قرآن
ﯗ
ﱑ
ﯗ
ﭜ ﭝ ﭞ ٣ ٣ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ٤ ٤ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٥ ٥ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
٦ ٦ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ٧ ٧ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٨ ٨ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٩ ٩ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ١٠ ١٠
كَذَٰلِكَ يُوحِيٓ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٣
یہاں پر اللہ تعالىٰ نے (العزيز) اور (الحكيم) کی صفت کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے کیوں کہ اللہ تعالىٰ کے فرمان: “اللہ تعالىٰ جسے چاہتا ہے رسالت کے لئے اختیار کرتا ہے” کا جو مقصد ہے اس سے ان دونوں صفتوں کا گہرا اور خصوصی تعلق ہے۔ (ابن عاشور: 25؍27)
سوال: آیت کریمہ کو (العزيز)اور(الحكيم) کی صفت کےساتھ کیوں ختم کیا گیا ہے؟
تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِن فَوۡقِهِنَّۚ
اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کا یہ کہنا: (اتخذ الله ولدا) [البقرة: 116]کہ اللہ تعالىٰ نے اپنےلئے لڑکا اختیار کرلیا ہے، اس قدر سنگین ہے کہ اس کی سنگینی کیوجہ سےقریب ہے کہ ہر آسمان اپنے نیچے والے آسمان پر پھٹ کرگرپڑے۔ (القرطبی: 18؍444)
سوال: کس وجہ سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے؟
تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِن فَوۡقِهِنَّۚ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ
تسبیح کو حمد پر مقدم کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالىٰ کی ذات کو اس کے لئے نامناسب چیزوں سے پاک کرنا، اس کے لئے صفات کمال کو ثابت کرنے سے زیادہ اہم ہے،اس لئے کہ پاکی بیان کرنا یہ در اصل اس کے کمالات کو پالینے کی تمہید ہے۔ (ابن عاشور: 25؍33)
سوال: تسبیح کو حمد پر مقدم کرنے میں کیا فائدہ ہے؟
وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ
فرشتے اپنے رب سے زمین پر بسنے والے مومنین کے گناہوں کے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الطبری: 21؍502)
سوال: جومخلوق اللہ تعالىٰ سے سب سے زیادہ قریب ہوگی، وہی اللہ کی مخلوقات پر سب سے زیادہ رحم کھانے والی ہوگی۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟
وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۚ
اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امت کا اتفاق قطعی حجت ہے، اس لئے کہ اللہ تعالىٰ نے ہمیں انہیں معاملات کو اپنى طرف لوٹانے کے لئے کہا ہے جن میں ہمارا اختلاف ہوجائے، چنانچہ جن امور میں ہم متفق ہوں گے ان میں امت کا اتفاق کافی ہوگا، اس لئے کہ امت معصوم عن الخطا ہے، اور وہ گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتی، ہاں البتہ یہ ضروری ہے کہ اس امت کا اتفاق کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے مطابق ہو۔ (السعدی: 753)
سوال: یہ آیت اجماع کی حجیت-اجماع کے دلیل ہونے- پر کیسے دلالت کرتی ہے؟
عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ ١٠
اللہ تعالىٰ ان دونوں -توکل اور عبادت- اصل کا اپنى کتاب میں کثرت سے ذکر کرتا ہے، کیونکہ بیک وقت ان دونوں کے ذریعہ بندہ کمال تک پہنچتا ہے، اور ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے فوت ہونے سے کمال کا مرتبہ اس سے فوت ہوجاتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالىٰ ہے: ﴿إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ﴾[الفاتحہ: 5]، یعنی: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں، نیز ارشاد ربانی ہے: ﴿فَٱعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾ [هود: 123]،پس اسی کی عبادت کر، اور اسی پر بھروسہ رکھ’’۔ (السعدی: 754)
سوال:کیا وجہ ہے کہ قرآن میں توکل اور عبادت کو بکثرت ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے؟
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّي عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ ١٠
یہاں (تَوَكَّلْتُ) فعل ماضی اور (أنيب) فعل مضارع لایا گیا ہے، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کا اللہ تعالىٰ پر بھروسہ آپ کی قوم کی طرف سے بے رخی اور بے اعتنائی کے ظہور سے پہلے سے ہے، اور یہ اتفاق ہے کہ اس قوم نے ایک ایسے بندے کیساتھ بے اعتنائی برتی جو اپنے رب پر بھروسہ کرنے والا ہے۔ رہا (أنيب) کا فعل تو اس کےمضارع لانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ انابت کی صفت آپ کے اندر تجدد پذیر ہے، یعنی:یہ صفت آپ کے اندر مختلف اوقات میں حسب حاجت وضروت تسلسل کے ساتھ پیدا ہوتے رہتی ہے۔(ابن عاشور: 25؍43)
سوال:( تَوَكَّلْتُ) کے فعل کو ماضی اور (أنيب) کے فعل کو مضارع کے صیغے میں کیوں لایا گیا ہے؟