قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢١ ٢١

٢٢ ٢٢

ﭿ ٢٣ ٢٣


٢٤ ٢٤


٢٥ ٢٥



٢٦ ٢٦

٢٧ ٢٧

ﯿ
٢٨ ٢٨
505
سورۃ الأحقاف آیات 0 - 21

۞وَٱذۡكُرۡ أَخَا عَادٍ إِذۡ أَنذَرَ قَوۡمَهُۥ بِٱلۡأَحۡقَافِ وَقَدۡ خَلَتِ ٱلنُّذُرُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦٓ

مثالوں اور گزری امتوں کے واقعات بیان کرنے سے بعض چیزوں کی خوبی وقباحت معلوم ہوتی ہے، لہذا اللہ نے اپنے رسول سے فرمایا: (واذكر أخا عاد) (الألوسى: 25؍251)
سوال: قصۂ عاد کی یاددہانی سے کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 23

قَالَ إِنَّمَا ٱلۡعِلۡمُ عِندَ ٱللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم مَّآ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦ وَلَٰكِنِّيٓ أَرَىٰكُمۡ قَوۡمٗا تَجۡهَلُونَ ٢٣

( تجهلون ) پر اکتفا نہ کرکے ( قومًا )کا لفظ بھی لایا گیا ہےیہ بتانے کے لئے کہ جہالت اس قوم میں اس قدر گھر کر گئی ہے کہ وہ اس قوم کی بنیادی پہچان بن گئی ہے، نیز لفظ جہالت یہ بتانے کے لئے بھی لایا گیا ہے کہ مرض جہالت پورے قبیلے کو محیط ہے یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ لوط نے اپنی قوم سے کہا تھا: ﴿أَلَيۡسَ مِنكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيدٌ﴾ [هود: ٧٨] کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے۔(ابن عاشور: 26؍48)
سوال: لفظ “قوم” کا ذکر آیتِ کریمہ میں کس معنى کو بتانے کے لئے ہے؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 24

فَلَمَّا رَأَوۡهُ عَارِضٗا مُّسۡتَقۡبِلَ أَوۡدِيَتِهِمۡ قَالُواْ هَٰذَا عَارِضٞ مُّمۡطِرُنَاۚ بَلۡ هُوَ مَا ٱسۡتَعۡجَلۡتُم بِهِۦۖ رِيحٞ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢٤

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ عائشہ( رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ جب آندھی آتی تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أسألك خيرها، وخير ما فيها، وخير ما أرسلت به، وأعوذ بك من شرها، وشر ما فيها، وشر ما أرسلت به»، (اے اللہ میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی اور اس میں چھپی ہوئی بھلائی اور جس بھلائی کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے ، کا سوال کرتا ہوں ، اور تیری پناہ میں آتا ہوں اس ہوا کی برائی سے اوراس میں چھپی ہوئی برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جس کے ساتھ وہ بھیجی گئی ہے) اور جب آسمان پر بادل چھا جاتا تو آپ کا رنگ بدل جاتا ، اور آپ کبھی باہر نکلتے ، کبھی اندر جاتے ،کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے مڑ جاتے ، لیکن جب بارش ہوتی تو آپ خوش ہوجاتے تھے میں نے آپ سے اس بابت پوچھا تو فرمایا: پتہ نہیں ، شاید ایسا ہو جائے جیسا قومِ عاد نے کہا تھا : (هذا عارض ممطرنا)». )۔( الألوسى: 25؍256)
سوال:آندھی کے وقت یا جب بدلی چھانے لگے تو کونسی مستحب دعا پڑھنی چاہئے؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 26

وَلَقَدۡ مَكَّنَّٰهُمۡ فِيمَآ إِن مَّكَّنَّٰكُمۡ فِيهِ

یعنی؛ اے لوگو! قوم عاد کو ہم نے وہی قوت وشوکت عطا کی تھی جو تمہیں عطا کی ہے ، اس لئے تم یہ نہ سمجھو کہ جو تمہیں عطا ہوا ہے وہ تمہارے ساتھ خاص ہے اور اللہ کے عذاب کو تم سے ٹال سکے گا بلکہ دوسری قومیں قدرت وتمکن میں تم سے زیادہ عظیم تھیں ، لیکن ان کے مال ، اولاد اور فوج ان کو اللہ کے عذاب سے ذرہ برابر بھی بچا نہ سکے۔(السعدی: 783)
سوال: اس امر کی وضاحت کیجئے کہ جب اللہ تعالىٰ کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی مادی طاقت وقوت کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی.

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 26

وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعٗا وَأَبۡصَٰرٗا وَأَفۡـِٔدَةٗ

آیت ہذا کا فائدہ یہ ہے کہ عناد کے علاوہ ان کے یہاں کسی اور چیز کی کمی نہیں تھی جو راہ حق کی تلاش میں رکاوٹ بنتی ، قریش مکہ سے اشاروں میں کہا جا رہا ہے کہ تم نے اپنے آپ کو کان ، آنکھ اور عقل وخرد کی صلاحیتوں سے محروم رکھا ، اور یہی عمل پچھلی قوموں نے بھی کیا ہے۔(ابن عاشور: 26؍53)
سوال: ارشاد باری: (وجعلنا لهم سمعًا وأبصارًا وأفئدة) کا فائدہ بتائیے.

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 26

وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ سَمۡعٗا وَأَبۡصَٰرٗا وَأَفۡـِٔدَةٗ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُمۡ سَمۡعُهُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُهُمۡ وَلَآ أَفۡـِٔدَتُهُم مِّن شَيۡءٍ إِذۡ كَانُواْ يَجۡحَدُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ

یہ اور اس معنی کی آیتوں سے سمجھ میں آتا ہے کہ کان ، آنکھ اور دل کی صلاحیتوں سے اللہ کی نشانیوں کے منکر فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں ، یہاں سے یہ بات بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ عقل جو مدارِ تکلیف وبندگی ہے صرف اس کی وجہ سے نفع بخش ایمان حاصل نہ ہوگا اور نہ اللہ کے عقاب سے بچاؤ کی تدبیریں معلوم ہوں گی۔ (ابن تیمیہ: 5؍550)
سوال: ہدایت صرف عقل کی بنیاد پر نہیں ملتی بلکہ یہ الہی انعام واحسان ہے اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 28

فَلَوۡلَا نَصَرَهُمُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ قُرۡبَانًا ءَالِهَةَۖ بَلۡ ضَلُّواْ عَنۡهُمۡۚ

یعنی بزعم خویش شفاعت کی خاطر جن معبودوں کو وہ تقرب کا ذریعہ سمجھ کر یوں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی اور ہلاکت سے انہیں کیوں نہ بچا پائے ؟ (الشوکانی: 5؍24)
سوال: اللہ کے علاوہ جس کی قربت حاصل کی جاتی ہے وہ دنیا وآخرت دونوں جگہ ضعیف ہوتے ہیں ، آیت کی روشنی میں اسکا جواب دیجئے.