قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٢ ١٢


ﭿ
١٣ ١٣


١٤ ١٤


١٥ ١٥



١٦ ١٦

١٧ ١٧
ﯿ
١٨ ١٨
539
سورۃ الحديد آیات 0 - 12

يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں روشنی ان کے عمل کے حساب سے ملے گی ان میں بعض وہ ہوں گے جن کو کھجور کے درخت جتنی بڑی روشنی ملے گی اور ان میں سے بعض کی روشنی کھڑے آدمی کے برابر ہوگی۔ ان میں سب سے کم روشنی اس کی ہوگی جسے انگوٹھے کے چھور کے برابر روشنی ملے گی ۔ وہ بھی کبھی بجھ جائے گی اور کبھی جل پڑے گی۔(البغوی:۴؍۳۲۴)
سوال: کیا روز قیامت مومنوں کی روشنی مختلف ہوگی ؟اور یہ روشنی کس بنا پر مختلف ہوگی؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 13

يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ

حسرت و افسوس کے سبب یہ چیز بہت گراں گزرے گی کہ بندہ کامیابی و کامرانی کے راستے پر جا لگے تاآنکہ اسے یقین سا ہونے لگے کہ اسے نجات مل جائے گی وہ نیک بختوں کے منازل دیکھنے لگے(اقتطع عليهم)ان پر بدبختی مسلط کردی جائے گی ۔ اللہ کی پناہ ہو اس کی غضب اور اس کے عقاب سے ۔(ابن القیم :۳؍129)
سوال: آیت کی روشنی میں روز قیامت کو منافقین پر ہونے والےنفسیاتی عذاب کا تذکرہ کیجئے؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 14

يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ ١٤

ان کے حق میں بربادی کے چار اسباب بیان فرمائے: ان کےنفس کا فتنہ ، مومنوں کی گھات میں رہنا، رسول کی صداقت میں شبہ کرنا، نفس کی رنگی ہوئی خواہشات سے دکھوکے کھانا ۔(ابن عاشور:۲۷؍۳۸۵)
سوال :آیت میں ذکر کردہ بربادی کے اسباب بتائیں؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 16

۞أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ

(أن تخشع) یعنی کیا وہ وقت نہیں آیا کہ وہ ایمان کا بلند مرتبہ حاصل کرلیں۔ بلند مرتبہ کے حصول کا مطلب ہے دل نرم ہوجائیں، دلوں میں جھکاؤ اور خضوع ہو، اطمینان ہو، تسلیم و رضا ہو، ختم ہونے والی چیزوں سے دل اعراض کرے اور باقی رہنے والی چیزوں پر توجہ کرے۔(قلوبهم لذكر الله) یعنی اس عظیم ترین بادشاہ اللہ کے لئے، ہر بھلائی اسی کی طرف سے ہے ۔ چنانچہ دل جھکنے کے سبب وہ جو ایمان میں سچا نہ تھا سچا ہو جاتا، دین کے حوالے سے جو کمزور تھا قوی ہوجاتا سو اپنے دین کی خرابی کے لئے دو ااور دل کی بیماری کے لئے شفا وہ قرآن کے سوا کہیں نہ ڈھونڈتا کیونکہ اللہ کا ذکر دلوں کی پیاس دور کرتا اور اس کے آئینے صاف کردیتا ہے۔(البقاعی:۱۹؍۲۷۹)
سوال: دل کی سختی کی کامیاب دوا کیا ہے؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 16

وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ

(فقست) یعنی مدت لمبی ہونے کےسبب سختی پیدا ہوگئی (قلوبهم) یعنی دل ایسے سخت اور اتنے کج ہوگئے کہ ان میں اطاعت کے امور اور بھلائی کے لئے جگہ ہی نہ رہی۔قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : دل کی سختی خواہشات کی اتباع سے آتی ہے اور شہوت کے ساتھ دل کی صفائی اکٹھا نہیں ہوسکتی ۔(البقاعی:۱۹؍۲۸۰)
سوال:دل کی سختی کا کیا معنی ہے؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 16

وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ ١٦

دل کی سختی برائیوں کا مرکز ہے اور سختی اللہ سے لمبے عرصے تک غافل رہنے سے پیدا ہوتی ہے ۔(آلوسی:۱۴؍۱۸۱)
سوال :انسان پر دل کی سختی کے خطرات بیان فرمائیں؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 17

ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ١٧

آیت میں ایمان والے دلوں کو ذکراللہ کی جس انداز میں حاجت ہوتی ہےاس کی تمثیل مردہ زمین کی بارش کی ضرورت سے دی گئی ہے ۔ اور ذکر سے دلوں کی صفائی و روشنی کی حالت کی تمثیل بنجر زمین کو بارش سے ہرا بھرا کردینے سے بیان کی گئی ہے ۔(ابن عاشور:۲۷؍۳۹۳)
سوال:اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہےاس بات کی خبر دینے میں کیا فائدہ ہے ؟