قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٢٥ ٢٥ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ٢٦ ٢٦ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٢٧ ٢٧ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٢٨ ٢٨ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٢٩ ٢٩
وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اس آیت ميں مومنوں کو خوشخبری دینے كا بيان ہے،مزيد يہ كہ ان ميں سرگرمي پيدا كرنے كے ليے اعمال کی جزاء اور ان پر ابھارنے والی چیزوں کو بیان كيا جائے،تاکہ انهيں عمل کرنا ہلکا اور آسان ہوجاتاہے۔(السعدی:۴۷)
سوال:مومنوں کی زندگی میں خوشخبری کی کیا اہمیت ہے؟
وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ
معاذ( رضی اللہ عنہ )نے فرمایا:عمل صالح وہ ہے جس میں چار چیزیں موجود ہوں:علم،نیت،صبر اور اخلاص۔(البغوی:۱؍۲۷)
سوال:عمل صالح کیسے بنتا ہے؟
وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ
جنت کی ایک بہت بڑی خوبی باغات کے درمیان پانی کی نہروں کا بہناہے، اوراس پر سبھي كا اتفاق هےکہ یہ انتہائی بہترین اور عمدہ منظر ہوتا ہے۔(ابن عاشور:۱؍۳۵۴)
سوال:آیت کریمہ نے جنتوں کے نیچے نہروں کے بہنے کا ذکر کیوں کیا؟
وَلَهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ
یہ نہیں کہا کہ :فلاں عیب سے پاک ہوں گی۔(بلکہ مطلقا یہ کہا؛ ان کے لئے پاک و صاف بیویاں ہوں گی) ، تاکہ یہ تطہیر طہارت و پاکیزگی کی تمام قسموں پر مشتمل ہو۔چنانچہ وہ بیویاں اخلاق، خلقت، زبان اور نگاہ ہر اعتبار سے پاک و صاف ہوں گی۔ (السعدی:۴۶)
سوال:اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حور عین کے لئے طہارت وپاکیزگی کا وصف بغیر کسی قید کے مطلقاً کیوں بیان فرمایا ہے؟
وَهُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
جنت میں ہمیشہ كي زندگي یہی مکمل اور حقیقی سعادت ہے، کیونکہ وہ عظیم نعمتوں کے ساتھ ساتھ موت اور زوالِ نعمت سے محفوظ جگہ (یعنی جنت) میں ہوں گے۔چنانچہ وه كبھی نہ ختم ہونے والی ہے جنتاور اس كي نعمتوں میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ۔(ابن کثیر:۱؍۶۱)
سوال:اہل جنت کی نعمتوں کا بیان ،اس بات پر کیوں ختم کیا گیا کہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے؟
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَيَقُولُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۘ يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرٗا وَيَهۡدِي بِهِۦ كَثِيرٗاۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلۡفَٰسِقِينَ ٢٦
اس ميں اس شخص کی مذمت کی گئی ہے جو قرآن سے غلط معنی ومفهوم نکال کرگمراہی میں پڑگيا،اور وہایسا كرنے سے فاسق هو گيا، اگرچه وه اس سے پهلے فاسق نه تھا، اسی لئے سعد بن ابی وقّاص رضی اللہ عنہ نے اس آيت كي رو سے خوارج کو فاسق قرار دیا هے۔كيونكه وہ لوگ قرآن (سے غلط استدلال )سے هي گمراہ ہوئے تھے۔چنانچه جو قرآن سے غلط استدلال کرکے گمراہ ہوجائے وہ فاسق ہے۔(ابن تیمیہ:۱؍۷۸)
سوال:جو شخص قرآن کے مطالب کو سلف امت کی فہم سے تبدیل کردے وہ فاسق ہے۔آیت کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کیجئے؟
يُضِلُّ بِهِۦ كَثِيرٗا وَيَهۡدِي بِهِۦ كَثِيرٗاۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِۦٓ إِلَّا ٱلۡفَٰسِقِينَ ٢٦
یعنی ان کے صحيح عقیدہ کی برکت اور تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنےکی وجہ سے رب نے انہیں ایمان کے ساتھ ہدایت کے راستہ پر لگادیا ہے۔پھر انہیں قرآن کی سمجھ عطاکردی ہے ۔اس میں موجود علوم ومعارف کے لئے ان کے سینے کھول دیے هيں ۔اسی طرح قرآن کے ذریعہ ان کے ایمان،اطمینان اور یقین میں اضافہ کرتا ہے، اور حقیقت يہ ہے كہ اگرچہ ہدایت پانے والے بہت ہیں لیکن گمراہ لوگوں کی بہ نسبت کم ہیں۔(البقاعی:۱؍۷۷)
سوال:قرآن سمجھنے کے لئے اللہ کی ہدایت وتوفیق کازیادہ مستحق کون ہے؟