قرآن
ﯣ
ﱓ
ﭝ ﭞ ٢٩ ٢٩ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ٣٠ ٣٠ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٣١ ٣١ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ٣٢ ٣٢ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ٣٣ ٣٣ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٣٤ ٣٤ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ٣٥ ٣٥ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
٣٦ ٣٦ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ٣٧ ٣٧ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٣٨ ٣٨ ﮥ
ﮦ ﮧ ٣٩ ٣٩ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٤٠ ٤٠
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٤١ ٤١ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ٤٢ ٤٢ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ٤٣ ٤٣ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٤٤ ٤٤ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ٤٥ ٤٥ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٤٦ ٤٦
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٤٧ ٤٧ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ٤٨ ٤٨ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ٤٩ ٤٩
فَنَادَوۡاْ صَاحِبَهُمۡ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ ٢٩
اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے کو (صَاحِبَهُمْ) ان کا ساتھی کہا، اس بات کی جانب اشارہ کرنے کے لئے کہا کہ قو م ثمود اس کے عمل سے راضی تھے یوں وہ لوگ اس مجرم کے ساتھی اور اس کی طرف میلان رکھنے والے ٹھہرے۔ ( ابن عاشور:۲۷؍۲۰۱)
سوال: قوم ثمود اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے کے عمل کےحامی تھے اس پر کیا دلیل ہے ؟
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٖۖ نَّجَّيۡنَٰهُم بِسَحَرٖ ٣٤ نِّعۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي مَن شَكَرَ ٣٥
قشیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : نقصانات دور کرنے کی نعمت حصول نفع کی نعمت کے مقابلے زیادہ مکمل ہے ۔ یہ بات صرف ہوشیار با توفیق ہی جان سکتا ہے ۔ ( البقاعی :۱۹؍125)
سوال: نعمتوں کی اقسام بیان کیجئے؟ اور یہ بتلائیے کہ کون سی نعمت شکر کی زیادہ مستحق ہے ؟
وَلَقَدۡ أَنذَرَهُم بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡاْ بِٱلنُّذُرِ ٣٦
(بطشتنا) یعنی ہماری عظیم اور سخت پکڑ سے انہیں ڈرایا۔
(بطشة) واحد استعمال کیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ اللہ کا کوئی بھی عذاب معمولی نہیں ہوتا ہے ۔اللہ کی عظمت کے سبب ایک ہی پکڑ کافی ہوجاتی ہے ۔ اس لئے لفظ کو تثنیہ استعمال نہیں کیا۔(البقاعی: ۱۹؍۱۲۵)
سوال : (بطشتنا)واحد کیوں استعمال فرمایا؟
فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ ٣٧
عذاب کی بابت ‘‘ذوق’’ یعنی چکھنے کا حکم بطور خاص دیاہے وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی گندی حرکتوں سے خوب لذ ت حاصل کرتے تھے۔(البقاعی: ۱۹؍۱۱۳)
سوال: قوم لوط کے قصے میں (فذوقوا عذابي ونذر) کاذکر خصوصیت کے ساتھ کیوں ہوا؟
إِنَّ ٱلۡمُجۡرِمِينَ فِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٖ ٤٧
(إن المجرمين) یعنی وہ لوگ جنہوں نے جرائم کاارتکاب بہت زیادہ کیا۔ مطلب شرک اور دوسرے بڑے بڑے گناہ! (في ضلال وسعر) یعنی وہ لوگ دنیا میں گمراہ ہی رہے خواہ علم کی گمراہی ہو یاعمل کی۔ جس سے ہی انہیں عذاب سے نجات ملتی ۔ اور روز قیامت وہ دردناک عذاب میں ہونگے۔ (السعدی:۸۲۷)
سوال: دنیا میں مجرمین کی گمراہی کی صورتوں میں سے دو صورت کا تذکرہ کیجئے ؟
يَوۡمَ يُسۡحَبُونَ فِي ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ
چہرہ تمام اعضاء میں سب سے معزز ہوتاہے ۔ اور چہرے کی تکلیف دوسرے اعضاء کی تکلیف سے سخت ہوتی ہے اس لئے انہیں چہرے کے عذاب سے بے عزت اور رسوا کیا جائے گا۔(السعدی:۸۲8)
سوال: مجرمین کو اس طرح عذاب دینے میں جسمانی تکلیف کے ساتھ نفسیاتی الم بھی ہے ۔ آیت سے جو آپ نے سمجھا ہے اس کی روشنی میں اسے بیان کیجئے؟