قرآن
ﯧ
ﱔ
ﯧ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ١ ١ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ٢ ٢ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٣ ٣ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ٤ ٤ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ٥ ٥ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٦ ٦
إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ ١
اس میں اللہ تعالىٰ کی سماعت و بصارت کا کمال اور ہر چھوٹے و بڑے معاملہ میں ان کے احاطہ کی خبر ہے۔اور اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اس کی شکایت کو دور کردیگا، اور اس کی پریشانی ختم کردیگا۔ (السعدی:۸۴۴)
سوال: یہ آیت کیوں ختم کی گئی ان دونوں مقدس نام کے ساتھ؟
ٱلَّذِينَ يُظَٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآئِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَٰتِهِمۡۖ إِنۡ أُمَّهَٰتُهُمۡ إِلَّا ٱلَّٰٓـِٔي وَلَدۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَيَقُولُونَ مُنكَرٗا مِّنَ ٱلۡقَوۡلِ وَزُورٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ ٢
ان آیات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ظہار کرنا حرام ہے، بلکہ علماء کہتے ہیں کہ یہ گناہ کبیرہ ہے؛کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے حکم کے رد وبدل کی طرف ایک اقدام ہے، اور یہ بہت سارے گناہ کبیرہ سے زیادہ خطرناک ہے۔ (الألوسی:۱۴؍۲۰۰)
سوال: ظہار کو زور ومنکر سے متصف کرنے کی کیا وجہ ہے؟
وَإِنَّهُمۡ لَيَقُولُونَ مُنكَرٗا مِّنَ ٱلۡقَوۡلِ وَزُورٗاۚ
ظہار کے منکر اور زور ہونے میں فرق یہ ہیکہ ان کا یہ قول: (اَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ اُمِّيْ) (تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے) دوباتوں(خبر و انشاء) پر مشتمل ہے: یعنی شوہر کا بیوی کے بارے میں اس طرح کے جملے سے خبر دینا ، اور اپنی طرف سے اسے حرام قرار دینا، اس طرح یہ جملہ اخبار وانشاء دونوں پر مشتمل ہے، چنانچہ یہ خبر جھوٹی ہے، اور انشاء (حرام ٹھہرانا) منکر ہے۔كیونکہ زور اس باطل كو کہتے ہیں ہے جو ثابت شدہ حق کے خلاف ہوتا ہے، اور منکر وہ ہے جو معروف کے بر خلاف ہے۔( ابن قیم: ۳؍۱۳۹)
سوال: ظہار کو منکرو زور سے کیوں متصف کیا گیا؟
ذَٰلِكَ لِتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِه
یہ حکم جس کو ہم نے تم سے بیان کیا یہ اس لئے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، اور یہ اس حکم ، اور دیگر احکام کی پابندی کے ذریعہ ممکن ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی، اور اس پر عمل ایمان کا حصہ ہے، بلکہ یہی مطلوب ہے، اور اس سے ایمان بڑھتا ہے، اور کامل ہوتا ہے۔ (السعدی:۸۴۴)
سوال: نیک عمل اور ایمان کے ما بین کیا تعلق ہے، اس آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ
یعنی: وہ ہو ہلاک کئے جائیں گے۔ اور قتادہ نے کہا: وہ پہلے لوگوں کی طرح ذلیل کئے جائیں گے ، اور کہا گیا: وہ عذاب دیئے جائیں گے، اور یہ بھی کہا گیا کہ: خندق کے دن وہ غیظ و غضب میں مبتلا کئے گئے، اور یہ بھی کہا گیا: عنقریب وہ ذلیل کئے جائیں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ہے کہ وہ مومنوں کی مدد فرمائے گا۔(القرطبی: ۲۰؍۳۰۵)
سوال: اللہ تعالیٰ کے قول: (كبتوا) سے کیا مراد ہے؟ اور اس آیت کے اندر کون سی بشارت ہے؟۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَٰتِۢ بَيِّنَٰتٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٥
یہ بات ثابت ہو گئی کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ذلیل وخوار ہوتے ہیں برباد ہوتے ہیں ، بغض وحسد سے بھرے ہوتے ہیں۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے ڈر ہوکہ اگرکھل کر مخالفت کرےگا تو وہ قتل کر دیاجائے گا، البتہ جس کے لئے کھل کر مخالفت کرنا ممکن ہو، اور اس کا خون ومال محفوظ ومامون ہو تووہ ذلت و رسوائی محسوس نہیں کرتا ہے بلکہ خوش و مطمئن ہوتا ہے، اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (كبتوا كما كبت الذين من قبلهم) ان سے قبل جن لوگوں نے بھی رسولوں کی مخالفت کی، بطور خاص رسول اللہﷺ کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح ذلیل کیا کہ انہیں اپنی طرف سے بھیجے گئے عذاب سے ہلاک کر دیا، یا مومنوں کے ہاتھوں انہیں تباہ و برباد کردیا۔ (ابن تیمیہ: ۶؍۲۴۰)
سوال: اللہ تعالىٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے انسان اس دنیا میں دل کا مریض ہوجاتا ہے، اور آخرت میں عذا ب الہٰی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس کا مفہوم واضح کیجئے.
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓاْۚ أَحۡصَىٰهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ ٦
(أحصاه الله ونسوه) مستقل جملہ ہے جو مقدر سوال کا جواب ہے، گویا کہ سوال کیا گیا: اللہ تعالیٰ کیسے انہیں ان کے اعمال بتا سکتا ہے؟ وہ تو بہت زیادہ ہیں، اور بہت طرح کے ہیں؟تو جوابا کہا گیا:اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال کو شمار کر رکھا ہے، کوئی ایک چیز بھی نہیں چھوٹی ہے اگر چہ یہ لوگ بھول گئے ہیں انہیں یاد نہیں ہے، لیکن یہ لوگ اپنے نامہ اعمال میں سب لکھا ہوا پائیں گے۔(الشوکانی: ۵؍۱۸۶)
سوال: یہاں ایک سوال پوشیدہ ہے جس کا جواب اللہ تعالیٰ کا قول: (أحصاه الله ونسوه) ہے،بتائیے وہ سوال کیا ہے؟