قرآن
ﯠ
ﱓ
ﭝ ٣٢ ٣٢ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ٣٣ ٣٣ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ٣٤ ٣٤ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٣٥ ٣٥ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ٣٦ ٣٦ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ٣٧ ٣٧ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ٣٨ ٣٨ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٣٩ ٣٩ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ٤٠ ٤٠ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ٤١ ٤١ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ٤٢ ٤٢
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ٤٣ ٤٣ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ٤٤ ٤٤ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ٤٥ ٤٥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ٤٦ ٤٦ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ٤٧ ٤٧ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ٤٨ ٤٨ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ٤٩ ٤٩ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ٥٠ ٥٠
ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ٥١ ٥١
۞قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٣١
آپ نے مہمان نوازی کرنے کے بعد ان سے آمد کے بارےمیں پوچھا ۔کیونکہ ضیافت کا طریقہ یہ ہے کہ مہمان سے گھر آنے کی غرض تب تک نہیں پوچھنی چاہئے جب تک وہ جانے کی تیاری نہ کرنے لگے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مہمان اپنی آمدکی بابت یہ نہ سوچ لے کہ میزبان اکتارہاہے اور میزبان اگر طاقت رکھتا ہو تو اس کی مدد بھی کر سکے ۔(ابن عاشور:5؍27)
سوال: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بھیجے جانے کا سبب پوچھنے میں تاخیر کیوں فرمائی؟
فَمَا وَجَدۡنَا فِيهَا غَيۡرَ بَيۡتٖ مِّنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٣٦
حضرت قتادہ (فما وجدنا فيها غير بيت من المسلمين) کی بابت فرماتے ہیں:اگر اس میں مزید لوگ ہوتے تو اللہ انہیں بھی نجات عطا فرماتا تاکہ انہیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ اللہ کے یہاں ایمان کا اجر محفوظ رہتا ہے ضائع نہیں ہوتا۔(الطبری:22؍430)
سوال: اہل ایمان کے گھروں میں ایمان کی قیمت واضح کیجئے ؟
وَتَرَكۡنَا فِيهَآ ءَايَةٗ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ ٣٧
اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور عجائبات جنہیں اللہ نے اس جہاں میں وجود بخشا ہے اور ان کے آثار باقی رکھ چھوڑا ہے وہ اللہ کی ذات پر اوراس کے رسول کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں ۔ مگر ان تمام چیزوں سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہو اور اللہ کے عذاب سے خوف کھاتا ہو چنانچہ آخرت پر جس کا ایمان نہیں ہے زیادہ سے زیادہ یہی کہے گا کہ ‘‘یہ ایک قوم تھی جو گردش زمانہ کا شکار ہوگئی جس طرح دوسری قومیں اس کا شکار ہوئیں یہ وقت ہے کبھی اچھا بھی ہوتا ہے اور کبھی برا ’’ مگر جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اس سلسلے میں ڈرتا رہتا ہے تووہی آیات و مواعظ سے مستفید ہوتا ہے ۔(ابن قیم:3؍49–50)
سوال: قرآن پاک کے قصوں اور نصیحت کی باتوں ( قصص و مواعظ) سے کون فائدہ اٹھاتا ہے ؟
فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مِن قِيَامٖ وَمَا كَانُواْ مُنتَصِرِينَ ٤٥
عذاب آجانے پر وہ کھڑے تک نہ ہو سکے (چہ جائیکہ وہ کہیں بھاگ سکتے ) اور نہ انہیں اٹھ پانے کی طاقت ہوئی ۔ قتادہ فرماتے ہیں : اس پٹخنی سے وہ اٹھ نہ سکے (وما كانوا منتصرين): یعنی وہ اللہ سے عذاب کا دفاع نہ کرسکے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مفہوم آیت کایہ ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی قوت نہ تھی جس کی مدد سے اللہ کا عذاب روک سکتے ۔(البغوی:4؍233)
سوال: اس آیت کے تناظر میں درج ذیل حدیث آپ کس طرح سمجھیں گے ؟ (إن الله ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته) ترجمہ: ‘‘اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتاہے تاآنکہ اسے دبوچ لیتا ہے اور پھر نہیں چھوڑتا’’.
وَمِن كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٤٩
یہاں (تذكر) سے مرادحشر و نشر کے حوالے سے ذکر کی جانے والی تمام چیزوں سے نصیحت حاصل کرنا ہے ۔ کیونکہ جو ذات ان چیزوں کو وجود بخشنے پر قادر ہے وہ ذات روز قیامت مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے ۔ ((الألوسی:27؍27)
سوال: دوبارہ زندہ کئے جانے پر اللہ کی قدرت کے سلسلے میں آیت کریمہ کس طرح رہنمائی عطا کرتی ہے؟
فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ ٥٠
عوام کا فرار جہالت سے علم کی طرف ہونا چاہئے عقیدہ اور عمل ہر دو اعتبار سے، سستی سے چستی کی طرف ہونا چاہئےاحتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ، اور تنگی سے کشادگی کی طرف ہونا چاہئے بھروسہ اور امید کے ساتھ۔ (البقاعی:۱۸؍۴۴7)
سوال: اللہ کی طرف فرا ر کیسے ہوتا ہے؟
فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ ٥٠
اللہ نے اپنی طرف‘‘رجوع ’’کرنے کو ‘‘فرار’’ یعنی اللہ کی طرف بھاگنے سے موسوم فرمایا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے میں مختلف طرح کے اندیشے اور پریشان کن چیزیں درپیش ہوتی ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے میں کامیابی ،خوش بختی امن و راحت اور محبت کے الگ الگ انداز موجود ہوتے ہیں تو بندہ اللہ کے قضاء و قدر سے اللہ ہی کے قضاء وقدر کی طرف بھاگتا ہے ۔ (السعدی:812)
سوال: رجوع الی اللہ کو اللہ نے فرارکانام کیوں دیا؟