قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٤٠ ٤٠
٤١ ٤١

٤٢ ٤٢
٤٣ ٤٣
٤٤ ٤٤
٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦
٤٧ ٤٧
٤٨ ٤٨

٤٩ ٤٩

٥٠ ٥٠
٥١ ٥١
٥٢ ٥٢
٥٣ ٥٣
٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥

٥٦ ٥٦

٥٧ ٥٧

٥٨ ٥٨
٥٩ ٥٩
Surah Header

498
سورۃ الدخان آیات 0 - 42

إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ٤٢

یعنی: اللہ تعالىٰ اس قدر (العزيز) اور غالب وقوی ہے کہ اسے کوئی اس کے ارادے اور مقصد سے موڑ نہیں سکتا، چنانچہ وہ جس پر چاہتا ہے محض اپنی مشیئت و مرضی سے رحم کرتا ہے۔ اور وہ (الرحيم) ہے، یعنی: کشادہ رحمت والا ہے، اپنے علم وحکمت اور وعدے کے مطابق جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے: “زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کریگا”۔(ابن عاشور: 25؍31)
سوال: اس آیت کریمہ کو (العزيز) اور (الرحيم)کے دونوں ناموں سے ختم کرنے میں کیا حکمت ہے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 49

ذُقۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡكَرِيمُ ٤٩

یہ بات کافر کو ڈانٹتے اور پھٹکارتے ہوئے کہی جائیگی ، یعنی: تم اپنے آپ کو دنیا میں بہت عزیز اور کریم سمجھتے تھے، اور بڑے عزت دار بنے پھرتے تھے۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی مجھ سے زیادہ عزیز اور کریم نہیں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن جزی: 2؍324)
سوال: قیامت کے دن جب کافر عذاب میں مبتلا ہوگا تو ایسی حالت میں اسے عزیز و کریم کیسے کہا جائیگا؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 51

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٖ ٥١

کسی جگہ کی خوبصورتی کے لئے سب سے ضروری چیز امن وامان ہے، اس لئے کہ کہیں بھی رہنے والا شخص سب سے پہلے ناپسندیدہ اور خوفناک چیزوں سے امن وامان چاہتا ہے، لہٰذا جب وہ اپنے ٹھکانے میں مطمئن ہوگا، تبھی ملنے والی نعمتوں کو صحیح سے محسوس کریگا، اور اس سے لذت اٹھائے گا۔ (ابن عاشور: 25؍317)
سوال:اس آیت کریمہ کی روشنی میں امن وامان کی عظیم نعمت کو واضح کیجئے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 53

يَلۡبَسُونَ مِن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَقَٰبِلِينَ ٥٣

کوئی بھی جنتی اس طرح نہیں بیٹھے گا کہ اس کی پیٹھ کسی کی طرف ہو، بلکہ سب رو برو ہوں گے۔ (ابن کثیر: 4؍148)
سوال: جنت میں ادنى قسم کی بھی توہین اور بے عزتی کا سامان نہیں ہوگا۔ اس آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 55

يَدۡعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَٰكِهَةٍ ءَامِنِينَ ٥٥

اللہ تعالىٰ فرماتا ہے: جنت کے پھل ان پھلوں کی طرح نہیں ہوں گے جو ہم دنیا میں کھاتے ہیں، اور کھاتے ہوئے بسا اوقات اس کے برے نتیجے، اور اس سے پہنچنے والی کسی تکلیف سے ڈرتےبھی ہیں، ساتھى ہی ساتھ ان کے ختم ہونے اور بعض اوقات نہ ملنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔ (الطبری: 22؍53)
سوال: یہاں پھل کو امن کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا ہے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 58

فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٥٨

یعنی: اس قرآن کو ہم نے آسان کردیا ہے، سہل اور واضح ترین بنا کر آپ کی اس زبان میں نازل فرمایا ہے جو سب سے فصیح واضح شیریں اور بلند پایہ ہے۔ (ابن کثیر: 4؍149)
سوال: اس آیت کی روشنی میں عربی زبان کی دیگر تمام زبانوں پر فضیلت کے تئیں گفتگو کیجئے؟

سورۃ الدخان آیات 0 - 59

فَٱرۡتَقِبۡ إِنَّهُم مُّرۡتَقِبُونَ ٥٩

یعنی: آپ ہمارى طرف سے آپ کو پہنچنے والى مدد، اور ان کی ہلاکت کا انتظار کیجئے، کیونکہ وہ اس کے برعکس انجام ونتیجے کا انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس میں آپ ﷺ کے لئے وعدہ اور ان کے لئے وعید اور دھمکی ہے۔ (ابن جزی: 2؍325)
سوال: اس آیت نے کس طرح وعد اور وعید کو جمع کیا ہے اس کی شرح کیجئے؟