قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣


٤ ٤
ﭿ
٥ ٥

٦ ٦





٧ ٧

٨ ٨

ﯿ ٩ ٩
50
سورۃ آل عمران آیات 0 - 3

نَزَّلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ ٣

اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل کے بارے میں (وَأَنزَلَ) کی تعبیر ذکر کی ہے،فرمایا: (وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ) اس لئے کہ توراۃ اور انجیل دونوں ایک ہی دفعہ میں پوری نازل کی گئی تھیں۔لیکن اللہ نے قرآن کے بارے میں(نَزَّلَ) کہا اس لئے کہ قرآن قسطوں میں یعنی تھوڑا تھوڑا اتارا گیا کیونکہ لفظ(تَنْزِیْلٌ) کثرت کا معنی دیتا ہے یعنی بار بار نازل کیا گیا۔ (البغوی:۱؍۳۲۰)
سوال:اللہ نے تورات وانجیل کے بارے میں ‘‘اَنْزَلَ’’ اور قرآن کے بارے میں ‘‘نَزَّلَ’’ کیوں کہا؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 3

مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ

قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔لہذا یہ قرآن ان کتابوں کا تزکیہ کرتا ہے یعنی ان کے لئے کھرے کھوٹے کا معیار ہے۔چنانچہ قرآن جس بات کی تائید کردے تو وہ قابلِ قبول (صحیح) ہوگی اور جس بات کی تردید کردے وہ ناقابلِ قبول ہوگی ۔ ہاں، قرآن سابقہ کتابوں کے ان تمام مطالب کے بالکل موافق ہے جن پر سارے رسولوں کا اتفاق ہے۔پچھلی کتابوں کی یہ باتیں قرآن کی سچائی پر گواہی دیتی ہیں لہٰذا اہل کتاب کو اپنی کتابوں کو سچا ماننے کے لئے قرآن پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں ۔ کیونکہ ان کا قرآن کا انکار کرنا خودان کا اپنی کتابوں پر ایمان کو توڑ دینا ہے۔ (السعدی: ۱۲۱)
سوال:اس آیت نے بتایا کہ قرآن اپنے علاوہ دیگر آسمانی کتابوں پر فیصل ہے۔کیسے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 3

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۡهُ ءَايَٰتٞ مُّحۡكَمَٰتٌ هُنَّ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ وَأُخَرُ مُتَشَٰبِهَٰتٞۖ

اللہ تعالیٰ نے متشابهآیتیں بھی نازل فرمائی ہیں تاکہ علماء کی فضیلت نمایاں ہواور ان آیتوں پر غور وفکر کرنے میں جدوجہد کا شوق بڑھتا رہے ۔نیز ان علوم کو حاصل کیا جائے جن پر مطلوبہ حقیقی احکام نکالنے کا دارومدار ہے۔چنانچہ اس کام میں وہ اپنی طبیعتوں کو تھکاکراچھے مقاصداور عمدہ معانی نکالتے ہیں اور اس کی بدولت بلند درجات پاتے ہیں۔ (الألوسی:۳؍۸۳)
سوال:قرآن کریم میں متشابه آیات نازل کرنے کی کیا حکمت ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 7

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ

(زَيۡغٌ)کجی ،ٹیڑھا پن۔یعنی جن کے دلوں میں گمراہی ہے اورحق سے نکل کر باطل کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ ( فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ) وہ قرآن میں جو متشابهہے، اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ یعنی وہ قرآن کی ایسی متشابهباتوں کو پکڑ لیتے ہیں جن میں انہیں تحریف اورہیر پھیر کرکے اپنے برے مقاصد حاصل کرنا، ممکن اور آسان لگتا ہے اور متشابهکے الفاظ میں گنجائش پاکر اسے اپنے برے مقاصد کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔رہیں ‘‘مُحْكَمْ ’’ (واضح)آیات تو اِن میں اُن کا بس نہیں چلتا کیونکہ یہ خود ان کی تردید کرتی ہیں اور ان کے خلاف حجت ودلیل ہوتی ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ) فتنہ کی تلاش اور خواہش میں۔یعنی:اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کو گمراہ کرتے ہیں ،انہیں اس وہم وگمان میں ڈال کر کہ وہ اپنی بدعات وخرافات پر قرآن سے دلیل پکڑتے ہیں ۔حالانکہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوتا ہے۔ ان کے حق میں نہیں۔ (ابن کثیر:۱؍۳۳۶)
سوال:بدعتی لوگ آیات متشابه کے تعلق سے کیا موقف اپناتے ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 7

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ متشابهآیات سے صرف وہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو ٹیڑھی طبیعت والے ہیں ،جن کے قدم دین میں پختہ اور جمے ہوئے نہیں ہیں اور نہ علم میں ان کی سمجھ بوجھ پختہ ہے ۔ (البقاعی:۲؍۲۲)
سوال: متشابه کے بارے میں کون لوگ گمراہ ہوتے ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 7

وَٱلرَّٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ يَقُولُونَ ءَامَنَّا بِهِۦ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ رَبِّنَاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٧

یہ پختہ علم والوں کے ذہن کی تیزی اورعمدگی نیز فکر ونظر کی خوبی پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے ۔کیونکہ ان کی عقلوں پر ایسے پردے نہیں پڑے ہیں جو انہیں منحرف اور ٹیڑھے خیالات کی طرف جھکادیں اور انہیں آلودہ اور گندا کردیں اور وہ حق کے نشانات سے ہدایت لینے کے لئے اور سچائی کی سیڑھیوں یعنی بلندیوں پر چڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ (الألوسی:۳؍۸۳)
سوال:اللہ تعالیٰ کے فرمان: (وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ) سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 7

رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا بَعۡدَ إِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةًۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٨

اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت وہ ہے جو تمام انسانوں کو عام ہے خواہ نیک ہوں یا بد،خوش نصیب ہوں یا بدنصیب ۔پھر اس کی ایک رحمت وہ ہے جو صرف مومنوں کے لئے خاص ہے اور وہ ایمان کی رحمت ہے ۔پھراس کی ایک رحمت ہے جو متقیوں کے لئے خاص ہے اور یہ ہے اللہ کی اطاعت کی رحمت اور اللہ کی ایک رحمت وہ بھی ہے جوصرف اولیاء مقرّبین کے لئے خاص ہے ۔اسی رحمت کے ذریعہ انہوں نے ولایت یعنی اللہ کی دوستی کا اعلیٰ درجہ حاصل کیا ہے اور اللہ کی ایک انتہائی خاص رحمت وہ ہے جو اللہ نے صرف انبیاء علیھم السلام کو خاص طور پر عطافرمائی جس کی بدولت وہ نبوت سے سرفراز ہوئے ۔اور علم میں پختہ لوگ کہتے ہیں: (وَهَبۡ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةً) الٰہی! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر۔(ابن تیمیہ:۲؍۳۴)
سوال:مخلوق کے ساتھ اللہ کی رحمت کی چند قسمیں ذکر کیجئے؟