قرآن
ﯜ
ﱒ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ٣٠ ٣٠ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ٣١ ٣١ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
٣٢ ٣٢ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ٣٣ ٣٣ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ٣٤ ٣٤ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ٣٥ ٣٥ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٣٦ ٣٦ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ٣٧ ٣٧ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٣٨ ٣٨
وَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ
اے محمد ﷺ اگر ہم چاہتے تو ان منافقوں کو آپ ایک ایک کرکے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ، لیکن تمام منافقوں کے لئے اللہ نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیوں کہ وہ اپنے بندوں کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے ، اور یہ چاہتا ہے کہ ان کے اعمال کو ظاہر پر محمول کیا جائے اور ان کے باطن کو اللہ کے حوالے کر دیا جائے ۔ (ابن کثیر: 4؍183)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے منافقین کے بارے میں کیوں کھول کر بیان نہیں کیا؟
۞يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبۡطِلُوٓاْ أَعۡمَٰلَكُمۡ ٣٣
ارشاد باری:(ولا تبطلوا أعمالكم) چار معانی کا احتمال رکھتا ہے ، 1ایمان کے بعد کفر کرکے اپنے اعمال ضائع مت کرو۔ 2نیکیوں کو گناہوں کا ارتکاب کرکے برباد مت کرو۔ 3ریا وکبر کے ذریعہ اپنے اعمال کو غارت مت کرو۔ 4عمل کو مکمل ہونے سے پہلے ختم کرکے اپنے اعمال کو ضائع وبرباد مت کرو۔ (ابن جزی: 2؍343)
سوال: عملوں کو باطل کرنے والی چیزوں کو آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمۡ
آیت: (والله معكم) میں مسلمانوں کے لئے دشمنوں پر فتح ونصرت کی عظیم بشارت دی گئی ہے۔( ابن کثیر: 4؍184)
سوال:مسلمانوں کے لئے اللہ کی معیت کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ
جب تم تعداد اور قوت وطاقت میں دشمنوں سے برتر ہو تو کافروں کے ساتھ صلح اور کمزوری کا مظاہرہ مت کرو ، لیکن جب کافروں کی تعداد اور قوت وطاقت مسلمانوں سے زیادہ ہوں اور حاکم وقت صلح اور جنگ بندی کو مسلمانوں کے حق میں نافع ومفید سمجھتا ہو تو وہ ان کے ساتھ صلح وجنگ بندی کا معاہدہ کر سکتا ہے۔ (ابن کثیر: 4؍184)
سوال: آیت میں وضاحت ہے کہ مسلمان دشمنوں سے قوت میں افضل ہوں تو کیا موقف اختیار کرے ، لیکن کافروں کے بالمقابل مسلمان کمزور ہو تو انہیں کون سا موقف اختیار کرنا چاہیئے ؟
إِنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤۡتِكُمۡ أُجُورَكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ أَمۡوَٰلَكُمۡ ٣٦
راجح بات یہ ہے کہ یہ آیت ما قبل آیت پر عطف ہے ، یعنی مذکورہ ممنوع امر سے اجتناب بہترین تقوىٰ ہے ، اور ایک بات یہ ہےکہ صلح کے پیچھے جنگ میں خرچ ہونے والے مال کی حفاظت مقصود ہو سکتا ہے ، اس لئے مومنوں کو ایمان وتقوىٰ کی یاد دلائی گئی ہے تاکہ مال و جان کی محبت(وہن) کو دل سے نکال دیں ، کیوں کہ( وہن) سے منع کیا گیا ہے ، اور صلح کی دعوت دینے سے بھی منع کیا گیا ہے ، گویا ان ممنوعات سے دامن بچانا تقوىٰ کی علامت ہے۔( ابن عاشور: 26؍133)
سوال: امت کو لاحق( وہن) کا علاج کیا ہے؟ آیت کی روشنی میں بتائیے.
وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤۡتِكُمۡ أُجُورَكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ أَمۡوَٰلَكُمۡ ٣٦
اجر وثواب عطا کرنے کے لئے تم سے تمہارا رب مال نہیں مانگتا بلکہ وہ تمہیں ایمان واطاعت کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہیں جنت سے نوازے ۔ اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے: ﴿مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ﴾ [الذاريات: ٥٧] میں ان سے روزی نہیں چاہتا۔اور اس آیت کا ایک معنی یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ تم سے مال نہیں مانگتے ، اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے :﴿قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍ﴾[سورة ص: ٨٦] فرمادیں: میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا۔ اور آیت کا ایک معنی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول تم سے زکوۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ نہایت معمولی رقم یعنی صرف ڈھائی فیصد کا مطالبہ کرتے ہیں لہذا تم اسے خوش دلی سے ادا کرو۔ (القرطبی:4؍163)
سوال: سچے عالم کی نشانی یہ ہے کہ وہ لوگوں سے مال کا مطالبہ نہیں کرتے ، بتایئے آیت سے یہ کیسے سمجھ میں آتا ہے؟
هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبۡخَلُۖ وَمَن يَبۡخَلۡ فَإِنَّمَا يَبۡخَلُ عَن نَّفۡسِهِۦۚ وَٱللَّهُ ٱلۡغَنِيُّ وَأَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُۚ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓاْ أَمۡثَٰلَكُم ٣٨
(ومن يبخل فإنما يبخل عن نفسه) یعنی بخل کا ضرر بخیل کو ہی اٹھانا پڑتا ہے ، کیونکہ بخیل انفاق کے اجر وثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔ (وإن تتولوا يستبدل قومًا غيركم) یعنی اس قوم کو لائے گا جو تمہاری طرح بخیل نہ ہوگی بلکہ انفاق فی سبیل اللہ میں رغبت رکھے گی۔ (ابن جزی: 2؍344)
سوال: بدلہ عمل کی طرح ہی ملتا ہے ، اس آیت سے یہ معنى کیسے نکلتا ہے؟ وضاحت کیجئے.