قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٥٢ ٥٢

٥٣ ٥٣
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣

٤ ٤

٥ ٥

٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨

٩ ٩

١٠ ١٠
489
سورۃ الشورى آیات 0 - 52

وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ رُوحٗا مِّنۡ أَمۡرِنَاۚ

یہاں روح سے مراد قرآن ہے۔ اور قرآن کو روح اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ جہالت کی موت سے نکل کر علم کی زندگی میں داخل ہوجاتا ہے۔ مالک بن دینار کہا کرتے تھے: اے اہل قرآن! قرآن نے تمہاے دلوں میں کیا بویا ہے؟ بیشک قرآن دلوں کے لئے بہار ہے، جس طرح بارش زمین کے لئے بہار ہے۔ (القرطبی 18؍509)
سوال:قرآن کو روح کا نام دینے میں کسى چیز پر ابھارنا مقصود ہے، اسی طرح اس میں ایک بلیغ دلالت پنہاں ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 52

مَا كُنتَ تَدۡرِي مَا ٱلۡكِتَٰبُ وَلَا ٱلۡإِيمَٰنُ

یہاں اللہ تعالىٰ نے وحی سے قبل اپنے رسول ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا ہے: (ما كنت تدري ما الكتاب) یعنی: وہ کیا چیز ہے؟اس لئے کہ آپ ﷺ امی تھے، نہ پڑھنا جانتے تھے، اور نہ ہی لکھنا۔ اور یہ چیز اعجازِ قرآن -معجزہ- کے لئے زیادہ قوى اور مناسب ہے، اور آپ ﷺ کى نبوت کے صحیح ہونے پر زیادہ قوت سے دلالت کرنے والى ہے۔ (الشوکانی: 4؍545)
سوال:یہ آیت آپ ﷺ کى نبوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 52

وَلَٰكِن جَعَلۡنَٰهُ نُورٗا نَّهۡدِي بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَاۚ وَإِنَّكَ لَتَهۡدِيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٥٢

یہاں قرآن کو نور- روشنی- سے تشبیہ دیا گیا ہے، کیونکہ ہدایت و رہنمائی میں دونوں مشترک ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایمان، ہدایت ورہنمائی، اور علم تینوں کو نور سے تشبیہ دی جاتی ہے، جبکہ ضلات وگمراہی، جہالت، اور کفر کو ظلمت وتاریکی سے تشبیہ دی جاتی ہے، اللہ تعالىٰ کا ارشاد ہے: ﴿يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ﴾ [البقرة: ٢٥٧]۔
چنانچہ جب حالت یہ ہے کہ تاریکی میں چلنے والا راستے سے بھٹک جاتا ہے، اور جب اسے روشنی ملتی ہے تو پھر راستہ پاتا ہے، تو گویا روشنی ہى ہدایت ورہنمائی کا وسیلہ ہے، ہاں البتہ روشنی سے رہنمائی وہی پاتا ہے جس کے اور روشنی کے درمیان کو ئی چیز حائل نہ ہو، ورنہ ہدایت کا کوئی وسیلہ اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا،اسی لئے اللہ تعالىٰ نے کہا: (نهدي به من نشاء من عبادنا) (ابن عاشور 25؍154)
سوال: قرآن کو روشنی سے کیوں تشبیہ دیا گیا؟ اور قرآن کریم کی روشنی سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

سورۃ الزخرف آیات 0 - 4

وَإِنَّهُۥ فِيٓ أُمِّ ٱلۡكِتَٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ ٤

فرشتوں کی بزرگ وبرتر اور اعلى وبلند ترین مقام والى جماعت میں قرآن کریم کی قدر ومنزلت اور اس کے شرف کی یہاں وضاحت کردی، تاکہ زمین میں بسنے والے لوگ بھی اس کی قدر ومنزلت کو پہچانیں، اور عظیم سمجھیں، اور اس کی فرمانبرداری کریں۔ (ابن کثیر 4؍124)
سوال:اللہ تعالىٰ نے فرشتوں کی اعلى ترین جماعت کے یہاں اس کتاب کی قدر ومنزلت اور اس کے مقام ومرتبہ کو کیوں واضح کیا؟

سورۃ الزخرف آیات 0 - 5

أَفَنَضۡرِبُ عَنكُمُ ٱلذِّكۡرَ صَفۡحًا أَن كُنتُمۡ قَوۡمٗا مُّسۡرِفِينَ ٥

قتادہ نے فرمایا: اللہ کی قسم جس وقت اس امت کے ابتدائی لوگوں -کفار مکہ- نے اس کتاب کو ٹھکرا دیا تھا اگر یہ کتاب اٹھا لی جاتی، تو روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ہلاک وبرباد ہو جاتے، مگر اللہ تعالىٰ نے اپنے فضل وکرم سے اسے ان پر بار بار تکرار کے ساتھ دہرایا ۔ (القرطبی 19؍7)
سوال: جب نزولِ قرآن کے ابتدائی ایام میں لوگوں نے اس قرآن کو ٹھکرا دیا تھا اگر اسی وقت اسے اٹھا لیا جاتا تو ہماری کیا حالت ہوتی؟

سورۃ الزخرف آیات 0 - 5

أَفَنَضۡرِبُ عَنكُمُ ٱلذِّكۡرَ صَفۡحًا أَن كُنتُمۡ قَوۡمٗا مُّسۡرِفِينَ ٥

اگر چہ تمہاری حالت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمہیں تمہاری حالت پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ تم ضلالت وگمراہی کی حالت میں مر جاؤ، اور پھر ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہو، مگر ہم اپنی کشادہ رحمت کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتے، بلکہ ہم امانت دار رسول بھیج کر اور واضح کتاب نازل فرما کر حق کی طرف تمہاری رہنمائی کریں گے۔ (الألوسی: 25؍90)
سوال:یہ آیت اللہ تعالىٰ کی کشادہ رحمت اور اس کے فضل وکرم پر کس طرح دلالت کرتی ہے؟

سورۃ الزخرف آیات 0 - 7

وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٧

اللہ تعالىٰ یہاں اپنے پیارے نبی محمد ﷺ کی تعزیت کر رہا ہے، اور آپ ﷺ کو تسلی دے رہا ہے۔ (القرطبی: 19؍9)
سوال: گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ ان کی قوموں کے خراب سلوک اور ان کے استہزاء کو ذکر کرنے کا کیا مقصد ہے؟