قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤ ٥ ٥
٦ ٦
٧ ٧ ٨ ٨
٩ ٩
ﭿ ١٠ ١٠
١١ ١١
١٢ ١٢
١٣ ١٣
١٤ ١٤ ١٥ ١٥
١٦ ١٦
١٧ ١٧
١٨ ١٨
١٩ ١٩
٢٠ ٢٠
٢١ ٢١
٢٢ ٢٢


٢٣ ٢٣
ﯿ ٢٤ ٢٤
٢٥ ٢٥

٢٦ ٢٦
526
سورۃ النجم آیات 1 - 2

وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ ١ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ ٢

اللہ کی جو کچھ وحی رسول ﷺ لے کر آئے ہیں اس کی صحت پر ستاروں کی قسم کھائی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں ایک عجیب مناسبت یہ ہے کہ جس طرح اللہ نے ستاروں کو آسمان کی زینت بنایا ہوا ہے اسی طرح وحی اور وحی کے آثار بھی زمین کی زینت ہیں۔چنانچہ انبیاء کرام کا موروثی علم نہ ہوتا تو لوگ کالی رات کےاندھیروں سے بھی سخت تاریکی میں رہتے۔
سوال: ستاروں اور نبی کی نبوت کے درمیان کیا تعلق ہے ؟

سورۃ النجم آیات 0 - 2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ ٢

یہ قسم کا جواب ہے اور یہاں قریش سے خطاب ہے۔ اور (صَاحِبُكُمْ) یعنی تمہارے ساتھی سے مراد نبی ہیں۔ تو اللہ نےآپ ﷺ سے یہاں گمراہی اور بے راہ روی کی نفی فرمائی ہے ۔ دراصل ‘‘ضلال’’ و‘‘غى’’ کے درمیان معنوی فرق ہے ۔ ‘‘ضلال’’ میں ارادہ نہیں ہوتا ہے ۔ جبکہ ‘‘غى’’ میں ارادہ ہوتا ہے اور باقاعدہ گمراہی حاصل کی جاتی ہے ۔ (ابن جزی:۲؍۳۸۰)
سوال: گمراہی (ضلال) اور بے راہ روی (غوایت) میں کیا فرق ہے ؟

سورۃ النجم آیات 2 - 4

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ ٢ وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤

اللہ نے آپ ﷺ سے غی و ضلال یعنی گمراہی اور بے راہ روی کی نفی فرمائی اور آپ کی صفت یہ بیان فرمائی: (وما ينطق عن هوى .. إن هو إلا وحي يوحى) کہ آپ خواہش نفس (ھوی)سے نہیں بولتے ۔ جو کچھ کہتے ہیں سب اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے ۔تو آپ سے ھوی یعنی خواہش نفس کی نفی کی اور مکمل علم کا اثبات کیا گیا اور وہ ہےوحی۔چنانچہ یہ علم کا کمال ہوا اور وہ (یعنی غی و ضلال سے نفی) قصد کا کمال ہوا ۔ اور آپ کے دشمنوں کو ان دونوں کی ضد سے متصف فرمایا : تو انسان کے حق میں کمالِ مطلق کا معنی ہے : علم و ارادہ دونوں سے بندگی کی تکمیل ۔(ابن تیمیہ:6؍128)
سوال: ان آیات سے نبی ﷺ کے کمال اور مشرکین کے نقص کا ثبوت ملتا ہے اس کی وضاحت کریں ؟

سورۃ النجم آیات 3 - 4

وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤

اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنتِ رسول اللہ کی طرف سے رسولِ گرامی پر وحی ہے۔(السعدی:818)
سوال: اس آیت سے مقام سنت کی وضاحت کس طرح ہورہی ہے بیان کریں؟

سورۃ النجم آیات 0 - 17

مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧

بادشاہوں اور رئیسوں کے دربارمیں حاضر ہونے والے ادب سے عاری شخص کو جو معاملہ پیش آتا ہے خواہ وہ دائیں بائیں دیکھنے کی بات ہو یا بے ڈھنگے طریقے سے سامنے نگاہ ڈالنی ہو اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے ان تمام چیزوں کی نفی فرمائی ہے۔ اور اس جلوہ گاہ اور مقام میں کمال ادب کی خبر دی ہے کہ آپ ﷺ نےنہ تو ادھر ادھر التفات فرمایا، نہ آیات اور وہاں کے عجائبات سے آپ کی نگاہ ہٹی بلکہ اس غلام کی طرح حاضر ہوئے کہ اسے جو سکھا دیا گیا ہو اسی طرح خاموش اور متوجہ ہو کر کھڑے رہے۔نہ ادھر ادھر دیکھے، نہ ان میں تانک جھانک کرے جو اس نے نہیں دیکھا ہوا ہے ۔ ادب کے ان تقاضوں کے ساتھ ساتھ آپ کا دل پر سکون اور مطمئن تھا اور طبیعت میں ٹھہراؤتھا اور یہ چیز کمال (بندگی) کی انتہا ہے۔(ابن القیم :۳؍۷۶)
سوال: آیت اسراء و معراج کے موقع سے نبیﷺ کے کمال ادب کا پتہ دیتی ہے اس کی وضاحت فرمائیں؟

سورۃ النجم آیات 0 - 23

إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهۡوَى ٱلۡأَنفُسُۖ

یعنی برائی پر ابھارنے والے،ان کے نفس میں جو بھی خواہش ابھرتی ہے وہ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ دراصل نفس کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں غیر افضل چیزوں کی چاہت پیدا ہوتی ہےکیونکہ اسے لذت آفریں چیزوں کی عادت ہے البتہ عقل نفس کو اچھے انجام کی طرف لے جاتی ہے ۔(الألوسی:۱۴؍۵۸)
سوال: انسان کس طرح اس آیت کی روشنی میں اپنی تربیت کرے؟

سورۃ النجم آیات 0 - 23

وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلۡهُدَىٰٓ ٢٣

عقل کا تقاضا ہے کہ ہدایت جسے بھی نظر آئے وہ اس کی پیروی کرے خواہ وہ اس کے دشمن کی طرف سے ہی کیوں نہ آئی ہو۔ جب بات ایسی ہے تو پھر اطاعت کا کیا انداز ہونا چاہئے اگر وہ ہدایت اس سے افضل شخص لے کر آئے، اس ذات کی طرف سے جن کا احسان کبھی منقطع نہیں ہوگا۔(البقاعی:۱9؍61)
سوال: (ولقد جاءهم من ربهم الهدى) کہہ کر اللہ نے جو خبر دی ہے اس میں کیا بات ہے ؟