قرآن
ﯛ
ﱒ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ١٥ ١٥ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ١٦ ١٦ ﮗ ﮘ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ١٧ ١٧ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
١٨ ١٨ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
١٩ ١٩ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ٢٠ ٢٠
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ وَحَمۡلُهُۥ وَفِصَٰلُهُۥ ثَلَٰثُونَ شَهۡرًاۚ
اس آیت میں اشارہ یہ ہے کہ ماں کا حق باپ کے حق پر مقدم ہے ، وجہ یہ ہے کہ ماں حمل ، زچگی اور مدت رضاعت کی تمام مشقتوں اور تھکانوں کو تن تنہا جھیلتی ہے ، اس میں باپ کی شرکت نہیں ہوتی ۔ (الشوکانی: 5؍18)
سوال:آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم مقرر ہے لیکن اس میں اشارہ یہ ہے کہ ماں کا حق باپ کے حق پرمقدم ہے ، اس کی وضاحت کیجئے.
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ إِنِّي تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٥
اس آیت میں چالیس سال کی عمر پا چکے مسلمان کے لئے رہنمائی یہ ہے کہ وہ پختہ دل سے توبہ کی تجدید کرے اور از سرِ نو اللہ کی طرف پلٹے اور اس پر جم جائے۔ (ابن کثیر: 4؍16)
سوال:چالیس سال کی عمر والوں کے لئےآیت میں کیا ہدایت ہے؟
حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗ قَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِي فِي ذُرِّيَّتِيٓۖ
آیت میں پختگی کی عمر کی تخصیص اس لئے کی گئی ہے کہ اس عمر میں مرد روزی روٹی کے لئے بہت زیادہ تگ ودو کرتے ہیں کیوں کہ ان کے کندھوں پر اہل وعیال کی ذمہ داری رہتی ہے اور خواتین بھی اس عمر میں زیادہ مصروف رہتی ہیں ، اس لئے کہ شوہر ، گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں، چنانچہ پھر وہ وہم و گمان کے ایسے مقام پر نظر آنے لگ جاتے ہیں جہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہیں یہ مصروفیات انہیں اپنے والدین کی دیکھ ریکھ اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے برگشتہ نہ کردے، لہٰذا انہیں متنبہ کیاگیا ہے کہ (عمر جو بھی ہو، اور مصروفیات جیسی بھی ہو) اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک میں کوتاہی نہ کریں۔ (ابن عاشور: 26؍32)
سوال: آیت میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کے لئے پختگی کی عمر کی تخصیص کیوں کی گئی ہے؟
أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ
والدین کو نعمتوں سے نوازاجانا ان کی اولاد کو ان نعمتوں سے نوازاجانا ہے، چونکہ ان نعمتوں اور ان کے اسباب و آثار کا اولاد تک پہنچنا لازمی امر ہے خاص طور پر دین کی نعمت، کیونکہ علم و عمل کے ذریعے سے والدین کا نیک ہونا اولاد کے نیک ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے (السعدی: 781)
سوال: والدین کو ملنےوالی نعمتوں پر اولاد کیوں شکر بجا لائے؟
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهَا
مومن اپنی ساری دنیاوی نعمتوں ولذتوں کو دنیا ہی میں فنا نہیں کرتا بلکہ اپنی بعض نعمتوں وپاکیزہ چیزوں کو آخرت کے لئے چھوڑدیتا ہے لیکن کافر دنیاوی تمام لذتوں سے سرشار ہونے کی حرص رکھتا ہے ، اس لئے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ (ابن القیم: 2؍450)
سوال: دنیاوی لذتوں کے تعلق سے مومن وکافر کے موقف میں کیا فرق ہے ؟
وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَلَى ٱلنَّارِ أَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبَٰتِكُمۡ فِي حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنۡيَا وَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهَا
آیت: (يعرض الذين كفروا على النار) کا تعلق کافروں سے ہے ، اس کے باوجود اس میں متقی وپرہیزگار لوگوں کے لئے عبرت وموعظت کا پہلو ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب حضرت جابر بن عبد اللہ(رضی اللہ عنہ) نے گوشت خریدا تو حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ان سے کہا : کیا تو ڈرتا نہیں کہ تیرا شمار اس آیت کے مصداق لوگوں میں ہو جائے؟ (ابن جزی: 2؍335)
سوال:کافروں کے بارے میں اتری ہوئی آیتوں سے کیا مسلمان نصیحت حاصل کر سکتا ہے ؟ اور کیسے؟
فَٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَفۡسُقُونَ ٢٠
تکبر سے مراد ایمان سے کنارہ کشی اور فسق سے مراد اعضاء و جوارح سے سرزد ہونے والے گناہ ہیں ، آیت میں دل کے گناہ کو اعضاء وجوارح کے گناہ پر مقدم کیا گیا ہے چونکہ اعضاء وجوارح کے اعمال دل کی موافقت کے بعد سرزد ہوتے ہیں۔(الألوسى: 25؍250)
سوال: آیت میں دل کا گناہ اعضاء وجوارح کے گناہ پر مقدم ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے نیز یہ بتائیے کہ دونوں میں سب سے زیادہ خطرناک کون ہے؟