قرآن
ﯙ
ﱑ
ﯙ
ﭜ ﭝ ﭞ ٣ ٣ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٤ ٤ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٥ ٥ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ٦ ٦ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ٧ ٧ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ٨ ٨ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ٩ ٩
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ١٠ ١٠ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ١١ ١١ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
١٢ ١٢ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ١٣ ١٣ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ١٤ ١٤ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ١٥ ١٥ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
١٦ ١٦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
١٧ ١٧ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٨ ١٨
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ٣
(فِي لَيلَةٍ مُبَارَكَةٍ) یعنی: بہت زیادہ خیر وبرکت والی رات۔ یہ ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، چنانچہ سب سے بہتر کلام -قرآن- کو سب سے بہتر رات ودن میں، سب سے بہتر مخلوق -یعنی: محمد ﷺ- پر، عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ (السعدی: 773)
سوال:مبارک رات سے کیا مراد ہے؟ اور اسے برکت والی کیوں کہا گیا؟
فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ ٤
(يفرق) کا مطلب ہے: طے کیا جاتا ہے اور فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اور (أمر حكيم) کا مطلب: بندوں کے ارزاق ، ان کی عمریں، اور ان کے اس سال کے تمام معاملات ہیں، اسی مبارک رات یہ لوح محفوظ سے لئے جاتے ہیں تاکہ آنے والے پورے سال فرشتے اس کو بجا لاتے رہیں۔ (ابن جزی: 2؍321)
سوال:وہ (أمر حكيم) کیا ہے جس کا شب قدر میں فیصلہ کیا جاتا ہے؟
بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ يَلۡعَبُونَ ٩
ان کا اقرار علم اور پختہ یقین کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ نہ کی طرح ہے، کیونکہ انہوں نے اس یقین کو شک اور لا پرواہی وکھلواڑ کے ساتھ ملادیا ہے، چنانچہ ان کے اقرار میں یقین کی خاصیت باقی نہیں رہی، اور نہ ہی وہ یقین باقی رہا جو علم کے تقاضوں سےہم آہنگ ہوتا ہے۔ اور ہوتا یہ ہے کہ اگر علم انسان کو عمل پر آمادہ نہ کرسکے، اور صاحب علم گاہے بگاہے اس علم پر نظر نہ ڈالتا رہے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ غفلت ونسیان کا شکار ہو جاتا ہے، اور پھر اس کا یقین شک میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍285-284)
سوال: اس آیت کی روشنی میں علم کے مطابق عمل نہ کرنے کی سنگینی واضح کیجئے؟
فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ ١٠
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرلو: دجال، دھواں، زمیں سے نکلنے والا چوپایہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،وہ فتنہ جو عوام میں پھیل جائے، اورتمہارى موت کا آجانا۔ (البقاعی: 7؍68)
سوال: کسی کام کو ٹالتے رہنے اور نیک عمل کو مؤخر کرنے میں کیا قباحتیں ہیں؟
رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ ١٢
(إنا مؤمنون) کا جملہ ان سے عذاب ٹالنے کی گزارش کی علت ہے، یعنی: ہمارے ساتھ وہ عمل ہے جو ہم سے کافروں کو ملنے والا عذاب ہٹا سکتا ہے۔ اور یہاں ان کو اس بات کی تلقین کرنے سے ایمان کے شرف وعظمت کا پتہ چلتا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍290)
سوال: اس آیت کریمہ سے ایمان کے شرف وعظمت کا پتہ کیسے چلتا ہے؟
۞وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَجَآءَهُمۡ رَسُولٞ كَرِيمٌ ١٧
قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالىٰ کے فرمان: (رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ) کے بارے میں کہا کہ اس سے مراد موسىٰ علیہ السلام ہیں۔ اور انہیں اللہ تعالىٰ نے کریم اس لئے کہا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالىٰ کے یہاں معزز ومکرم اور بلند مرتبہ والے تھے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ انہیں کریم اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ اپنی قوم میں شریف، عزت دار اور صاحب حیثیت تھے۔ (الطبری: 22؍24)
سوال:اللہ کے نبی موسىٰ علیہ السلام کو کریم کی صفت سے کیوں متصف کیا گیا؟
إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ ١٨
یعنی: اللہ رب العالمین کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جس چیز کو دے کر بھیجا ہے اس کے تئیں امانت دار ہوں، تم لوگوں سے اس میں سے کوئی چیز نہیں چھپاتا ہوں، اور نہ ہی اس میں اپنی طرف سے کچھ بڑھاتا گھٹاتا ہوں۔ اور یہ ایسی چیز ہے جو آپ ﷺ کی اطاعت واتباع کو واجب کرتى ہے۔ (السعدی: 773)
سوال: اس آیت میں بدعت اور اسے ایجاد کرنےکی مذمت ہے۔ اسے واضح کیجئے؟