قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣

٤ ٤


٥ ٥
ﭿ
٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨


٩ ٩


١٠ ١٠

١١ ١١
477
سورۃ فصلت آیات 0 - 2

تَنزِيلٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٢

الله تعالىٰ كى سب سے بڑى رحمت اس کتاب یعنی قرآن مجید کااتارنا ہے كہ جس كےذریعے علم وہدایت ، نور وشفا ، رحمت اور بہت سارى خیر كى چیزیں حاصل ہوئیں جو بندوں پر اسكى طرف سے بہت بڑى نعمتیں ہیں۔ (السعدى: 744)
سوال: اس امت پر رحمت الہى كے عظیم مظاہر ذكر كریں.

سورۃ فصلت آیات 0 - 3

كِتَٰبٞ فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥ

یعنى اس كى سارى قسموں كو علاحده علاحده تفصیل سے بیان كردیا گیا ہے، اور اس سے یہ لازم آتاہے كہ قرآن میں ہر چیز کا مکمل بیان ہے، اور ہر شیئ کو واضح کیاگیا ہے اورتمام حقائق کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ (السعدى: 744)
سوال: فرمان بارى: (فُصِّلت آياته) سے ہم كیا فائده حاصل كرتےہیں؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 4

بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا فَأَعۡرَضَ أَكۡثَرُهُمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ ٤

یہاں اس سماع كى نفى ہے جو قابل اعتبار اور نفع بخش ہو۔ (ابن عطیہ: 5؍4)
سوال: یہاں كافروں كے كس سماع كى نفى كى گئى ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 5

وَقَالُواْ قُلُوبُنَا فِيٓ أَكِنَّةٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ وَفِيٓ ءَاذَانِنَا وَقۡرٞ وَمِنۢ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٞ فَٱعۡمَلۡ إِنَّنَا عَٰمِلُونَ ٥

یہاں حجاب سے مراد دین کا اختلاف ہے؛ كیونكہ انكا دین بتوں كى عبادت ہے اور محمد ﷺ کا دین الله وحده لاشریك كى عبادت كا نام ہے، یہى وه حجاب ہے جس كےبارےمیں ان كا گمان تھا كہ ان كے اور نبى ﷺكے درمیان حائل ہے۔ (الطبرى: 21؍429)
سوال: كافروں كا گمان تھا كہ جن رسولوں كو ان كى طرف بھیجا گیا اُن كے اور اِن كے درمیان ایك حجاب ہے ، اس سے كیا مراد ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 6

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَٱسۡتَقِيمُوٓاْ إِلَيۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡمُشۡرِكِينَ ٦

یعنى میں كوئى فرشتہ نہیں بلكہ آدم كى اولاد ہوں۔ حسن نے كہا: الله تعالىٰ نے آپ كو یہاں تواضع ا ور خاكسارى سكھلائى ہے۔ (القرطبى: 18؍392)
سوال: تواضح اور خاكسارى كى اہمیت پر آیت كا معنى كیسے دلالت كرتاہے ، وضاحت كریں.

سورۃ فصلت آیات 0 - 7

ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ٧

اگر آپ اعتراض كریں كہ مشركین كے دوسرے تمام اوصاف كو چھوڑ كر كفر آخرت كےساتھ منع زكاة كو ہى كیوں خصوصی طور پر ذکر كیا گیا؟ تو میں كہوں گا: چونكہ انسان كےنزدیك سب سے محبوب چیز اسكا مال ہے، اور یہ اسكى روح جیسا ہے، چنانچہ جب وه الله كى راه میں اسے خرچ كرتاہے تو یہ اسكے ثبات قدمى، استقامت، صدق نیت اور باطنى پاكیزگى کی بہت بڑى دلیل ہوتى ہے، غور كریں الله كے اس قول پر: ﴿وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ﴾ [البقرة: 265]یعنى وہ لوگ خود کو ثابت قدم رکھتے ہیں اور مال كو خرچ كركے ثبات قدمی پر دلیل پیش کرتےہیں۔(القرطبى: 18؍393)
سوال: كفر آخرت كےساتھ منع زكاة كاذكر كیوں كیاگیا؟

سورۃ فصلت آیات 9 - 10

۞قُلۡ أَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُونَ بِٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ فِي يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُونَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ ذَٰلِكَ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ مِن فَوۡقِهَا وَبَٰرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَآ أَقۡوَٰتَهَا فِيٓ أَرۡبَعَةِ أَيَّامٖ سَوَآءٗ لِّلسَّآئِلِينَ ١٠

باوجودیكہ الله تعالىٰ ان تمام مخلوقات كو ایك ہى لمحے میں پیدا كرسكتاہے پھر بھى انہیں ایك خاص مدت میں پیدا كیا ، اس كى حكمت یہ ہے كہ اپنے بندوں كو اس كےذریعےتمام معاملات و امور میں غور وفكر كرنے اور عجلت نہ كرنے كى عادت سكھائے۔ (ابن عطیہ: 5؍5)
سوال: باوجودیكہ الله تعالىٰ زمین وآسمان اور ان كےبیچ كى تمام مخلوقات كو ایك ہى لمحے میں پیدا كرسكتا تھا پھر بھى انہیں ایك خاص مدت میں پیدا كرنے كى كیا حكمت ہے؟