور اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت ، اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں اپنی کوتاہی وتقصیر کے مابین موازنہ کرکے دیکھے، یقیناً اپنی تقصیر وکوتاہی پر ضرور شرمندہ ہوگا۔( السعدی: ۸۵۳)
سوال: اس آیت کی روشنی میں محاسبہ نفس پر گفتگو کیجئے.

سورۃ الحشر آیات 0 - 19

وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمۡ أَنفُسَهُمۡۚ

اللہ تعالیٰ بندہ کو اس کی اپنی ہی جان سے غافل کردیتا ہے اس کی اعلیٰ ترین لذتوں، اس کی سعادت مندی، اور فلاح وکامرانی کے اسباب اور اس کے کمال کے ذرائع وغیرہ جیسے تمام چیزوں سے اللہ اسے غافل کردیتا ہے، پھر یہ نہ کبھی اس کے دل میں کھٹکتی ہیں، اور نہ کبھی ان کے متعلق غور وفکر کرتا ہے، اور نہ کبھی ان چیزوں میں اس کی رغبت پیدا ہوتی ہے،اسی طرح اس کے اندر موجود عیوب ونقائص کو اس طرح بھلادیتا ہے، کہ اس کے ازالے سے متعلق کبھی سوچتا ہی نہیں۔ (ابن قیم: ۳؍۱۴۷)
سوال: بندہ اپنے نفس کو کیسے بھلا دیتا ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 19

وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمۡ أَنفُسَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ١٩

(فأنساهم أنفسهم) گویا کہ سائل نے سوال کیا؟ اللہ تعالیٰ کا ان کو ان کے نفس سے غافل کرنے کا اثر کیا ہوا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے یہ برے اعمال کرنے میں فسق وفجور کے اس آخری انتہا کو پہنچ گئے ہیں، جہاں پر ان کے لئے یہ کہنا مناسب ہوگیا ہے کہ: ان کے فسق سے بڑا فسق نہیں ہو سکتا ہے۔ (ابن عاشور: ۲۸؍۱۱۴)
سوال: اللہ تعالیٰ کا ان کو انکے نفس سے غافل کرنے کا اثر کیا ہوا؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 21

لَوۡ أَنزَلۡنَا هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلٖ لَّرَأَيۡتَهُۥ خَٰشِعٗا مُّتَصَدِّعٗا مِّنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۚ

اس آیت میں قرآن کے مواعظ پر تدبر وتأمل کرنےپر ابھارا گیا ہے، اور کہا گیا کہ ترک تدبر کا کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہوگا، کیونکہ اگر پہاڑ کو عقل دے دی جاتی، اور اس قرآن کے ذریعے پہاڑ کو بھی مخاطب کیا جاتاتو اس کے مواعظ وعبر کے سامنے وہ سر تسلیم خم کر دیتا، اورتم دیکھتے کہ اس کے سخت وبوجھل ہونے کے با وجود اللہ تعالیٰ کے خوف سے وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ (القرطبی: ۲۰؍۳۸۸)
سوال: اس بیان ووضاحت کے بعد کیا قرآن میں ترک تدبر کا عذر قابل قبول ہو سکتا ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 22

هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۖ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ٢٢

اس آیت کے اخیر میں اللہ تعالیٰ نے توحید الوہیت پر دلیل پیش کی جس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا ہے، فرمایا: (عالم الغيب والشهادة). یعنی: (اللہ تعالیٰ معبودِبرحق ہے اس لئے کہ) اللہ تعالیٰ غیب وحاضر کا جاننے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہوں میں بھی اسے اللہ کی وحدانیت کی دلیل کے طور پرپیش کیا ہے۔(الشنقیطی: ۸؍۶۸)
سوال: توحید الوہیت کی دلیل کیا ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 23

هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡقُدُّوسُ ٱلسَّلَٰمُ ٱلۡمُؤۡمِنُ

اللہ تعالیٰ کے مختلف اوصاف کے بعد وصف (الْمُؤْمِنُ) ذکر نے کا مقصد اس وہم وغلط فہمی سے بچانا ہے جو وصف (ملک) سے پیدا ہو سکتا ہے، کہ اللہ کی ذات دیگر بادشاہوں کی طرح ہے جو نقائص وعیوب سے پاک نہیں ہیں، تو سب سے پہلے وصف (القدوس) کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نقائص و عیوب سے پاکی بیان کی گئی ، پھر (المؤمن) کے ذریعے باطنی امور میں غدر وفریب سے اس کی پاکی بیان کی گئی ہے، اور وصف (السَّلٰمُ) کے ذریعے ظاہری امور میں ظلم وجور سے اس کی پاکی بیان کی گئی ہے۔ (ابن عاشور: ۲۸؍۱۲۱)
سوال: وصف (الملك) کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنىٰ: (القدوس السلام المؤمن) بذکر کرنے کا مقصد کیا ہے؟