قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١

٢ ٢


ﭿ ٣ ٣



٤ ٤

٥ ٥
٦ ٦
٧ ٧

٨ ٨

٩ ٩

ﯿ ١٠ ١٠

١١ ١١
507
سورۃ محمد آیات 0 - 4

وَلَوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَٱنتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَاْ بَعۡضَكُم بِبَعۡضٖۗ

اس لئے کہ اللہ تعالىٰ ہر چیز پر قادر ہے ، اور اللہ تعالىٰ چاہے تو کافر کبھی بھی غالب وفاتح نہ ہو تاکہ مسلمان ان کی نسل واصل مٹا کے رکھ دے (ولكن ليبلوا بعضكم ببعض) لیکن اللہ تعالىٰ ابتلا وامتحان چاہتا ہے تاکہ جہاد قائم رہے اور سچے وجھوٹے بندوں کی پہچان ہو سکے ، اور اللہ تعالىٰ اس لئے بھی آزماتا ہے ،تاکہ مومن علم وبصیرت کی بنیاد پرصحیح مؤمن بنے ، نہ کہ غالب قوم کی تابعداری میں ایمان لائے، اس لئے اس طرح کا ایمان آزمائشوں اور مصیبتوں کے وقت ٹکتا نہیں ہے۔ (السعدی: 785)
سوال: وہ کو ن سا امتحان وابتلاء ہے جس کی بناء پر بعض اوقات کفار ومشرکین مسلمانوں پر غلبہ پا لیتے ہیں؟

سورۃ محمد آیات 4 - 5

وَٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٤ سَيَهۡدِيهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡ ٥

(ويصلح بالهم) یعنی ان کے محورِ فکر کی اصلاح فرماتا ہے تووہ ہر بھلائی کے لئے تیار ، ہر طرح کی برائی اور خوف وبے چینی سے دور رہتا ہے اور اپنے ایمان پر اطمینان کی سانس لیتا ہے ، پھر جب بھی کوئی بندہ راہ خدا میں شہید ہو جاتا ہے تو اللہ تعالىٰ اس کے وارثین کی مدد شہید کی مدد سے زیادہ بہتر طریقے سے کرتا ہے اگر وہ با حیات ہوتے۔ (البقاعی: 7؍153)
سوال: (ويصلح بالهم) کا مفہوم بتائیے ؟

سورۃ محمد آیات 0 - 6

وَيُدۡخِلُهُمُ ٱلۡجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ ٦

یعنی جنت کے گھر ان پر بہت واضح ہوں گے ، جنت کے گھروں تک بغیر کسی غلطی وسؤال کے رسائی حاصل کر لیں گے ، یوں لگے گا جیسے وہ ان محلوں میں بچپن سے رہتے ہوں ، مومن اپنے درجے ، بیوی اور خدمت گزاروں کو دنیاوی گھر واہل وعیال سے زیادہ پہچانیں گے۔ یہ اکثر علماء ومفسرین کا قول ہے۔( البغوی: 4؍154)
سوال: اللہ تعالىٰ جنتیوں کو جنت کی نعمتوں سے کیسے آگاہ کرے گا؟

سورۃ محمد آیات 0 - 7

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَنصُرُواْ ٱللَّهَ يَنصُرۡكُمۡ وَيُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡ ٧

نام کے مسلمان جو ہر طرح کے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں پھر آس لگائے رہتے ہیں کہ اللہ عنقریب ہماری مدد کرے گا ، دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، اس لئے کہ یہ لوگ اس جماعت سے خارج ہیں جس سے اللہ نے مدد کا وعدہ کیا ہے ، اللہ کی مدد کا مفہوم یہ ہے کہ مومن اللہ کے دین وکتاب کی مدد کرے اوراللہ کے کلمہ کو بلند وبالا رکھنے کے لئے انتھک محنت ، کوشش اورتگ ودو کرے ، اور حدودِ شریعت کو قائم کرے ، اور احکامِ اسلام پر عمل کرے ، اور محرمات سے بچے ۔( الشنقیطی: 7؍252)
سوال: مومن اللہ کی مدد کیسے کریں گے ؟ اور کیا گناہ گار و نافرمان لوگ نصرتِ الہی کے مستحق ہیں؟

سورۃ محمد آیات 7 - 9

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَنصُرُواْ ٱللَّهَ يَنصُرۡكُمۡ وَيُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡ ٧ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَتَعۡسٗا لَّهُمۡ وَأَضَلَّ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٨ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَرِهُواْ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٩

یہ امت کے لئے وعید ہے ، یعنی اگر وہ اللہ کی مدد ، اس کی راہ میں جہاد اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو چھوڑ دے ، تو اللہ تعالىٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دے گا اور اس کی مدد ترک کر دے گا ، اور اس پر اس کے دشمنوں کو مسلط کر دے گا ، بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب سابقہ امور میں امت کے اندر سستی وکاہلی پائی گئی اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے پر اعتماد کر بیٹھے ،تو بعض فاسق وفاجر لوگ مسلط ہو گئے۔( البقاعی: 7؍155)
سوال: اسلامی احکام وتعلیمات سے انحراف اور ان سے بغض کا انجام کیا ہوتا ہے؟

سورۃ محمد آیات 0 - 10

۞أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۖ

جہاں جہاں بھی اللہ نے زمین میں چلنے پھرنے اور سیر وسیاحت کا حکم دیا ہے ،چاہے وہ چلن اور سیر سیاحت حسی ہو یعنی پیدل اور سواری پر ہو یا سیر وسیاحت معنوی ہو یعنی غور وفکر اور اعتبار کی حیثیت سے ہو یا لفظ دونوں نوع کو شامل ہو، وہیں عبرت و نصیحت پکڑنے کی تعلیم دی ہے نیز بچ بچاکر رہنے کی ہدایت بھی دی ہے تاکہ ان پر اسی طرح کا عذاب مسلط نہ ہو جائے جو پچھلی قوم پر مسلط ہوا تھا (ابن القیم: 2؍454)
سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں سیر و سیاحت کا حکم دیا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟

سورۃ محمد آیات 0 - 11

وَأَنَّ ٱلۡكَٰفِرِينَ لَا مَوۡلَىٰ لَهُمۡ ١١

(لا مولى لهم) یعنی کافروں کا کوئی بھی کارساز ومددگار نہیں جو انہیں سلامتی والے راستے کی طرف رہنمائی کر سکے اور نہ کوئی انہیں عذابِ الہی سے نجات دلا سکے، بلکہ ان کے اولیاء تو شیاطین ہیں جو ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔( السعدی: 786)
سوال: جب کافروں کے اولیاء طاغوت ہیں تو پھر (ان کا کوئی ساز ومددگار نہیں) کا کیا مطلب ہے؟