قرآن
ﯤ
ﱓ
ﭜ ﭝ ٢١ ٢١ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ٢٢ ٢٢ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ٢٣ ٢٣ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٢٤ ٢٤
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٢٥ ٢٥ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٢٦ ٢٦ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٢٧ ٢٧ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٢٨ ٢٨
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ٢٩ ٢٩ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ٣٠ ٣٠ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٣١ ٣١ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ٣٢ ٣٢ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ٣٣ ٣٣ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ٣٤ ٣٤ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٣٥ ٣٥ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ٣٦ ٣٦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
٣٧ ٣٧ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ٣٨ ٣٨ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٣٩ ٣٩ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٤٠ ٤٠
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٤١ ٤١
كُلُّ مَنۡ عَلَيۡهَا فَانٍ ٢٦
اللہ کے فرمان: (وله الجوار المنشآت في البحر كالأعلام) میں ہلاکت و بربادی سے محفوظ رہنے کےلئے اسباب و ذرائع تیار کرنے کی نعمت کا اعلان ہے۔ اور یہ نعمت گزارے کے لئے روزی کی دوڑ دھوپ کا بھی ذریعہ ہے ۔ سو کشتیوں سے لوگوں کو اسفار میں مدد ملی اور سمندر کی طغیانی سے محفوظ رہتے ہوئے ضروریات کی تکمیل میں سہولت ہوئی۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ کشتیوں کی بابت جو یہ(كالأعلام) کہا گیا ہے یعنی پہاڑوں جیسی تو اس سے اس نعمت کی وسعت کا اظہار ہے۔
اب زندگی سے جڑی چیزوں کا بیان ہوگیا تو اسی کے بعد یہ نصیحت بیان ہوئی کہ یہ اسباب و ذرائع اللہ کے مقدر کردہ موت کے فیصلے اور لوگوں کے درمیان حائل نہیں ہوسکتے ۔ جیساکہ مناسب موقع پر قرآن میں تذکیر و موعظت کا طریقہ ہے۔(عاشور:۲7؍252)
سوال: آیتِ کریمہ کی مناسبت اس کی پہلی والی آیت سے کس طرح ہے؟
كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِي شَأۡنٖ ٢٩
حضرت ابودرداءنبی ﷺ سےروایت فرماتے ہیں: اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ گناہ بخشتاہے ، پریشانی ہٹاتا ہے، بعض قوموں کو عروج بخشتا ہےاور بعض دوسروں کو پست کر تاہے۔ (القرطبی:۲۰؍۱۳۴)
سوال: (كل يوم هو في شأن)کاکیا مطلب ہے ؟
سَنَفۡرُغُ لَكُمۡ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ ٣١
یہاں فارغ ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ عمل سے فارغ ہوگا ۔ کیونکہ اللہ کو کوئی کام مشغول ہی نہیں کر سکتا ۔ یہاں دراصل وعید کی شدت بتانی مقصود ہے کہ اللہ مخلوق کا سخت محاسبہ فرمائے گا۔(کیونکہ کسی چیز کو دنیا میں پوری فراغت سے جب آدمی کرتا ہے تو زیادہ پرزور طریقے سے کرتا ہے جیسے کہا جاتاہے میں فرصت سے اس سے نمٹتا ہوں!!!مترجم)
سوال: (سنفرغ لكم أيها الثقلان) سے کیا مراد ہے ؟
سَنَفۡرُغُ لَكُمۡ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ ٣١
جنات و انسان کو زمین کے حیوانون کے مقابلے عظیم شان کا حامل ہونے کے سبب‘‘ثقلين’’ کہا گیا۔ اور ایک قول یہ ہےکہ: انہیں ثقلین اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ زندہ ہوں تب بھی اور مر جائیں تب بھی زمین کے لئے بوجھ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ کے ارشاد میں ہے‘‘اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر کرے گی’’ (الزلزلہ:۲) اور جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ انہیں ثقلین کہا گیا کہ دونوں مخلوق گناہ سے بوجھل ہیں ۔(الشوکانی:۵؍۱۳۷)
سوال: جن و انس کو ثقلین کیوں کہاگیا؟
يُرۡسَلُ عَلَيۡكُمَا شُوَاظٞ مِّن نَّارٖ وَنُحَاسٞ فَلَا تَنتَصِرَانِ ٣٥ فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٣٦
یعنی تم پرخالص آگ کے شعلے اور دھوئیں پھینکے جائیں گے۔ یعنی اے جن و انس کی جماعت یہ دونوں قبیح ترین چیزیں تمہارے اوپر پھینکی جائیں گی اور تمہیں گھیرلیں گی پھر تمہیں کوئی مدد نہیں مل سکے گی نہ تو خود تم اپنی مددکرسکو گے اور نہ اللہ کے سوا کوئی اور تمہاری مدد کرسکے گا۔
چونکہ بندوں کو خوف دلانا بھی اللہ کی ایک نعمت ہےاورگویا ایک کوڑا ہے جو بلند مقاصد اور اعلیٰ ترین صلاحیتوں کی طرف لے جاتا ہے سو اس بنا پر اللہ نے اس کا بھی احسان جتلایا اور فرمایا: (فبأي آلاء ربكما تكذبان). (السعدی: 831)
سوال: جہنم کا تذکرہ مومنوں کے لئے نعمت کیسے ہوسکتاہے ؟
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتۡ وَرۡدَةٗ كَٱلدِّهَانِ ٣٧
(دهان)، دهن کی جمع ہے جیسے تیل اور اس طرح کی دوسری چیز یں ہوتی ہیں۔ روز قیامت آسمان کی تشبیہ(دهان)،سے اس لئے دی ہے کہ ہولناکی کی شدت سے آسمان پگھل جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی چمک تیل کی چمک کے مشابہ ہوگی۔ یہ بھی کہا گیا ہےکہ : (دهان)، سرخ چمڑے کو بولتے ہیں۔ (ابن جزی :2؍395)
سوال: آسمان کو (دهان)سے تشبیہ دینےمیں ایک بلیغ سبب ہے ۔ آپ وہ وجہ تسمیہ بیان کیجئے ؟
فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يُسۡـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٞ وَلَا جَآنّٞ ٣٩
اس آیت اور﴿فَوَرَبِّكَ لَنَسۡـَٔلَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ﴾ (الحجر:۹۲) جیسی آیتوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آیت میں جو بات ہے وہ ایک الگ مقام کی بات ہے۔اور سوال قیامت کے موقف میں سے کسی دوسرے موقف میں ہوگا۔
یہ بھی کہا گیاہے کہ سوال کی جو بات آیت میں ہے وہ گناہوں کی بابت استفہام کی قبیل کا سوال نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال کو شمار کررکھا ہے اور بندوں کے خلاف انہیں محفوظ کررکھا ہے ۔ البتہ سوال زجر وتوبیخ کے واسطے کیا جائے گا۔(الشوکانی :۵؍۱۳۸)
سوال: اس آیت اور اللہ کے فرمان ( فوربك لنسألهم أجمعين) کے درمیان ہم کیسے تطبیق دے سکتےہیں ؟