قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٣ ٣٣

٣٤ ٣٤


٣٥ ٣٥
ﭿ ٣٦ ٣٦
٣٧ ٣٧
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢

٣ ٣



٤ ٤

٥ ٥
502
سورۃ الجاثيہ آیات 0 - 35

وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ

دنیا نے تمہیں اپنى جھوٹى شان وشوكت اور رنگینیوں ورعنائیوں سے فریب دیدیا ہے اس لئے تم نے یقین کرلیا کہ دنیا ہی سب کچھ ہے اور بروز قیامت دوباره نہیں اٹھایا جائےگا ۔ (القرطبى: 19؍173)
سوال: دنیا نے لوگوں كو كیسے دھوكہ دے ركھا ہے؟

سورۃ الجاثيہ آیات 0 - 36

فَلِلَّهِ ٱلۡحَمۡدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَرَبِّ ٱلۡأَرۡضِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٦

لفظ جلالہ (رَبِّ)كى تكرار میں لطیف اشاره یہ ہے كہ رب كا اپنى مخلوق كى تربیت وحفاظت مخلوق كى حالتوں كےاعتبار سے جدا جدا ہے۔ ایك ہى مخلوق كے بعض اجزاء كى حفاظت اسى كے دوسرے اجزاء کی حفاظت سے مختلف ہوتى ہے۔ اور اسى كى كل حفاظت اس كے ہرجزء كے جزوى حفاظت سے الگ ہوتى ہے حالانكہ یہ تمام مختلف النوع حفاظتیں الله كى قدرتِ كاملہ كے اعتبار سے یكساں درجہ میں ہیں۔ (البقاعی: 18؍116)
سوال: لفظ جلالہ (رَبِّ) مكرر كیوں آیا ہے؟

سورۃ الجاثيہ آیات 36 - 37

فَلِلَّهِ ٱلۡحَمۡدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَرَبِّ ٱلۡأَرۡضِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٦ وَلَهُ ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ

عبادت كى بنیاد دو ركنوں پرہے: ایك الله سے محبت اور دوسرا اللہ کے سامنے اظہار تذلل۔ اور یہ دونوں چیزیں الله تعالىٰ كى حمد ، اور اس ذات كى عظمت وجلال كى معرفت وعلم سے پیدا ہوتی ہیں۔ (السعدى: 779)
سوال: عبادت کے ارکان کیا کیا ہیں، اور کس چیز سے پیدا ہوتے ہیں؟

سورۃ الجاثيہ آیات 0 - 37

وَلَهُ ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٣٧

ابو ہریره( رضی اللہ عنہ)سےروایت ہے كہ رسول اللهﷺ نے فرمایا: الله تعالىٰ فرماتا ہے : بڑائى وكبریائى میرى چادر ہے، اور عظمت وجلال میرا پہناوا ہے، لہٰذا جو بھى مجھ سے اسے اپنے لئےکھینچے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ (الشوكانى : 5؍12)
سوال: حدیث سے الله تعالىٰ كى صفت : كبریائى وبڑائى كى وضاحت كیجئے.

سورۃ الأحقاف آیات 2 - 3

تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ٢ مَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ

جب الله تعالىٰ نے نزولِ قرآن كا ذكر فرمایا جو امر ونہى پر مشتمل ہے، تو آسمان وزمین كى تخلیق كا بھى تذكره فرمایا، یوں خلق وامر كو الله تعالىٰ نے جمع كردیا: ﴿أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُ﴾[الاعراف: 54] “الله ہى كیلئے خاص ہے خالق ہونا اورحاكم ہونا”۔ (السعدى: 779)
سوال: نزول قرآن كے ذكر كے بعد تخلیق آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں كا تذكره الله نے كیوں فرمایا؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 5

وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّن يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسۡتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَهُمۡ عَن دُعَآئِهِمۡ غَٰفِلُونَ ٥

آیت كا معنى یہ ہے كہ جو شخص ایسے معبود كو پكارتا ہےجو اس كى پكار كو نہیں سنتا ، تو اس سے بڑا گمراه كوئى نہیں ہے، اور وه بت ہیں جو نہ سنتےہیں اور نہ ہى عقل ركھتےہیں ، لہذا وه غافل ہیں ، دعاؤں كو قبول نہیں كرسكتے اس لئے كہ وه سنتےہى نہیں ہیں ۔(ابن جزى: 2؍331)
سوال: جو معبود سنتا نہیں ہے ، اسے پكارنا جہالت وگمراہى ہى ہے، آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كیجئے.

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 5

وَهُمۡ عَن دُعَآئِهِمۡ غَٰفِلُونَ ٥

بتوں كو غافل كہہ كر انہیں ایسے انسانوں سے تشبیہ دى گئى ہے جو كہى ہوئى باتوں كو بھول جاتےہیں اس لئے كہ بت بھى كہى ہوئى باتوں كو سمجھنے سے قاصر ہے اور غافل انسان بھى، اور یہ الله كى طرف سے مشركوں كیلئے ایك پھٹكار ہے جو عبادت كیلئے فاسد رائے واختیار قبیح كى بنا پر ایسے معبود كو پكارتےہیں جو باتوں كو سمجھ نہیں سكتے۔ (الطبرى: 22؍95)
سوال: مشركوں كے معبود كو غفلت سے متصف كیوں كیا گیا ہے؟ اور اس كا مفہوم كیا ہے؟