قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١٧ ١٧
١٨ ١٨
١٩ ١٩
٢٠ ٢٠
٢١ ٢١ ٢٢ ٢٢
٢٣ ٢٣
٢٤ ٢٤
٢٥ ٢٥
ﭿ ٢٦ ٢٦
٢٧ ٢٧
٢٨ ٢٨ ٢٩ ٢٩
٣٠ ٣٠
٣١ ٣١ ٣٢ ٣٢
٣٣ ٣٣
٣٤ ٣٤ ٣٥ ٣٥
٣٦ ٣٦
٣٧ ٣٧ ٣٨ ٣٨ ٣٩ ٣٩
٤٠ ٤٠

٤١ ٤١
٤٢ ٤٢ ٤٣ ٤٣
٤٤ ٤٤
٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦

٤٧ ٤٧
٤٨ ٤٨
٤٩ ٤٩
٥٠ ٥٠
535
سورۃ الواقعہ آیات 20 - 21

وَفَٰكِهَةٖ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ٢٠ وَلَحۡمِ طَيۡرٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ ٢١

کھانے میں پھل پہلے کھاناطبی اعتبار سے اچھا ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ کھانے میں زیادہ آسان اور نیچے جانے میں زیادہ تیز رفتار ہوتاہے اور ہضم کے لئے معدے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ حکماء کے مطابق سخت کھانے کے بعد سیال کھانا پیٹ میں داخل کرنا ہیضہ کا ایک سبب ہے ۔(آلوسی:۱۴؍۱۳۷)
سوال:میوہ کو گوشت پر کیوں مقدم رکھا گیا؟

سورۃ الواقعہ آیات 22 - 23

وَحُورٌ عِينٞ ٢٢ كَأَمۡثَٰلِ ٱللُّؤۡلُوِٕ ٱلۡمَكۡنُونِ ٢٣

حورعین کو سفیدی میں موتیوں سے تشبیہ دی گئی اور(اللؤلؤ)کی صفت جو(المكنون)ذکر کی گئی ہے وہ اس لئے کہ اس کے سبب خوبصورتی تبدیل نہیں ہوتی ۔
سوال: حور عین کو چھپے ہوئے موتی سے تشبیہ دینے کا کیا مقصد ہے؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 30

وَظِلّٖ مَّمۡدُودٖ ٣٠

یعنی سایاپھیلا ہوا ہوگا ختم نہیں ہوگا۔ کیونکہ دھوپ اس سائے کو زائل نہیں کر سکتی رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : جنت میں ایک ایسا درخت ہوگا جس کے سائے میں سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کی مسافت طے نہ کر سکے گا۔ تم چاہو تو (وظل ممدود)پڑھ کر مزید یقین حاصل کرسکتےہو۔( ابن جزی:۲؍۴۰۱)
سوال: نبوی تفسیر کے درمیان ایک ایسی مثال ذکر کیجئے جس سے روز قیامت پھیلے ہوئے سائے کی وضاحت ہوتی ہو؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 33

لَّا مَقۡطُوعَةٖ وَلَا مَمۡنُوعَةٖ ٣٣

ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : تم توڑوگے تو ختم نہ ہوگا، جو کوئی لینا چاہے گا اسے کوئی روکنے والا نہ ہوگا۔ بعض کے بقول زمانوں کے سبب ختم نہ ہوگا، قیمتوں کے سبب حصول میں رکاوٹ پیدا نہ ہوگی۔جیسا کہ دنیا کے بیشتر پھل سردیاں آتے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور انہیں مہنگی قیمت دیئے بغیرحاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ (البغوی:۴؍۳۰۶)
سوال: (لا مقطوعة ولا ممنوعة)سے کیا مراد ہے؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 37

عُرُبًا أَتۡرَابٗا ٣٧

عرب ،عروب کی جمع ہے ۔ مراد اپنے شوہر سے محبت کرنے والی ہے، مبرد کا کہنا ہے :وہ اپنے شوہر کی عاشق ہوگی۔ ( الشوکانی:۵؍۱۵۳)
سوال: آیت میں (عُرُبًا)کے کیامعنی ہیں ؟

سورۃ الواقعہ آیات 43 - 44

وَظِلّٖ مِّن يَحۡمُومٖ ٤٣ لَّا بَارِدٖ وَلَا كَرِيمٍ ٤٤

یعنی اس میں کوئی ٹھنڈک ہوگی نہ کوئی لطف۔ مقصود یہ ہے کہ وہاں غم اور دکھ، تکلیف اور برائی ہوگی اس میں بھلائی ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ کسی چیز کی ضد کی نفی سے دوسری الٹی صورت کا اثبات لازم آتاہے۔(السعدی:۸۳۴)
سوال: جہنم کے سائے سے ٹھنڈک اور لطف کی نفی سے کیا مراد ہے ؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 45

إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُتۡرَفِينَ ٤٥

بائیں طرف والوں کو (مُتْرَفِيْنَ) قراردیاکیونکہ ان میں سے کوئی بھی ‘‘ترف’’ یعنی آسودگی کے تکبر سے خالی نہیں تھااگر چہ کھانے پینے اور عورتوں کی یہ متکبرانہ آسودگی بعض حالات اور بعض اوقات میں ہی پائی گئی۔یا پھر ایسا ہو کہ جب انہوں نے جلد حاصل ہونے والی زندگی کی فکر پر نظر جمالی تو اللہ کے رسولﷺجس چیز کی دعوت دے رہے تھےاس کی صحت میں نظر و استدلال کرنے سے انہیں محروم کردیا۔ یہی سبب ہے کہ اللہ نے دنیا میں ان کی متکبرانہ آسودگی والی وجہ کو ان کے مذکورہ جزا کا سبب قراردیا ۔(ابن عاشور:۲۷؍۳۰۶)
سوال: متکبرانہ آسودگی کی خطرناکی اور اس کے اخروی انجام کی وضاحب کیجئے ؟