قرآن
ﯥ
ﱓ
ﭜ ٧٩ ٧٩ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٨٠ ٨٠ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ٨١ ٨١ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٨٢ ٨٢ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ٨٣ ٨٣ ﭲ ﭳ ﭴ ٨٤ ٨٤ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٨٥ ٨٥ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
٨٦ ٨٦ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ٨٧ ٨٧ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
٨٨ ٨٨ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ٨٩ ٨٩ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ
ﮙ ٩٠ ٩٠ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٩١ ٩١ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ٩٢ ٩٢ ﮨ ﮩ ﮪ ٩٣ ٩٣ ﮬ ﮭ
٩٤ ٩٤ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٩٥ ٩٥ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٩٦ ٩٦
ﯦ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ٢ ٢ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٣ ٣
إِنَّهُۥ لَقُرۡءَانٞ كَرِيمٞ ٧٧
یعنی اللہ نے قرآن پاک کو احترام بخشا اسے عزت دی اور اس کا درجہ بلند فرمایا۔اور اسے جھوٹ ،جادو،کہانت سے محفوظ رکھ کر مقدس بنایا۔
کہا گیا ہے کہ چونکہ اس میں بڑے معاملات اور اعلیٰ اخلاقیات کی چیزیں موجود ہیں اس لئے (كَرِيْمٌ) کہا۔
یہ بھی قول ہے کہ حافظ قرآن کی چونکہ عزت ہوتی ہے اور قاری قرآن کی تعظیم کی جاتی ہے اس لئے کریم کہا۔
واحدی نے اہل بلاغت سے بیان کیا ہے : قرآن کی وصف جو کریم بیان ہوئی وہ اس لئے کہ قرآن حق تک پہنچانے والے دلائل کے ذریعہ بہت زیادہ بھلائیاں عطا کرتا ہے۔
ازہری کا قول ہے : تعریف کی جانے والی چیزوں کے لئے کریم ایک جامع نام ہے اور چونکہ قرآن کریم میں علم و حکمت ، بیان و ہدایت موجود ہے اس لئے اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ (الشوکانی:5؍160)
سوال:قرآن کے(كَرِيْمٌ) ہونے کے کچھ اسباب بیان کیجئے؟
إِنَّهُۥ لَقُرۡءَانٞ كَرِيمٞ ٧٧ فِي كِتَٰبٖ مَّكۡنُونٖ ٧٨ لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ ٧٩
آیت کریمہ میں اس بات کا بڑا لطیف اشارہ موجود ہے کہ اس کے معانی کا ادراک اور اس کامفہوم صرف صاف ستھرے دلوں کو حاصل ہوسکتا ہے۔ بدعات و مخالفات کی نجاستوں سے آلودہ دل اس کے معانی سے قطعی محروم ہوتا ہے، ایسا دل کما حقہ قرآن کو نہیں سمجھ سکتا۔(ابن القیم :۳؍120)
سوال: فہم قرآن کے لئے دل کی صفائی مطلوب ہے۔ آیتوں کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے ؟
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠
تنزیل کی نسبت اس کی ربوبیت کی طرف کی گئی ہے ، وہ ربوبیت جو تمام جہانوں کے لئے ہے ۔ وہ ربوبیت جو ان کی ملکیت کو لاز م ہے ، ان میں اس کے تصرف کو لاز م ہے ، ان پر اس کا حکم چلنے کو لازم ہے۔ تو مخلوق کے ساتھ جس کا معاملہ یوں ہو تو اس کی کامل ربوبیت کی شان سے بھلا یہ بات کیسے میل کھا سکتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو یونہی بیکار و بے مقصد چھوڑ دے ،انہیں بلاوجہ پیدا فرمائے، انہیں کچھ حکم کرے نہ کسی بات سے روکے ، انہیں ثواب دے نہ سزا کرے۔(ابن القیم :۳؍12۱)
سوال: تنزیل کی اضافت اللہ کی ربوبیت کی طرف کیوں فرمائی؟
تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٠
یقیناً یہ قرآن جو عظیم ترین صفات سے متصف ہے وہ تمام جہانوں کے رب سے ملا ہے ۔ وہ رب جو اپنے بندوں کی دنیاوی اور دینی نعمتوں کے ذریعہ پرورش کرتاہے۔اور بندوں کے حوالے سے میرے رب کی تربیت میں سے عظیم تربیت ہے نزول قرآن ۔ کہ قرآن دونوں جہاں کی مصلحتوں پر مشتمل ہے۔(السعدی :836)
سوال: قرآن پاک کے نزول کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ نے اپنی صفت ربوبیت للعالمین کا تذکرہ کیوں فرمایا ہے؟
أَفَبِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَنتُم مُّدۡهِنُونَ ٨١
اے لوگو! یہ قرآن جس کی میں نے تمہیں خبر دی ، جس کی شان تم سے بیا ن کی اس قرآن کو جھٹلانے والوں سے تم میٹھی میٹھی باتیں کررہے ہو اور نرمی برت رہے ہو حالانکہ وہ اس قرآن کی تکذیب اور کفر کےمرتکب ہیں۔(الطبری :23؍152)
سوال: اللہ کے فرمان میں (مُدْهِنُوْنَ) سے کیا مراد ہے؟
وَتَجۡعَلُونَ رِزۡقَكُمۡ أَنَّكُمۡ تُكَذِّبُونَ ٨٢
ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اجماع ہے کہ آیت بارش کے سلسلے میں یہ کہنے والوں کی بابت ہے کہ بارش فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب نازل ہوتی ہے معنی آیت کا یہ ہے کہ تمہیں جو روزی دی جارہی ہے اس کاشکر بھی تکذیب سے کرتے ہو؟ حد ہے! (ابن جزی:۲؍۴۰۶)
سوال: اس آیت میں رزق اور تکذیب سے کیا مرا د ہے؟
هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡأٓخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ ٣
(الأول) یعنی وہ کسی ابتداء کے تصور کے بغیر ہر چیز سے پہلے ہے ۔کوئی چیز موجود نہ تھی مگر وہ موجود تھا۔اور(الآخر) یعنی کسی خاتمہ کے تصور کے بغیر وہ ہرچیز فنا ہوجانے کے بعد بھی موجود رہے گا۔چیزیں تو فنا ہوجائیں گی لیکن وہ موجود رہے گا۔
اور (الظَّاهِرُ) کا معنی ہے جو ہر چیز پر بلند اور غالب ہو۔(الباطن) کا معنی ہے ہر چیز کا عالم ۔ ابن عباس کے قول کا یہی مفہوم ہے ۔(البغوی:۴؍۳۲۲)
سوال :ان اسماء حسنیٰ کے معانی بیان کریں؟