قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯗ

ﱑ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ٢٣ ٢٣
ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٢٤ ٢٤

ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ٢٥ ٢٥
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ٢٦ ٢٦
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٢٧ ٢٧
ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
٢٨ ٢٨
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٢٩ ٢٩
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٣٠ ٣٠
ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٣١ ٣١
486
سورۃ الشورى آیات 0 - 23

ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِۗ

جب اللہ تعالىٰ نے اپنے مومن اور نیک وصالح بندوں کے لئے جنت کی کیاریوں کا تذکرہ کیا تو فرمایا: (ذلك الذي يبشر الله عباده الذين آمنوا وعملوا الصالحات)، یعنی: یہ چیز ان کو ہر حال میں ملے گی، کیونکہ اللہ تعالىٰ نے ان کو اس کی خوش خبری دے رکھی ہے۔ (ابن کثیر: 4؍114)
سوال: اس آیت میں مومنوں کے لئے بشارت کی وجہ کیا ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 25

وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٢٥

چونکہ توبہ ان عظیم اعمال میں سے ہے جو کبھی پورے اخلاص وسچائی کیوجہ سے مکمل ہوتے ہیں، اور کبھی اخلاص وصدق میں نقص وکمی کی وجہ سے ناقص ہوتے ہیں، اور بسا اوقات اس وجہ سے فاسد ہوجاتے ہیں کہ ان کا مقصد اخلاص وصدق کے بجائے کوئی دنیاوی مقصد حاصل کرنا ہوتا ہے، اور اس کا اصل مقام ومرجع وہ دل ہے جسکی حقیقت اللہ تعالىٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اسی لئے اللہ تعالىٰ نے اس آیت کو اپنے فرمان: (ويعلم ما تفعلون) سے ختم کیا۔ (السعدی: 758)
سوال: اللہ تعالىٰ نے اس آیت کو اپنے فرمان: (ويعلم ما تفعلون) سےکیوں ختم کیا ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 25

وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٢٥

یہاں پر اللہ تعالىٰ نے (الناس) یا (التائبين) یا ان کی طرح کوئی لفظ ذکر کرنے کے بجائے (عِبَادِ) یعنی: بندوں کا لفظ ذکر کیا ہے، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالىٰ اپنے بندوں پر مہربان اور ان کے ساتھ مقام عبودیت کیوجہ سے نرم و شفیق ہے، کیونکہ ہر بنانے اور ایجاد کرنے والا اپنی بنائی ہوئی چیز کی اصلاح چاہتا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍90)
سوال: اس آیت کریمہ میں (الناس) یا (التائبين) کے بجائے (عِبَادِ) کی تعبیر کیوں استعمال کی گئی ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 27

۞وَلَوۡ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزۡقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٖ مَّا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرُۢ بَصِيرٞ ٢٧

اللہ تعالىٰ بعض بندوں کے حالات کے بارے میں یہ جانتا ہے کہ اگر ان کے رزق میں کشادگی کی تو یہ چیز ان کو بگاڑ دیگی، چنانچہ ان ہی کی مصلحت کی رعایت کرتے ہوئے ان پر دنیا کو کشادہ نہیں کرتا، اور رزق کو ان پر ذرا تنگ کردیتا ہے، اس لئے کبھی بھی یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ محض رزق کی تنگی ذلت وہوان، اور مجرد اس کی کشادگی کوئی فضیلت کی چیز ہے۔
بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالىٰ فرماتا ہے:“میر ے کچھ مومن بندے ایسے ہیں جو مجھ سے بعض اہم عبادتوں کی توفیق مانگتے ہیں، اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں انہیں یہ عطا کردوں تو یہ چیز انہیں تکبر کا شکار کرکے بگاڑ دیگی، اسی طرح میرے بعض بندے ایسے ہیں جن کے لئے مالدارى ہی بہتر ہے، اور اگر انہیں میں فقیر بنادوں تو یہ فقر انہیں بگاڑ دے گا، اسی طرح میرے بعض بندے ایسے ہیں جن کے لئے فقیری ہی بہتر ہے، اور اگر انہیں میں مالداری عطا کردوں تو یہ مالداری انہیں بگاڑ دے گی”۔ (القرطبی: 18؍475 )
سوال: کیا رزق میں کشادگی ہر حال میں انسان کے لئے بہتر ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 28

وَهُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ مِنۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُواْ وَيَنشُرُ رَحۡمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلۡوَلِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٢٨

یہاں دیگر دنیوی نعمتوں کو چھوڑ کرخصوصیت کے ساتھ بارش کی نعمت کو اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ اس کے عظیم نعمت ہونے میں لوگوں کا کوئی اختلاف نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پر زندگی کا دارو مدار ہے، چنانچہ لوگوں اور چوپایوں کے لئے غذا اور چارہ اسى سے پیدا ہوتا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍95)
سوال: اللہ تعالىٰ نے یہاں رزق کے عمومی ذکر کے بعد خصوصیت کے ساتھ بارش کا ذکر کیوں کیا ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 28

وَهُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ مِنۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُواْ وَيَنشُرُ رَحۡمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلۡوَلِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٢٨

یہاں دیگر صفات کے بجائے ( الولي) اور (الحميد) کی صفات کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے، کیونکہ یہاں مذکور مدد اور تعاون کے لئے یہی دونوں صفتیں مناسب ہیں، اس لئے کہ (الولي) اپنے ما تحتوں کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے، اور (الحميد) قابل تعریف چیز عطا کرتا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍96)
سوال: اس مقام پر اسماء حسنى میں سب سے زیادہ مناسب (الولي) اور(الحميد) کی صفت ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 30

وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مصیبتیں انسان کو اس کے نفس ومال میں پہنچتی ہیں ان کا سبب گناہ اور معاصی ہوتے ہیں۔(ابن جزی: 2؍303)
سوال: اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو یہ کہتا ہو کہ دنیا میں جو حوادث ہوتے ہیں ان کے اسباب طبیعی ہیں، اور وہ خود بخود بعض فطری وطبیعی اسباب کی بنا پر وقوع پذیر ہوتے ہیں، نیز گناہ اور معاصی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے؟